15/05/2026
دونوں عالمی طاقتوں کی اہم میٹنگ میں ایک بھی عورت موجود نہیں ہے، اس کے پیچھے ایک نفسیاتی سوچ ہے جس پر یہ کئی سالوں سے دونوں ممالک عمل کر رہے ہیں انھوں نے عورت کو کبھی بھی حکم چلانے والے عہدے پر نہیں آنے دیا اور نہ کبھی آنے دیں گے،عورت کو صرف ویٹر، ٹرانسلیٹر، بریفنگ سیکریٹری اور سیکیورٹی تک محدود کیا ہوا ہے مغرب نے عورت کو آزادی صرف سیکس، جسم کی نمائش اور دنیا کو دکھانے کیلئے دی ہوئی ہے۔تاکہ اس عورت کا استحصال کیا جائے چین میں کمیونسٹ پارٹی اقتدار رکھتی ہے۔پارٹی کی اعلیٰ قیادت یعنی پولیٹ بیورو اسٹینڈنگ کمیٹی میں تاریخی طور پر خواتین کبھی نہیں آئیں۔
امریکہ جو آزادی اور انسانی حقوق کا علمبردار ہے وہاں بھی عورت کے صدر بننے کیلئے ثقافتی، سیاسی اور سماجی رکاوٹیں ہیں، وہاں کی ایجنسیاں اور ایسٹلشمنٹ کی شروع سے شاونزم سوچ رہی ہے کہ کسی عورت کو صدر نہیں بننے دینا یا پھر کسی ایسے عہدے پر نہیں جانے دینا جس سے وہ مرد پر حکم چلائے۔ بڑے سے بڑے عہدے دیئے ہیں لیکن وہ بھی کسی مرد کے ماتحت ہیں۔ امریکہ نے ہمیشہ کسی غریب ملک میں عورت کو عہددار بنا کر بھیجا تاکہ بتایا اور دکھایا جاسکے کہ وہ عورتوں کی آزادی کا خیال کرتے ہیں، اس طرح ان ممالک کے مردوں کو احساس کمتری کا شکار کیا جائے اور عورت میں بغاوت کا عنصر پیدا کیا جائے۔ جس سے خاندانی نظام ٹوٹ جائے۔
امریکہ میں ایک عورت ہیلری کلنٹن رات کو الیکشن جیت جاتی ہے صبح صدارت کی جیت کا اعلان ایک مرد ڈونلڈ ٹرمپ کا کر دیا جاتا ہے۔ہیلری کلنٹن کے خلاف زبردست منفی مہم چلائی گئی، ان کی آواز، لباس، مسکراہٹ تک پر امریکی میڈیا نے پراپیگنڈہ اور تنقید کی جبکہ دوسری طرف ایک مرد ٹرمپ کے ساتھ ایسا کچھ نہیں ہوا تھا۔ پھر کملا ہیرس 2024 کے الیکشن میں آئیں تو بھی میڈیا کوریج میں اہلیت پر بار بار سوال اٹھائے گئے، جبکہ ٹرمپ کو ہیرو کے طور پر پیش کیا گیا حالانکہ ٹرمپ پر کیس بھی تھے اور ایک عورت کیساتھ جنسی زیادتی کا کیس بھی تھا۔مگر وہ صدر منتخب ہوگئے۔لیکن یہ چھوٹے ممالک میں آزادی کا راگ الاپتے ہیں۔
پاکستان جیسے ترقی پزیر ملک میں دو بار ایک عورت بےنظیر بھٹو وزیراعظم منتخب ہوئیں، بنگلہ دیش، نیوزی لینڈ میں بھی عورت حکمرانی کرچکی ہے، جرمنی اور اٹلی میں بھی ہوا ہے لیکن خود کو بڑی جمہوریت کہنے والے کبھی عورت کو صدر یا وزیراعظم نہیں بنے دیتے وہ چاہے امریکہ ، انڈیا یا پھر اسرائیل ہو۔ ان کی پیچھے ان کی پرانی شاونزم سوچ اور کمزور عورت والی سائیکی ہے۔
لبرل ازم ، فیمنزم، ریڈیکل فیمنزم، پوسٹ ماڈرن فیمنزم ،جینڈر تھیوری، سیکسوئل ریولوشن، اور انٹرسیکشنل فیمنزم نے مغرب کی عورت کا آزادی اور خود مختاری کے نام استحصال کیا ہے۔ان تمام تھیوریز نے عورت کو یہ یقین دلایا کہ خاندان تمہارا دشمن ہے، آزادی تمہاری منزل ہے۔ بس خاندان ٹوٹا تو سب سے زیادہ نقصان خود عورتوں، بچوں اور معاشرے کو ہوا۔مردوں کو کوئی نقصان نہیں ہوا، آج مغرب میں ایک نئی تحریک "Tradwife" چل رہی ہے جس میں پڑھی لکھی خواتین خود کہہ رہی ہیں کہ گھر، خاندان اور بچے ہماری فطری ضرورت ہیں۔ لیکن جمہوریت اور آزادی کے نام پر انھوں نے اب ترقی یافتہ ممالک کی عورت کو اپنا استحصال کرنے کا راستہ دکھا دیا۔یہ خود کو شاونزم سمجھتے ہیں۔ اس وجہ سے کسی عورت کو آگے نہیں آنے دیتے۔ نہ کسی حکم چلانے والے عہدے پر بیٹھنے دیتے ہیں۔
تحریر:فرحان ملک