Urdu Heart Broken Poetry

Urdu Heart Broken Poetry Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Urdu Heart Broken Poetry, Usmi Mj, Sialkot.

کچھ  دن پہلے ایک  ID سے مجھے  میسج آیا.. سلام دعا کے بعد حال احوال ہوا. اس لڑکی نے کہا میں بہت بڑی پریشانی میں.. میری He...
22/02/2020

کچھ دن پہلے ایک ID سے مجھے میسج آیا..
سلام دعا کے بعد حال احوال ہوا.
اس لڑکی نے کہا میں بہت بڑی پریشانی میں.. میری Help کریں..
اس نے کہا آپ وردی والے ہو. اس لیے آپ سے بات کی شاید آپ مجھے سمجھ سکو..
میں نے کہا بتائیں کیا ہوا.
اس نے کہا میں نے ایک لڑکے سے Fb پہ دوستی کر لی.. اس نے مجھ سے بہت وعدہ کیے بہت قسمیں کھائیں..
اس نے کہا میں ایک امیر باپ کا بیٹا ہوں... ہماری کمپنیاں ہیں.. یہ ہے وہ ہے..
بحرحال میں اس کی باتوں میں آگئ اور سے سے پیار کرلیا..
پھر اعتبار کی حد یوں بڑھی. کے کال پر جنسی اور جسمانی فرمائشیں بھی پوری ہونے لگیں.. اور بہت کچھ جو میں بیان نہیں کر سکتا اس لڑکی نے مجھے بتایا.. اس کے بعد جب شادی کی بات کی وہ Blaickmail کرنے لگا..
اس نے کہا مجھے 30 ہزار روپے بھیجو. ورنہ.میں ساری pics جو کے بہت ہی حد تک.. شرمناک تھیں.. وہ Net.پہ ڈال دوں گا..
لڑکی نے کہا میں پیسے بھیج دیے..پھر بھی وہی حال..
یہ سب سُن کے میں اپنے آپ کو قابو میں نہ رکھ سکا.. اور میں نے اس لڑکا کا نمبر لیا..
اور اپنے.. طریقوں سے جو ایک وردی والا کر سکتا.. اس کو ایسا سبق دیا.. کے اس نے پیسہ بھی واپس کیے.. میرے سامنے اپنے Mobile سے سارا ڈیٹا Dlet کیا.. اور میں نے کال پہ اس لڑکی سے معافی منگوائ .

میں اپنے اس کام کو بہادری نہیں سمجھا ..کیوں کے عزت میرا مالک دیتا ہے..
مجھے اس لڑکی سے جو دعائیں ملیں وہ آج بھی مجھے سکون دیتی ہیں..

میں نے اسے کہا بہن ہر کوئ وردی والا یا.. عزت دار نہیں ہوتا جو پردہ رکھے..
میرا اس پوسٹ کا مقصد اپنی بہنوں کو یہ پیغام دینا ہے.. کہ خوبصورتی اور دولت کے نشہ کی آڑ میں بنتِ حوا کی عزت اور زندگی خراب کرنے والوں کو پہچانو ان حیوانوں کے منہ کالے کر کے اپنی زندگی سے نکالو..

ہم وردی والے چاہیں تو رکھ لیں تمہاری محبت کا بھرم 😴😴
بنتِ حوا👰👰
لیکن ہمارے جنازے اکثر جوانی میں اُٹھا کرتے ہیں😢

تحریر کیسی لگی ضرور بتائیے گا.
USMI MJ

ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﺟﺐ ﺟﺒﺮﺍﺋﯿﻞ ﻋﻠﯿﮧﺳﻼﻡ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺁﮮ ﺗﻮﻣﺤﻤﺪ ﺻﻠﯽﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧﺟﺒﺮﺍﯾﻞ ﮐﭽﮫ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﮨﮯ ﺁﭖ ﻧﮯﻓﺮﻣﺎﯾﺎﺟﺒﺮﺍﺋﯿ...
23/12/2019

ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﺟﺐ ﺟﺒﺮﺍﺋﯿﻞ ﻋﻠﯿﮧ
ﺳﻼﻡ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺁﮮ ﺗﻮ
ﻣﺤﻤﺪ ﺻﻠﯽ
ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ
ﺟﺒﺮﺍﯾﻞ ﮐﭽﮫ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﮨﮯ ﺁﭖ ﻧﮯ
ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ
ﺟﺒﺮﺍﺋﯿﻞ ﮐﯿﺎ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﺝ
ﻣﯿﮟ ﺁﭘﮑﻮ ﻏﻤﺰﺩﮦ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﺎ ﮨﻮ
ﮞ ﺟﺒﺮﺍﺋﯿﻞ ﻧﮯ
ﻋﺮﺽ ﮐﯽ ﺍﮮ ﻣﺤﺒﻮﺏ ﮐﻞ
ﺟﮩﺎﮞ ﺁﺝ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﭘﺎﮎ ﮐﮯ
ﺣﮑﻢ ﺳﮯ ﺟﮩﻨﻢ ﮐﺎ
ﻧﻈﺎﺭﮦ ﮐﺮﮐﮧ ﺁﯾﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﺳﮑﻮ
ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﺳﮯ ﻣﺠﮫ ﭘﮧ ﻏﻢ ﮐﮯ
ﺁﺛﺎﺭ ﻧﻤﻮﺩﺍﺭ ﮨﻮﮮ
ﮨﯿﮟ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ
ﺟﺒﺮﺍﺋﯿﻞ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮭﯽ ﺟﮩﻨﻢ
ﮐﮯ ﺣﺎﻻﺕ ﺑﺘﺎﻭ
ﺟﺒﺮﺍﺋﯿﻞ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯽ ﺟﮩﻨﻢ
ﮐﮯ ﮐﻞ ﺳﺎﺕ ﺩﺭﺟﮯ ﮨﯿﮟ
ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﺳﺐ ﺳﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﻭﺍﻻ
ﺩﺭﺟﮧ ﮨﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ
ﻣﻨﺎﻓﻘﻮﮞ ﮐﻮ
ﺭﮐﮭﮯ ﮔﺎ
ﺍﺱ ﺳﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﻭﺍﻟﮯ ﭼﮭﭩﮯ
ﺩﺭﺟﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻣﺸﺮﮎ
ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﮈﻟﯿﮟ
ﮔﮯ
ﺍﺱ ﺳﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﭘﺎﻧﭽﻮﯾﮟ ﺩﺭﺟﮯ
ﻣﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﺳﻮﺭﺝ ﺍﻭﺭ ﭼﺎﻧﺪ ﮐﯽ
ﭘﺮﺳﺘﺶ ﮐﺮﻧﮯ
ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﮈﺍﻟﯿﮟ ﮔﮯ
ﭼﻮﺗﮭﮯ ﺩﺭﺟﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﭘﺎﮎ
ﺁﺗﺶ ﭘﺮﺳﺖ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﮈﺍﻟﯿﮟ
ﮔﮯ
ﺗﯿﺴﺮﮮ ﺩﺭﺟﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﭘﺎﮎ
ﯾﮩﻮﺩ ﮐﻮ ﮈﺍﻟﯿﮟ ﮔﮯ
ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺩﺭﺟﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ
ﻋﺴﺎﺋﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﮈﺍﻟﯿﮟ ﮔﺊ
ﯾﮧ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﺟﺒﺮﺍﺋﯿﻞ ﻋﻠﯿﮧ ﺳﻼﻡ
ﺧﺎﻣﻮﺵ ﮨﻮﮔﺌﮯ ﺗﻮ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﻧﮯ
ﭘﻮﭼﮭﺎ
ﺟﺒﺮﺍﺋﯿﻞ ﺁﭖ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﮐﯿﻮﮞ
ﮨﻮﮔﺌﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﺘﺎﻭ ﮐﮧ ﭘﮩﻠﮯ
ﺩﺭﺟﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﻥ
ﮨﻮﮔﺎ
ﺟﺒﺮﺍﺋﯿﻞ ﻋﻠﯿﮧ ﺳﻼﻡ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ
ﮐﯿﺎ
ﯾﺎ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﭘﮩﻠﮯ ﺩﺭﺟﮯ
ﻣﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﭘﺎﮎ ﺁﭘﮑﮯ ﺍﻣﺖ ﮐﮯ
ﮔﻨﮩﮕﺎﺭﻭﮞ ﮐﻮ
ﮈﺍﻟﮯ ﮔﮯ
ﺟﺐ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺳﻨﺎ ﮐﮧ
ﻣﯿﺮﯼ ﺍﻣﺖ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺟﮩﻨﻢ ﻣﯿﮟ
ﮈﺍﻻ ﺟﺎﮮ
ﮔﺎ ﺗﻮ ﺁﭖ ﺑﮯ ﺣﺪ ﻏﻤﮕﯿﻦ ﮨﻮﮮ
ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺣﻀﻮﺭ
ﺩﻋﺎﺋﯿﮟ ﮐﺮﻧﺎ
ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯽ ﺗﯿﻦ ﺩﻥ ﺍﯾﺴﮯ ﮔﺰﺭﮮ
ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﻣﺤﺒﻮﺏ ﻣﺴﺠﺪ ﻣﯿﮟ
ﻧﻤﺎﺯ
ﭘﮍﮬﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻻﺗﮯ
ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮪ ﮐﺮ ﺣﺠﺮﮮ ﻣﯿﮟ
ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻟﮯ ﺟﺎﺗﮯ
ﺍﻭﺭ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﺑﻨﺪ ﮐﺮﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ
ﺣﻀﻮﺭ ﺭﻭ ﺭﻭ ﮐﺮ ﻓﺮﯾﺎﺩ ﮐﺮﺗﮯ
ﺻﺤﺎﺑﮧ ﺣﯿﺮﺍﻥ
ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﭘﮧ ﯾﮧ ﮐﯿﺴﯽ
ﮐﯿﻔﯿﺖ ﻃﺎﺭﯼ ﮨﻮﺋﯽ ﮨﮯ ﻣﺴﺠﺪ
ﺳﮯ
ﺣﺠﺮﮮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﮔﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻟﯿﮑﺮ ﻧﮩﯿﮟ
ﺟﺎ ﺭﮨﮯ۔ ﺟﺐ ﺗﯿﺴﺮﺍ ﺩﻥ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ
ﺳﯿﺪﻧﺎ ﺍﺑﻮ ﺑﮑﺮ
ﺳﮯ ﺭﮨﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮔﯿﺎ ﻭﮦ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﭘﮧ
ﺁﮮ ﺩﺳﺘﮏ ﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﺳﻼﻡ ﮐﯿﺎ
ﻟﯿﮑﻦ ﺳﻼﻡ
ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﯾﺎ ۔ ﺁﭖ ﺭﻭﺗﮯ
ﮨﻮﮮ ﺳﯿﺪﻧﺎ ﻋﻤﺮ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺁﮮ
ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ
ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺳﻼﻡ ﮐﯿﺎ ﻟﯿﮑﻦ
ﺳﻼﻡ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﻧﮧ ﭘﺎﯾﺎ ﻟﮩﺬﺍ ﺁﭖ
ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﻮ
ﮨﻮﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﺳﻼﻡ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﻞ
ﺟﺎﮮ ﺁﭖ ﮔﺌﮯ ﺗﻮ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺗﯿﻦ ﺑﺎﺭ
ﺳﻼﻡ ﮐﯿﺎ
ﻟﯿﮑﻦ ﺟﻮﺍﺏ ﻧﮧ ﺁﯾﺎ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ
ﻧﮯ ﺳﻠﻤﺎﻥ ﻓﺎﺭﺳﯽ ﮐﻮ ﺑﮭﯿﺠﺎ
ﻟﯿﮑﻦ ﭘﮭﺮ
ﺑﮭﯽ ﺳﻼﻡ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﻧﮧ ﺁﯾﺎ
ﺣﻀﺮﺕ ﺳﻠﻤﺎﻥ ﻓﺎﺭﺳﯽ ﻧﮯ
ﻭﺍﻗﻌﮯ ﮐﺎ ﺗﺬﮐﺮﮦ
ﻋﻠﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ
ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺳﻮﭼﺎ ﮐﮧ ﺟﺐ ﺍﺗﻨﮯ
ﺍﻋﻈﯿﻢ
ﺷﺤﺼﯿﺎﺕ ﮐﻮ ﺳﻼﻡ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﻧﮧ
ﻣﻼ ﺗﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮭﯽ ﺧﻮﺩ ﻧﮭﯽ
ﺟﺎﻧﺎ ﻧﮭﯽ
ﭼﺎﮬﯿﺌﮯ
ﺑﻠﮑﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﻧﮑﯽ ﻧﻮﺭ ﻧﻈﺮ
ﺑﯿﭩﯽ ﻓﺎﻃﻤﮧ ﺍﻧﺪﺭ ﺑﮭﯿﺠﻨﯽ
ﭼﺎﮬﯿﺌﮯ۔ ﻟﮩﺬﺍ ﺁﭖ
ﻧﮯ ﻓﺎﻃﻤﮧ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﮐﻮ
ﺳﺐ ﺍﺣﻮﺍﻝ ﺑﺘﺎ ﺩﯾﺎ ﺁﭖ ﺣﺠﺮﮮ
ﮐﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ
ﭘﮧ ﺁﺋﯽ
" ﺍﺑﺎ ﺟﺎﻥ ﺍﺳﻼﻡ ﻭﻋﻠﯿﮑﻢ"
ﺑﯿﭩﯽ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﺳﻦ ﮐﺮ ﻣﺤﺒﻮﺏ
ﮐﺎﺋﯿﻨﺎﺕ ﺍﭨﮭﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﮐﮭﻮﻻ ﺍﻭﺭ
ﺳﻼﻡ ﮐﺎ
ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ
ﺍﺑﺎ ﺟﺎﻥ ﺁﭖ ﭘﺮ ﮐﯿﺎ ﮐﯿﻔﯿﺖ ﮬﮯ ﮐﮧ
ﺗﯿﻦ ﺩﻥ ﺳﮯ ﺁﭖ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﺸﺮﯾﻒ
ﻓﺮﻣﺎ ﮨﮯ
ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺟﺒﺮﺍﺋﯿﻞ
ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺁﮔﺎﮦ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﯼ
ﺍﻣﺖ
ﺑﮭﯽ ﺟﮩﻨﻢ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﮮ ﮔﯽ
ﻓﺎﻃﻤﮧ ﺑﯿﭩﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻣﺖ
ﮐﮯ
ﮔﻨﮩﮕﺎﺭﻭﮞ ﮐﺎ ﻏﻢ ﮐﮭﺎﮮ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ
ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺎﻟﮏ ﺳﮯ
ﺩﻋﺎﺋﯿﮟ ﮐﺮﺭﮨﺎ
ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﻧﮑﻮ ﻣﻌﺎ ﻑ ﮐﺮ ﺍﻭﺭ
ﺟﮩﻨﻢ ﺳﮯ ﺑﺮﯼ ﮐﺮ ﯾﮧ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ
ﺁﭖ ﭘﮭﺮ
ﺳﺠﺪﮮ ﻣﯿﮟ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺭﻭﻧﺎ
ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯿﺎ ﯾﺎ ﺍﻟﻠﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﻣﺖ ﯾﺎ
ﺍﻟﻠﮧ
ﻣﯿﺮﯼ ﺍﻣﺖ ﮐﮯ ﮔﻨﺎﮨﮕﺎﺭﻭﮞ ﭘﮧ
ﺭﺣﻢ ﮐﺮ ﺍﻧﮑﻮ ﺟﮩﻨﻢ ﺳﮯ ﺁﺯﺍﺩ
ﮐﺮ
ﮐﮧ ﺍﺗﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺣﮑﻢ ﺁﮔﯿﺎ "
ﻭَﻟَﺴَﻮْﻑَ ﻳُﻌْﻄِﻴﻚَ ﺭَﺑُّﻚَ ﻓَﺘَﺮْﺿَﻰ
ﺍﮮ ﻣﯿﺮﮮ ﻣﺤﺒﻮﺏ ﻏﻢ ﻧﮧ ﮐﺮ
ﻣﯿﮟ ﺗﻢ ﮐﻮ ﺍﺗﻨﺎ ﻋﻄﺎ ﮐﺮﺩﻭﮞ ﮔﺎ
ﮐﮧ ﺁﭖ ﺭﺍﺿﯽ
ﮨﻮﺟﺎﻭ ﮔﮯ
ﺁﭖ ﺧﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﮐﮭﻞ ﺍﭨﮭﮯ ﺍﻭﺭ
ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ
ﻭﻋﺪﮦ
ﮐﺮﻟﯿﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺭﻭﺯ ﻗﯿﺎﻣﺖ
ﻣﺠﮭﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﻣﺖ ﮐﮯ ﻣﻌﺎﻣﻠﮯ
ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺏ
ﺭﺍﺿﯽ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ
ﻭﻗﺖ ﺗﮏ ﺭﺍﺿﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﻧﺎ ﺟﺐ
ﺗﮏ ﻣﯿﺮﺍ
ﺁﺧﺮﯼ ﺍﻣﺘﯽ ﺑﮭﯽ ﺟﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﻧﮧ
ﭼﻼ ﺟﺎﮮ
ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﻮﮮ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺁﻧﺴﻮ
ﺁﮔﺌﮯ ﮐﮧ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﻧﺒﯽ ﺍﺗﻨﺎ ﺷﻔﯿﻖ
ﺍﻭﺭ ﻏﻢ
ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ
ﺑﺪﻟﮯ ﻣﯿﮟ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﻧﮑﻮ ﮐﯿﺎ ﺩﯾﺎ ؟
ﺁﭘﮑﺎ ﺍﯾﮏ
ﺳﯿﮑﻨﮉ ﺍﺱ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﮐﻮ ﺩﻭﺳﺮﮮ
ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺯﺭﯾﻌﮧ
ﮨﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺁﭖ
ﺳﮯ ﻋﺎﺟﺰﺍﻧﮧ ﺍﭘﯿﻞ ﮨﮯ ﮐﮧ
ﻻﺣﺎﺻﻞ ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﻣﻘﺼﺪ ﭘﻮﺳﭩﺲ
ﮨﻢ ﺳﺐ ﺷﯿﺌﺮ
ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ . ﺁﺝ ﺍﭘﻨﮯ ﻧﺒﯽ ﮐﯽ
ﺭﺣﻤﺖ ﮐﺎ ﯾﮧ ﭘﮩﻠﻮ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮧ ﺷﯿﺌﺮ
ﮐﺮﯾﮟ .

