03/03/2025
گدا گیر مافیا صرف کراچی سے ایک ماہ میں 12 کروڑ روپے جمع کر لیتی ہے مجرمانہ انداز سے متحرک گراگیر مافیا کو جرائم پیشہ افراد کے علاوہ پولیس کی بھی سرپرستی حاصل ہوتی ہے ایک محتاط اندازے کے مطابق کراچی میں اس وقت کئی ہزار سرگرم بھیک مانگنے والے فقیر اور خواجہ سرا بھیک مانگنے میں سرگرم ہے .
کراچی کی مساجد دودھ والے کی دکان پرچون کی دکان تمام شاپنگ سینٹروں کے پاس مین بازار مارکیٹیں ہسپتال ٹریفک سگنل غرض ہر دس (10) ادمی کے پیچھے ایک فقیر اپ کو نظر اتا ہے کراچی میں غیر مقامی فقیروں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے یہ سلسلہ سارا سال تک چلتا رہتا ہے ان کی تعداد ماہ رمضان عید کے دنوں میں بہت بڑھ جاتی ہے.
اپ کراچی کی کسی بھی چوک یا بس اسٹاپ پر رکیں تو گداگیر ایک ہجوم کی طرح یلغار کرتے ہوئے اپ کے پیچھے لگ جاتے ہیں.
ان کے پاس اپ کو دل ہلا دینے والے فقرے اور پگھلا دینے والی دعائیں اور لرزا دیتی ہیں اگر اپ رقم نہ دیں تو دل دلانے والی بد دعائیں دینا شروع کر دیتے ہیں مگر کم لوگ جانتے ہیں کہ کمزور عقیدے سے کھیلنے والے اور انسانی ارزوؤں کی نفسیاتی سطح سے کھلواڑ کرنے والے یہ دراصل ایک پیشہ ور مافیہ ہے ان پیشہ ور بھکاریوں کو بھیک نہ دیں جنہیں انتہائی مجربانہ طور پر ایک منظم مافیا نیٹ ورک کے ذریعے چلایا جاتا ہے ایک سروے کے مطابق کراچی میں گدا گرو کی مافیا صرف ایک ماہ میں 12 کروڑ روپے بھیگ سے جمع کر لیتی ہے شہر قائد کراچی میں گدا گیروں کے بڑے بڑے گروہ ہیں جو سگنل چو رہاؤ پر قبضہ کیے ہوئے ہیں جیسے ہی سگنل اف ہوتا ہے بھکاریوں کی قطار گاڑیوں پر جھپٹ پڑتی ہے.
بھکاریوں کو منظم طور پر کچی ابادیوں میں بسایا جاتا ہے ان کو مخصوص گاڑیاں صبح ہی صبح ان کو ان کے مقامات پر چھوڑ جاتی ہے معزور لوگوں کو خاص پوائنٹ پر چھوڑا جاتا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ بھیک مل سکے رات گئے واپسی پر وہی گاڑیاں ان کو ان کے ٹھکانوں پر پہنچا دیتی ہیں .
کراچی میں بھیک مانگنے والے گروہ کے خاص مراکز شہر بھر کے مزارات
طارق روڈ بہادراباد گلشن اقبال گلستان جوہر بورڈ افس ناظم اباد حیدری ناگن چورنگی شیر شاہ علی مارکیٹ بولڈن مارکیٹ جونا مارکیٹ قائد اباد ملیر لانڈی کورنگی اورنگی ٹاؤن کی ماڑی کلفٹن نیلم کالونی تین تلوار ہجرت کالونی کالا پل کراچی بھر کے ہسپتال کراچی شہر بھر کی تمام مساجد ان کے اہم مراکز ہیں پولیس ذرائے کے مطابق کراچی میں اندرون سندھ اور جنوبی پنجاب کے علاقوں سے گداگیروں کی عام مرکز سلسلہ سالہ سال رہتا ہے دوسرے شہروں سے انے والے گداگیروں میں جرائم پیشہ افراد بھی ھوتے ہیں اسی لیے کراچی میں جرائم کی شرح میں 60 فیصد سے زائد وارداتیں ہوتی ہیں کراچی میں پہلے ہی گھروں میں ڈکیتیاں سٹریٹ وارداتیں بہت زیادہ ہیں سکیورٹی خدشات بھی بڑے ہوئے ہیں حکومت کا ہر ادارہ ویسے تو کراچی میں پیشہ ور گدا گیر اور خواجہ سراؤں کے خلاف ہر سال کریک ڈاؤن کا اعلان کرتا ہے لیکن عملی طور پر گراگیر مافیا کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا جاتا کراچی ان فقیروں کا کوئی ریکارڈ مقامی پولیس کے پاس نہیں ہے ان بھکاریوں میں اکثریت نے شناختی کارڈ بھی نہیں بنوائے گزشتہ سال جب شہریوں نے بڑی تعداد میں انے والے گداگری سے تنگ ا کر سوشل میڈیا پر خبریں چلانے لگے تو نمائشیں اپریشن کر کے چند گدا گیروں کو پکڑ کر عبدالستار ایدی فاؤنڈیشن کے حوالے کر دیا گیا
کراچی میں مقیم گدھاگیروں کی اب تک تعداد 2 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے پبلک ٹرانسپورٹ ایئرپورٹ کے اعتراف ریلوے اسٹیشن تجارتی مراکز بس اڈو سرکاری مقامات کہ اس پاس بھی بھکاریوں کی تعداد کافی ہوتی ہے جن میں مرد خواتین اور بچے اور ضعیف بھی شامل ہوتے ہیں کراچی پولیس اب تک گداگیروں کی ابادیوں کے مکینوں کا ڈیٹا جمع نہیں کر سکی ہے اور ہر سال کی طرح اس بار بھی گداگیروں کے خلاف کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی اخر میں حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث مبارک ہے کہ قیامت کے روز پیشہ ور بھکاریوں کے جسم پر گوشت نہیں ہوگا ان کے جسم پر صرف ہڈیاں ہوں گی اپ لوگ اپنی زکوۃ خیرات فطرہ ضرور دیں لیکن ان پیشہ ور بھکاریوں کو ہرگز نہ دیں اپنے قریبی عزیزوں اور رشتہ داروں اور پڑوسیوں کو تلاش کریں اور ان کی بھرپور مدد کریں.
#چمکتاکراچی