13/11/2025
🕌 عنوان:
"27ویں آئینی ترمیم — اصلاحات یا اقتدار کا استحصال؟ پاکستان کے مستقبل کا فیصلہ کن موڑ"
✍️ تحریر: عرفان صدیق
پاکستان کے آئین میں کی جانے والی ہر ترمیم عوامی اعتماد اور جمہوری اصولوں کا امتحان ہوتی ہے۔
لیکن 27ویں آئینی ترمیم نے اس ملک کے شعور یافتہ طبقے، طلبہ، مزدوروں اور علمائے کرام سب کو ایک سوال پر متحد کر دیا ہے:
کیا یہ ترمیم واقعی اصلاحات کے لیے ہے — یا اقتدار کے تحفظ کے لیے؟
یہ سوال آج پاکستان کے مستقبل کا سب سے بڑا سوال بن چکا ہے۔
---
# # # 1️⃣ تمہید: پس منظر اور عوامی احساس
پاکستان کا عام شہری اب تھک چکا ہے۔
ہر حکومت "اصلاحات" کے نام پر قانون بناتی ہے، مگر نتیجہ ہمیشہ اشرافیہ کے فائدے میں نکلتا ہے۔
27ویں ترمیم نے بھی یہی تاثر گہرا کر دیا ہے — کہ قانون صرف کمزور کے لیے رہ گیا ہے، اور طاقتور کے لیے استثنیٰ کی دیوار کھڑی کر دی گئی ہے۔
عوام پوچھتی ہے: اگر وزیر اور مشیر قانون سے بالاتر ہو جائیں تو پھر انصاف کہاں جائے گا؟
---
# # # 2️⃣ ترمیم کا خلاصہ اور قانونی تجزیہ
اطلاعات کے مطابق، 27ویں ترمیم کا مقصد وزراء، اعلیٰ حکام اور سرکاری اہلکاروں کو مخصوص معاملات میں **استثنیٰ** دینا ہے۔
یعنی ان کے خلاف کارروائی صرف مخصوص اجازت یا عملدرآمد کے بعد ممکن ہوگی۔
یہ بظاہر “حکومتی تسلسل” کے لیے قرار دیا گیا ہے، مگر اصل میں یہ ایک **فرعونی تصورِ اقتدار** ہے —
جہاں طاقت خود کو قانون سے بڑا سمجھنے لگتی ہے۔
اسلامی آئین میں تو واضح لکھا ہے:
> “تمام شہری قانون کے سامنے برابر ہیں۔”
پھر یہ برابری کہاں گئی؟
---
# # # 3️⃣ سیاسی و معاشی اثرات
اس ترمیم کے اثرات صرف عدالتی نہیں، معاشی بھی ہیں۔
جب حکمران طبقہ قانون سے آزاد محسوس کرتا ہے تو کرپشن میں اضافہ ناگزیر ہے۔
عوام کا ٹیکس، قرضے، ادارے — سب سیاسی مفاد کے تابع ہو جاتے ہیں۔
اس کا براہِ راست نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ سرمایہ کار عدمِ اعتماد کا شکار ہوتا ہے،
اور ملک میں ترقی کی رفتار مزید سست پڑ جاتی ہے۔
یہ قانون **جمہوریت میں فرعونی سوچ** کا دروازہ کھولتا ہے۔
---
# # # 4️⃣ عوام اور نوجوان طبقے پر اثر
پاکستان کا نوجوان آج سب سے زیادہ مایوس ہے۔
اسے روزگار نہیں، انصاف نہیں، اور اب آئین میں بھی “غیر مساوات” نظر آ رہی ہے۔
یہی نوجوان کل کو اس نظام سے بغاوت کرے گا —
کیونکہ جب قانون خود ام