بیوی بار بار ماں پر الزام لگائے جا رہی تھی ......اورشوہر بار بار اسکو اپنی حد میںرہنے کی کہہ رہا تھالیکن بیوی چپ ہونے کا...
27/11/2019

بیوی بار بار ماں پر الزام لگائے جا رہی تھی ......
اور
شوہر بار بار اسکو اپنی حد میں
رہنے کی کہہ رہا تھا
لیکن بیوی چپ ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی
بار بار زور زور سے چیخ چیخ کر کہہ رہی تھی کہ
"اس نے انگوٹھی ٹیبل پر ہی رکھی تھی
اور تمهارےاور میرے علاوہ اس کمرے میں کوئی نہیں آیا
انگوٹھی ہو نا ہو ماں جی نے ہی اٹھائی ہے.
بات جب شوہر کی برداشت سے باہر ہو گئی تو
اس نے بیوی کے گال پر ایک زور دار طمانچہ دےمارا اب
تین ماہ پہلے ہی تو شادی ہوئی تھی.
بیوی سے طمانچہ برداشت نہیں ہوا وہ گھر چھوڑ کر جانے لگی
اور جاتے جاتے شوہر سے ایک سوال پوچھا
کہ تمھیں اپنی ماں پر اتنا یقین کیوں ہے .. ؟؟
تب شوہر نے جو جواب دیا
اس جواب کو سن کر
دروازے کے پیچھے کھڑی ماں نے سنا
تو
اس کا دل بھر آیا
شوہر نے بیوی کو بتایا کہ
"جب وہ چھوٹا تھا تب اس کے والد گزر گئے
ماں محلے کے گھروں میں جھاڑو پوچا لگا کر جو کما پاتی تھی
اس سے ایک وقت کا کھانا آتا تھا
ماں ایک پلیٹ میں مجھے روٹی دیتی تھی
اور
خالی ٹوکری ڈھک كر رکھ دیتی تھی
اور
کہتی تھی
میری روٹیاں اس ٹوکری میں ہے بیٹا تو کھا لے
میں نے بھی ہمیشہ آدھی روٹی کھا کر کہہ دیتا تھا
کہ ماں میرا پیٹ بھر گیا ہے
مجھے اور نہیں کھانا ہے
ماں نے مجھے میری جھوٹی آدھی روٹی کھا کر مجھے پالا پوسا اور بڑا کیا ہے
آج میں نے دو روٹی کمانے کے قابل ہوا ہوں
لیکن یہ کیسے بھول سکتا ہوں کہ ماں نے عمر کے اس حصے پر اپنی خواہشات کو مارا ہے،
وہ ماں آج عمر کے اس حصے پر کیسے انگوٹھی کی بھوکی ہو گی ...یہ میں سوچ بھی نہیں سکتا
آپ تو تین ماہ سے میرے ساتھ ہو
میں نے تو ماں کی تپسیا کو گزشتہ پچیس سالوں سے دیکھا ہے ..یہ سن کر ماں کی آنکھوں سے آنسو چھلک اٹھے
وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ بیٹا اس کی آدھی روٹی کا قرض چکا رہا ہے یا وہ بیٹے کی آدھی روٹی کا قرض...

2016 سے لے کر 2019 تک صرف پاکستان میں دولاکھ 23 ھزار لڑکیاں فیس بک سے محبت کر کےمردوں کی ھوس کا نشانه بنیں اور تین لاکھ ...
12/08/2019

2016 سے لے کر 2019 تک صرف پاکستان میں دولاکھ 23 ھزار لڑکیاں فیس بک سے محبت کر کےمردوں کی ھوس کا نشانه بنیں
اور تین لاکھ سے زیاده لڑکیوں نے اپنی نیوڈ پکس اور ویڈیو لڑکوں کو دیں
3 ھزار لڑکیاں ایسی ھیں جو محبت کے نام په ملنےگیئں اور لڑکوں نے الله کی قسم ماما کی قسم ڈیلیٹ کردوں گا کا ڈرامه کر کے پورن ویڈیو بنائی اور بعد میں ان کو اس ویڈیو کے زریعے بلیک میل کیا
بارھا اپنی ھوس پوری کی پیسےلیے اور دوستوں کی بھی ھوس پوری کروائی
کتنی ھی لڑکیوں نے خودکشی کی
کتنی ھی لڑکیوں کی ویڈیو اب بھی مختلف ویب سائٹ په گردش کررھی ھیں
کتنے ایسے کیس ھیں جو رپورٹ ھی نھیں ھوتے اور ماں باپ اپنی عزت کے مارے اپنی بیٹیوں کو مار دیتے ھیں
کھتے ھیں انسان اپنی غلطیوں سے سیکھتا ھے اور دوسروں کی غلطیوں سے بھی سیکھتا ھے
مگر افسوس یه ھے که اتنے کیس رپورٹ ھونے کے باوجود بھی لڑکیوں کو ھوش نھیں آئی
وه مسلسل اپنی عزت نیلام کرنے په تلی ھوئی ھیں
صرف اک جملے کے آسرے په که میرے والا ایسا نھیں اور جب سب کچھ لٹا بیٹھتی ھیں تو سمجھ آتی ھے که میرے والا بھی ایسا ھی گھٹیا ھے

