مرکزی جمیعت اھلحدیث پاکستان

مرکزی جمیعت اھلحدیث پاکستان islam promote

18/05/2020

"تعامل مع الحکام"
ہم اہل سندھ کےاولی الامر"پی پی"والےہیں یا"پی ٹی آئی"والے
بڑی شش وپنج میں ہوں
Plz help me

13/03/2018
کڑے امتحان پریشانی میں پڑھیں..
26/11/2016

کڑے امتحان پریشانی میں پڑھیں..

20/05/2016

نہ اٹھا پھر کوئی رومی عجم کے لالہ زاروں سے.

مخلص مزدور عنداللہ ماجور
01/05/2016

مخلص مزدور عنداللہ ماجور

25/03/2016

کالا حضرت کو رضی اللہ اور اسلام کا سب سے بڑا محب سمجھتے ہیں موصوف

18/01/2016

ام المــؤمـنـیـــن سـیـدہ عـائـشـہ صـدیـقـــہ رضی الـلـه عنھا
بیان فرماتی ہیں کہ
🌴مــحـــمــــد صلی الله علیه وسـلم
کے اہل خانہ ،
جب سے مدینہ میں آئے ہیں،
انہوں نے مسلسل تین دن تک گندم کی روٹی سیر ہو کر نہیں کھائی،
یہاں تک کہ آپ اپنے رب سے جا ملے،
{بخاری #6454}

آج ہمارے گھروں میں کئی کئی ڈشیں بنتی ہیں
اس کے باوجود ناشکری۔
اللہ تعالی معاف فرمائے
#خطاب

18/01/2016
علامہ احسان الہی ظہیر  شہید  کہنے لگے آپ معافی  مانگیں گے کہ میں ؟؟؟؟؟اپنے اسلاف کے عمدہ اخلاق کی باتیں شروع ہو گئیں تو ...
09/01/2016

علامہ احسان الہی ظہیر شہید کہنے لگے آپ معافی مانگیں گے کہ میں ؟؟؟؟؟
اپنے اسلاف کے عمدہ اخلاق کی باتیں شروع ہو گئیں تو سوچا کچھ دن یہی چلنے دیں..آپ کا کیا خیال ہے ؟؟؟؟.......مجھے قاری عبدالغفار نے مکتبہ قدوسیہ پر بیٹھ کر یہ واقعہ سنایا آپ بھی پڑھیے... وہ ان دنوں علّامہ صاحب کے ساتھ ملازمت پر ہوتے تھے.. ایک روز سفر درپیش تھا اور علامہ رولپنڈی سے لاہور آ رہے تھے..علامہ گاڑی خود چلا رہے تھے.. جہلم سے پہلے ایک قصبہ ہے "دینہ"... وہاں پولیس کا ناکہ لگا ہوا تھا..انہوں نے روکنے کا اشارہ کیا ..علامہ نے گاڑی روک لی اور قاری صاحب کو اشارہ کیا کہ خود ہی ان سے بات کر لیں اور جو سوال جواب ہیں نمٹا لیں.. قاری صاحب نے سپاہی کو بتایا کہ گاڑی میں علامہ احسان الہی ظہیر ہیں...اور لاھور جا رہے ہیں ... تب نہ اتنے اخبارات ہوتے تھے نہ کوئی ٹی وی چینل .... کہ معلومات کا دائرہ ہر ایک کا بہت وسیع ہو..اب وہ پوٹھو ہاری سپاہی تھا ..اس نے مخصوص لہجے میں کچھ روکھے پن کا مظاہرہ کیا تو اس کی اور قاری صاحب کی تکرار ہو گئی...
اس دوران علامہ گاڑی میں بیٹھے ہوے تھے اور سرسٹیرنگ سے ٹکائے ہوے کچھ "ریلیکس" کر رہے تھے... باھر تکرار بڑھ گئی.. اب یہ تو ہوتا ہے کہ بڑے بندے کے ساتھ چلنے والے خود کو کہاں چھوٹا سمجھتے ہیں...بلکہ کبھی کبھی تو یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ اصل سے "بڑے" ہو جاتے ہیں..
شائد اس روز بھی کچھ ایسا ہی ہوا.. کہ قاری صاحب نے علامہ کی مصاحبت کے زعم میں سپاہی کے منہ پر تھپڑ دے مارا..."چٹاخ" کی آواز رات کی تاریکی میں جو گونجی تو علامہ جلدی سے گاڑی سے نیچے اترے ..ادھر سے پولیس آفیسر بھی بھاگا آیا..اسکو صورت حال کا اور علامہ کا پتہ چلا تو اس نے معذرت کی ، اپنے سپاہی کو ڈانٹا اور کہا" آپ تشریف لے جائیں، کوئی مسلہ نہیں"..
آپ چل دئیے....زیادہ نہیں ، دو کلومیٹر آگے آئے ہوں گے کہ آپ نے گاڑی روک لی....چند منٹ گہری خاموشی رہی..قاری صاحب نے پوچھا کہ "علامہ صاحب کیا ہوا ہے؟.".. آپ نے کہا " کچھ نہیں"... اور اس کے ساتھ ہی گاڑی واپس موڑ لی .. واپس اسی ناکے پر پہنچے..گاڑی سے نیچے اترے...آپ کو دوبارہ دیکھ کر پولیس والے گھبرا گئے کہ خدا جانے اب کیا ہو گیا ہے کہ یہ پھر واپس آگئے ہیں؟..
ادھر آپ نیچے اتر کر کھڑے ہو گئے..کہنے لگے" قاری صاحب آپ بھی نیچے اتریں.. اور سپاہی سے معافی مانگیں.."
اب قاری صاحب حیران بھی اور متامل بھی کہ کیسے معافی مانگیں؟...قاری صاحب کی ہچکچاہٹ دیکھ کر علامہ شہید نے ان کو مخاطب کیا..
" قاری صاحب آپ معافی مانگیں گے یا آپ کی جگہ پر میں معافی مانگوں..؟..
اس پر قاری صاحب کو معاملے کی سنگینی کا احساس ہوا..اور انہوں نے سپاہی کے آگے ہاتھ جوڑ دیئے..."معاف کر دو یار"...سپاہی کی آنکھیں بھیگ رہی تھیں... آج اس نے انوکھے مولوی اور لیڈر کا نظارہ کیا تھا... علامہ نے اپنی جیب سے کچھ پیسے نکالے اور زبردستی سپاہی کے ہاتھ پر رکھے" چل یار جو ہوا بھول جا، اپنے بچوں کے لیے مٹھائی لے جانا.."
پھر جب ٢٣ مارچ کو آپ کا حادثہ ہوا ..آپ شہید ہو گئے، اس سپاہی نے بھی یہ خبر سنی ہو گی تو اس کی آنکھوں سے چند آنسو بھی گرے ہوں گے..مجھے امید ہے کہ اس روزاس کے بھی ہاتھ دعائے مغفرت کو اٹھ گئے ہوں گے......ابو بکر قدوسی

Address

Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when مرکزی جمیعت اھلحدیث پاکستان posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share