سوچنے کی بات یه ھے که اگر میرے والا یا تیرے والا اتنا ھی اچھا ھوتا تو میرا رب نامحرم رشتے حلال قرار دیتاجب دیور جیٹھ سارے کزن خالو پھوپھا جیسے رشتے جن کو آپ جانتی ھیں ان کونامحرم.قرار کیوں دیتا?
تو آپ سوشل میڈیا په گردش کرتے مردوں په کیسے بھروسه کرسکتی ھیں
کوئی بھی سمجھدار لڑکا کبھی بھی پهلے انبکس میسج نھیں کرے گا وه پھلے آپ کی پوسٹ په بڑی تھزیب کے ساتھ کومنٹ کرے گا ریپلائی میں جان پھچان بناۓ گا چار دن ریپلاۓ میں بات ھوگی پھر انبکس تک چلا جاۓ گا اور اس کے بعد جو ھوتا ھے سب کو پتا ھے
اس په لکھنے کو بھت کچھ ھے مگر فائده کوئی نھیں کیوں که اب تقریبا ھر گرل سوشل میڈیایوز کررھی ھے
آپ کو بھی حالات کی سنگینی کا اچھے سے علم ھے تو محترمه آپ صرف اس آسرے په ھیں که میرے والا ایسا نھیں
ھماری کسی کے ساتھ رشتے داری نھیں که ھم دعوی کر سکیں اچھے برے کا اگر آپ پوسٹ په اچھا سمجھ کے دوستی یا محبت کررھی ھیں تو یه آپ کی زمے داری ھے نا که ھماری
نا میں کہتا ھوں که وه اچھا ھے وه برا ھے۔
عورت کو پردے کا حکم اسی لیے دیا گیا ھے که اس میں جنسی کشش زیاده ھے
تو عورت اپنے آپ کو ڈھانپ کے رکھے....

" نہیں تمہارا چہرہ نہیں آئے گا " میں اپنی ماں کی قسم کھاتا ہوں ۔۔خود ہی دیکھوں گا یہ وڈیو پھر ڈیلیٹ کردوں گانہیں پلیزززز...
06/06/2019

" نہیں تمہارا چہرہ نہیں آئے گا "
میں اپنی ماں کی قسم کھاتا ہوں ۔۔خود ہی دیکھوں گا یہ وڈیو پھر ڈیلیٹ کردوں گا

نہیں پلیزززز
" ہاتھ ہٹاؤ نا جان "
" نہیں "
اچھا میری قسم ہے تمہیں ہاتھ ہٹاؤ وڈیو بنانے دو

" اپنی قسمیں مت دیا کرو "

قسم دینا پڑجاتی ہے تم بھی تو بھروسہ نہیں کرتی میں نے بھلا کس کو دکھانی ہے۔۔۔ڈیلیٹ کردوں گا

"بھروسہ کرتی ہوں تبھی تو اپنا آپ دیا ہے تمہیں "
" تو پھر بنانے دو نا "!
" تم باز نہیں آؤ گے۔۔۔۔۔ اچھا بنا لو " !! لو یو "
بہت محبت کرتی ہوں تم سے
چاہتی ہوں ہیر رانجھا کی طرح ہماری محبت کی بھی کہانیاں سنائی جائیں "

" ہمممم۔۔۔۔۔ لو یو ٹُو "

کٹی پتنگ کی طرح جھولتی ہوئی وہ گھر پہنچی اور کمرے میں آ کر سوگئی ۔۔۔۔

" وہ عام سے گھر کی گمنام لڑکی تھی "

مگر

جب اسکی آنکھ کُھلی
تو
"وہ اور اسکی محبت مشہور ہوچکی تھی " ..
پھر کیا ہوا لڑکا سرعام پھر رہا ہے ...
اس لڑکی کا کیا بنا ...جناب لڑکی بیمار تھی اور مر گئی کچھ دنوں بعد پتہ چلا لڑکی کا گلہ کاٹ کے اس کو بغیر جنازے کے گھر والے دفن کر چکے ہیں اسی طرح ایک ہیر رانجھے کی کہانی اختتام ہوئی
نہیں نہیں میری بہنو میں آپ سے ہاتھ جوڑ کے کہتا ہو ایسا ہر گز مت کرنا یہ آپ کی زندگی سے کھیلنے والے درندے ہیں زندگی تو آپ کی اجڑ جاتی ہے اس ہرامی کی نہیں یا تو وہ کھلے عام پھر رہا ہوتا ہے یہ پھر دوسری کی تلاش میں ہوتا یا پھر غیر ملک مزے لے رہا ہوتا ہے .اور آخر میں رہ جاتے ہیں آپ کے ماں باپ اور بھائی وہ تو جیتے جی ہر روز بیچارے شرم سے مر رہے ہوتے ہیں اور بس زندہ لاش بنے ہوتے ہیں اپنی عزت کا خود خیال کرو
تحریر ہر بہن تک پہنچا دو تاکہ کوئی بہن کسی درندے کے ہاتھ نہ لگ جائے🙏

شادی کی پہلی رات کے بارے غلط فہمیاں اور جہالاتیںبہت سے جاہلانہ گھرانوں میں سفید چادر بچھائی جاتی ہے اور صبح خون کے نشانا...
29/05/2019

شادی کی پہلی رات کے بارے غلط فہمیاں اور جہالاتیں

بہت سے جاہلانہ گھرانوں میں سفید چادر بچھائی جاتی ہے اور صبح خون کے نشانات پورے خاندان والوں کو دکھائے جاتے ہیں

کل رات ٹوئٹر پر ایک خبر پڑھی کہ ایک سولہ سالہ لڑکی کو محض اس لیے قتل کر دیا گیا کہ وہ “کنواری: ثابت نہ ہو سکی۔۔۔کافی لوگ اس وقت چونک گئے ہوں گے کہ ایسے بھی لوگ دنیا میں پائے جاتے ہیں تو شادی کی پہلی رات ہم بستری کے دوران خون نکلنے کو ہی کنوارہ پن مانتے ہیں۔

میرا اٹھنا بیٹھنا ان لوگوں میں رہا ہے بلکہ اب بھی مجھے اکثر میرے سابقہ محلے دار نوجوان ملتے ہیں جو اس قسم کی سوچ رکھتے ہیں کہ شادی کی پہلی رات خون نہ نکلا تو لڑکی “چالو” ہے۔۔۔یونیورسٹی کالجز میں دنیا کے سب سے زیادہ زنا وغیرہ ہوتے ہیں۔۔

اس تحریر میں آپ کو اس طبقے کی سوچ دکھاتا ہوں کہ شادی کو اور بیوی کو یہ کیا سمجھتے ہیں۔۔
ایک ایسی قسم ہے جو شادی کی پہلی رات خون نہ نکلنے پر اپنی ہی بیوی کو ” چالو” سمجھنا شروع کر دیتے ہیں۔ حالانکہ یہ وہ نوجوان ہوتے ہیں جن کی ساری عمر غلط کاریوں میں بھی گزری ہے۔ اب شادی ہوئی ہے تو ان کے نزدیک بیوی ” سیل پیک” ہونی چاہیے اور اس کے لیے انھوں نے جو معیار طے کیا ہے وہ ہے “خون کا نکلنا۔” ان لوگوں کو سمجھانے کی ضرورت ہے کہ بچپن یا لڑکپن میں کھیل کود کے دوران یا سیڑھیوںمنقور کر، یا رسہ کودتے ہوئے، سائیکل چلاتے ہوئے وہ باریک سی جھلی جس کے ہٹنے سے خون نکلتا ہے وہ جھلی پھٹ سکتی ہے۔۔لہذا اگر پہلی رات خون نہیں نکلا تو یہ لازمی نہیں کہ آپ کی بیوی بد کردار ہے یا اگر خدانخواستہ وہ پہلے کسی سے ایسا عمل کروا چکی ہے تو وہ جانے اللہ جانے۔۔وہ آپ کو جوابدہ آپ کے نکاح میں آنے کے بعد کی ہے۔۔پہلے کی نہیں۔۔پہلے کے بارے آپ کو اتنے شبہات تھے تو تفتیش کر کے شادی کرتے۔۔نا کہ اب اس کا جینا حرام کرو۔سب سے بڑی بات۔۔کیا تم خود کنوارے ہو؟

دوسری قسم کے لوگ وہ ہیں جو شادی کی پہلی رات بیوی کو زیادہ سے زیادہ تکلیف دینے کو “مردانگی” سمجھتے ہیں۔۔ان کے نزدیک اگر پہلی رات ہم بستری کے دوران بیوی کو تکلیف کی شدت سے رونے پر مجبور نہ کیا تو ان سے بڑا “مرد” کوئی نہیں۔۔اگر ایسا ہو بھی جائے تو اگلے دن دوستوں کو بڑھ چڑھ کر قصے سناتے پائے جاتے ہیں۔۔اگر آپ کسی ہسپتال کی ایمرجنسی میں کام کرتے ہیں یا آپ کا کوئی جاننے والا کام کرتا ہے تو آپ کو علم ہو گا کہ ہر ماہ ایک یا دو کیسسز ایسے لازمی آتے ہیں کہ شادی کی پہلی رات درد کی شدت لڑکی برداشت نہیں کر سکی اور اس کی حالت غیر ہو گئی ۔۔۔ان “سُورمے ” مردوں کو سمجھانے کی ضرورت ہے کہ عورت بھی انسان ہے۔۔آپ کی بیوی بھی کسی کی بہن بیٹی ہے اگر وہ اس عمل سے ابھی یوز ٹو (عادی) نہیں ہو پا رہی تو اسے کچھ وقت دو۔۔۔بے شک چند دن دے دو۔۔لازمی نہیں پہلی رات ہی یہ “ایگزام ” لینا ہی لینا ہے۔۔بندہ خدا! اسے اس عمل کے دوران بالکل ویسا ہی درد ہوتا ہو گا جیسے مار پیٹ کا درد ہو۔۔ہر عورت ہر لڑکی کی جسمانی برداشت الگ الگ ہوتی ہے۔اگر آپ زیادہ تکلیف میں دیکھیں تو رک جائیں۔۔کل سہی۔۔پرسوں سہی۔۔اللہ زندگی رکھے وہ آپ کی اپنی ہے۔۔آپ اس کے تمام حقوق رکھتے ہو۔۔۔آپ سے کس نے کہہ دیا کہ پہلی رات یہ کام کرو گے تو ہی ولیمہ جائز ہو گا یا آپ مرد “گردانے” جاو گے۔۔۔؟

تیسری قسم ان لڑکوں کی ہے جو جنسی عمل کے دوران زیادہ دورانیے کو مردانگی گردانتے ہیں۔ان کے نزدیک اگر شادی کی پہلی رات آپ نے جنسی عمل میں ایک گھنٹے سے کم وقت لگایا تو آپ “مرد” ہی نہیں۔۔اور یہ بدقسمتی سے اس مغالطے کا شکار پڑھے لکھے حضرات بھی ہیں۔میرے ایک انتہائی قریبی دوست ساری عمر زنا اور غلط کاریوں میں ملوث رہے۔شادی قریب آئی تو انھیں احساس کمتری ہونا شروع ہو گیا کہ پہلی رات میں ایک منٹ یا اس سے کم وقت میں ہی نزول کا شکار نہ ہو جاوں لہذا اسی پریشر میں انھوں نے شادی سے ایک ماہ قبل ایک حکیم سے معجون لے کر کھانا شروع کیا۔۔ہزاروں روپے بھی لگائے اور شادی کی پہلی رات مسلسل چالیس منٹ بنت حوا کو اس کی مرضی کے خلاف روندتے رہے ،نتیجہ یہ ہوا بیوی کو رات کو تین بجے ہسپتال لے جانا پڑا اور سارے زمانے سے جھوٹ بولنا پڑا کہ اس کے معدے میں درد اٹھا ہے۔۔ان لوگوں کو یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ لازم نہیں لڑکی کو نقطہ سکون تک پہنچانے کے لیے آپ کو جنسی عمل میں زیادہ وقت لگانا پڑے آپ جنسی عمل سے پہلے بھی بہت سے ” کام ” کر کے اس عمل میں مدد لے سکتے ہو۔

چوتھی قسم ان لوگوں کی ہے جن کے نزدیک شادی کی پہلی رات کم از کم پانچ یا چھے بار ایسا عمل کرنا عمر بھر کی بھڑاس نکال دینے کے برابر ہے یا اس سے انھیں اگلی تئیس مارچ پر تمغہ مردانگی ملے گا۔۔ایسے لوگوں کے دوست بھی پھر انہی کی سوچ کے مالک ہوتے ہیں۔۔ولیمے کی صبح صبح دولہے کو دیکھتے ہی ان کا سب سے پہلا سوال یہی ہوتا ہے ” ہاں وئی! کنی واری (کتنی بار) اور دولہا بھی کمینگی والی مسکراہٹ کے ساتھ انگلیوں سے تعداد بتائے گا اور بڑھا چڑھا کر بتائے گا۔اس کے نزدیک یہ عزت کا پیمانہ ہے وہ جتنی زیادہ تعداد بتائے گا معاشرے میں اس کی اتنی عزت گردانی جائے گی۔۔اسے سمجھانے کی ضرورت ہے کہ آپ اپنی بیوی کا لباس ہو۔آپ نے ایسے راز شیئر کر کے بھرے بازار میں اپنی بیوی کو خود بے لباس کر دیا ہے اور اپنے ہی دوستوں کے ذہن میں اپنی ہی بیوی کے بارے گندگی کا ایک بیج بو دیا ہے۔۔

پانچویں قسم ان لوگوں کی ہے جن کی ساری عمر گندی فلمیں دیکھتے گزری ہے اور ان کے دماغ پر گندی فلموں کے سین سوار رہتے ہیں ۔۔اور انھیں شادی کی پہلی رات کا شدت سے انتظار ہوتا ہے کہ یہ سارے سین “پرفارم” کر کے اپنے آپ کو ” مرد” منوایا جائے۔۔ان لوگوں کو سمجھانے کی ضرورت ہے کہ ان موویز میں کام کرنے والے سارے کے سارے پروفیشنل لوگ ہوتے ہیں جو مختلف اور مہنگی ادویات کا سہارہ لے کر لوگوں میں بے راہ روی اور خناس بھر رہے ہیں اور نوٹ چھاپ رہے ہیں۔۔ان مہنگی ادویات کے بغیر وہ بھی عام انسان ہی ہیں کوئی “باہو بلی” نہیں۔۔ان کا مقصد نوٹ چھاپنا ہوتا ہے۔۔آپ لوگوں کو ترغیب دینا نہیں کہ اپنی بیوی کو “اکھاڑہ” بنا لو۔۔

بدقسمتی سے ہم اس معاشرے میں رہتے ہیں جہاں مائیں اپنی بیٹیوں اور باپ اپنے بیٹوں سے ان معاملات پر بات کرتے شرماتے ہیں ۔۔۔انھیں یہ باتیں ماں باپ نہیں سمجھاتے۔۔مساجد کے امام نہیں سمجھاتے۔ عمر میں بڑے دوست یا پڑھے لکھے دوست نہیں سمجھاتے تو پھر غلط صحبت اپنا اثر دکھاتی ہے۔۔اور انسان چلتا پھرتا جنسی درندہ بن جاتا ہے۔جو بیوی کو بچے پیدا کرنے اور سیکس کی مشین کے سواء کچھ سمجھنے کو تیار ہی نہیں ہوتا،۔

اس امید پر یہ تحریر لکھی ہے کہ اگر ان پانچوں اقسام میں سے کوئی ایک شخص بھی یہ پوسٹ پڑھ کر اپنی سوچ بدل لے تو کسی کی بہن بیٹی “اکھاڑہ” بننے سے بچ جائے گی۔۔یہ بات ذہن میں رکھیے گا کل کو آپ نے بھی بیٹی کا باپ بننا ہے اور بیٹیاں جب کسی کی بیویاں بنتی ہیں تو وہ چاہنے اور پیار کرنے کے لیے ہوتی ہیں “اکھاڑہ” بنانے کے لیے نہیں۔۔بیویوں کو یوں پیار سے رکھیں جیسے کانچ کے برتن رکھے جاتے ہیں۔

بڑے دل والے لوگ شئیر کریںچھوٹے دل والے لائک کریں
27/02/2019

بڑے دل والے لوگ شئیر کریں

چھوٹے دل والے لائک کریں

‏لغزشِ ہجر نہ جانچ سکی آغوشِِ یار کی تفسیریں ‏آنکھوں میں ناچتا ہے__ رنگ تیری عقیدت کا
21/07/2018

‏لغزشِ ہجر نہ جانچ سکی آغوشِِ یار کی تفسیریں
‏آنکھوں میں ناچتا ہے__ رنگ تیری عقیدت کا

😘وہ محُبت کے سودے بھی عجیب کرتی ہے                                         ☺بس مسکراتی ہے اور دل خرید لیتی ہے__
17/06/2018

😘وہ محُبت کے سودے بھی عجیب کرتی ہے

☺بس مسکراتی ہے اور دل خرید لیتی ہے__

ایک عظیم گمنام مارخور کی داستان کیپٹن قدیر شہید ہیرو پاکستانی  یہ انسان نہی فرشتہ تھا وطن کی مٹی کی محبت میں اس فرشتے نے...
14/06/2018

ایک عظیم گمنام مارخور کی داستان

کیپٹن قدیر شہید ہیرو پاکستانی



یہ انسان نہی فرشتہ تھا
وطن کی مٹی کی محبت میں اس فرشتے نے خود کو مٹی مٹی کر دیا

کیپٹن قدیر کا تعلق ایک بہت بڑے زمیندار گھرانے سے تھا
خود کیپٹن قدیر 300ایکٹر قابل کاشت آراضی کا زاتی مالک تھا سونا کا چمچمہ منہ میں لیا پیدا ہوا یہ نوجوان جب بڑا ہوا تو وطن عزیز کی حفاظت کیلئے پاک فوج میں بھرتی ہوگیا

اس کے رشتے داروں نے اس پر طنز کیا کہ جب روپیہ پیسہ کی گھر میں ریل پیل ہے تو نوکری کرنے کی کیا ضرورت ہے تنخواہ پر نوکر بن رہے ہو

یہ سن کر کیپٹن قدیر کا خون جوش مارنے لگا اور چیخ کر کہا فوجی تنخواہ کے لیے بھرتی نہی ہوتا ہے فوجی تو وطن عزیز کی حفاظت کی خاطر بنتے ہیں

اور میں اس ملک پر اپنا تن من دھن سب قربان کر دونگا
یہی جذبہ لے کر یہ نوجوان فوج میں سیکنڈ لیفٹینٹ بھرتی ہوتا ہے مقابلہ کا امتحان پاس کرکے اور ترقی کرکے کیپٹن بن جاتا ہے

اس کا جذبہ دیکھ کر اسے خفیہ ایجنسی ملٹری انٹیلی جینس میں بھیج دیا جاتا ہے

جہاں پر مزید اسے بلوچستان خفیہ مشن پر بھیج دیا جاتا ہے

اس کے زمہ یہ مشن لگتا ہے کہ بلوچستان میں را کا نیٹ ورک تلاش کرنا ہے اور دہشتگردوں کو ختم کرنا ہے

را کے نیٹ ورک کو تلاش کرنے کے لئے مٹی کی محبت میں یہ جنونی انسان جس نے اپنی ساری جوانی نرم گرم بستروں پر گزاری جہاں گھر میں نوکر چاکر کی بھر مار تھی ایک ایک چیز بستر پر نوکر چاکر آرڈر کرکے لے آتے تھے

مگر آفرین آفرین اس شیر دل ہیرو کی اپنے دیس کو
دشمنوں سے بچانے کے لئے یہ جنونی کوڑا چننے والا بن جاتا ہے
اور پورے تین سال یہ جنونی بلوچستان کے مخلتف شہروں میں فقیر بن کر کوڑا چنتے چنتے گزار دیتا ہے

اس کا بستر بھی کوڑا کرکٹ کا ڈھیر وہی اس کا کھانا پینا سخت ترین سردیوں میں یہ جنونی ایک انتہائی بدبودار پھٹے پرانے کمبل میں کھلے آسمان تلے گزارتا ہے

صرف دیس کی حفاظت کیلئے

آخر اس کی محنت رنگ لاتی ہے اور یہ را کے بہت بڑے نیٹ ورک کلبھوشن تک پہنچنے میں کامیاب ہوجاتا ہے

جی ہاں دوستو کلبھوشن جیسے مشہور ومعروف دہشتگرد کو پکڑنے کے پیچھے اس جنونی مارخور کی تین سال کی محنت ہوتی ہے

اور اس ماہ رمضان کے آغاز میں سلمان نامی دہشت گرد جس کو مارتے مارتے ہمارے کرنل سہیل خود شہید ہوگئے
تھے اس کی اطلاع دینے والا بھی یہی مار خور تھا

آج بلوچستان میں جو امن وامان قائم ہوا ہے تو اس کے پیچھے اس جنونی نوجوان کا بہت بڑا کردار ہے
کیپٹن قدیر کے اتنے بڑے بڑے کارنامے ہیں کہ لکھنے کے لئے کتابیں کم پڑ جائیں

میں سوچ رہا ہوں دوستو یہ کیسا انسان تھا 300 ایکڑ اراضی کا مالک شخص کس طرح تین سال کوڑا چننے والا فقیر بنا رہا کس طرح بدبودار کمبل میں اس نے تین سال گزار دیے

ایسے لوگ انسان ہرگز نہی ہوسکتے یہ فرشتہ تھا

ہم جیسے نام نہاد حب الوطنی کے دعویدار ایک رات بھی کوڑا کرکٹ کے ڈھیر پر نہی گزار سکتے

مگر اس شخص نے ہم پاکستانیوں کو سکھ امن دینے کی خاطر اپنے گھر کے نرم گرم بستروں کو لات مار دی

اور کچھ نام نہاد فیس بُکی دانشور سارا دن ان فوجیوں کو تنخواہ دار چوکیدار ہونے کے طعنے دیتے ہیں

میری فوج کو طعنے دینے والو یہ ایک امیر کبیر شخص تھا دولت اس کے گھر کی لونڈی تھی

مگر یہ پاکستان کی خاطر فوجی بنا اور فوجی تنخواہ کے لئے نہی بنتے فوجی تو مجاہد ہوتے ہیں جو وطن عزیز کی خاطر بنتے ہیں

شہید کیپٹن قدیر میرے ہیرو
میرے پاس تیری تعریف کے لئے الفاظ نہی ہیں

تو عظیم ہے

ھاں اتنا کہتا ہوں شہید کیپٹن قدیر جیسے مجاہدوں کے مٹی سے اٹے بوٹ چومنا آنکھوں سے لگانا میرے لیے بہت بڑی سعادت کا درجہ رکھتا ہے

میرے پیر ومرشد میری فوج ہے میرے شہید ہیں

کیپٹن قدیر شہید آپ کے کارنامے تاریخ میں سنہری الفاظ میں لکھے جائیں گے

خاص طور پر کلبوھشن کو پکڑنے کے لئے جس طرح تو نے تین سال کوڑا کرکٹ کے ڈھیر پر گزار دیے

اے پاک فوج کے شہیدو ہم پاکستانی تمہارے احسان مند ہیں

ہم یاد رکھیں گے
مت سمجھو ہم نے بھلا دیا
شہید تم سے یہ کہ رہے ہیں لہو ہمارا بھلا نہ دینا

یہ تحریر لکھتے ہوئے میں نے گھنٹوں لگا دیئے اور بےشمار بار بلک بلک کر روتا رہا

بار بار میرے سامنے کیپٹن قدیر کی کوڑا کرکٹ والی تصویر گھومتی رہی
مٹی سے اٹے پاؤں میلے کچیلے پھٹے کپڑوں میں بھی اس کی آنکھوں میں ایک چمک ہے چیتے جیسی چمک
شہزادہ لگ رہا ہے

وطن کی مٹی گواہ رہنا وطن عزیز کی خاطر ہم نے کیسے کیسے خوبصورت شہزادے قربان کیے

پاکستانیوں قدر کرو اپنے شہیدوں کی اپنی فوج کو عزت دو اور فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہو جاؤ

اگر فوج کے شانہ بشانہ کھڑے نہ ہوئے تو یاد رکھنا
داستان تک نہ ہوگی تمہاری داستانوں میں
پاک فوج زندہ باد
پاکستان ہمیشہ زندہ باد

ہم نے سمیٹے  ہیں درد دنیا کے.اور تم سے اک ہم نہیں سنبھالے گئے..!!
13/06/2018

ہم نے سمیٹے ہیں درد دنیا کے.
اور تم سے اک ہم نہیں سنبھالے گئے..!!

Address

Usmi Mj
Sialkot
54321

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00
Sunday 09:00 - 17:00

Telephone

+97336698682

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Urdu Heart Broken Poetry posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share