I cares Allot but WhO cArEs

I cares Allot but WhO cArEs

21/08/2021

30 males and 30 female staff required for online work
No age limits
No Qualification limits
No experience limits
Earn Rs. 30,000 or above depending on Hard work, consistency and dedication.
Only need your laptop and mobile if you are interested then DM me or follow WhatsApp link
https://wa.me/message/H27FUVZZ6SHQH1

25/09/2019

Hello Every body hope you all are doing well, I am going to boost this page kindly help by your comments and like and by your suggestions. Thank you

19/02/2018

Men jo jee raha hun........
Wajah tum hoo.

02/07/2016

" امتحان "
میں اپنے دشمن کو خفیہ طور پہ ہلاک کروانا چاہتا ہوں، تم مجھے ایسی زہر آلود دوا تیار کر کے دو جس سے میرا دشمن بھی ہلاک ہو جاۓ اور کسی کو پتہ بھی نہ چلے،
خلیفہ متوکل نے اپنے سامنے کھڑے طبیب سے کہا،
جو سپاہیوں کے درمیان گھرا ہوا تھا، یہ اس کیلۓ بہت مشکل وقت تھا اگر وہ ہاں کرتا تو ناحق قتل کی وجہ سے اللہ کو جواب دینا پڑتا اور اگر انکار کرتا تو خلیفہ اس کو قتل کر دیتا،
بالآخر اس نے کافی سوچ و بچار کے بعد جواب دیا،
مجھے صرف نفع بخش دواؤں کا علم ہے اس کے علاوہ میرا پیشہ ایسا ہے جس کا مقصد انسانیت کو فائدہ پہنچانا ہے ہلاک کرنا نہیں،
طبیب کا غیر متوقع جواب سن کر خلیفہ نے انعام و اکرام کی لالچ دی لیکن طبیب اپنی بات پر بدستور قائم رہا اور زہر آلود دوا تیار کرنے سے یکسر انکار کر دیا،
اچھا تو پھر جیل جانے کیلۓ تیار ہو جاؤ، خلیفہ نے دھمکی دیتے ہوۓ کہا اور طبیب کو قید کی سزا سنادی،
طبیب ایک عرصہ تک قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرتا رہا،
ایک عرصے بعد خلیفہ نے دوبارہ طبیب کو دربار میں طلب کیا، خلیفہ کی ایک طرف سونے چاندی کا ڈھیر لگا ہوا تھا جبکہ دوسری طرف تلوار پڑی تھی،
امید ہے اب تم کو سمجھ آگئ ہو گی، اب میرے دشمن کیلۓ زہر آلود دوا تیار کر دو اور میری فرمائش پوری کر دو، اس صورت میں سارا مال و اسباب تمہار ہو گا انکار کی صورت میں تمہاری گردن تلوار سے اتار دی جاۓ گی،
خلیفہ کی زور دار آواز دربار میں گونجی،
سب درباریوں کو یقین تھا کہ طبیب اب خلیفہ کی فرمائش پوری کر دے گا،
چند لمحے بعد دربار کے سکوت کو توڑتی ہوئی آواز حق بلند ہوئی، میرا علم صرف انسانیت کی فلاح و بہبود کیلۓ ہے کسی کو ناحق قتل کرنے کیلۓ نہیں، آپ اگر مجھے قتل کرنا چاہتے ہیں تو بیشک کر دیں لیکن میرے ناحق قتل پر اللہ آپ سے سخت باز پرس کرے گا،
طبیب نے پہلے کی طرح دوٹوک جواب دیا،
سب درباری یہ جواب سن کر حیرت زدہ رہ گۓ اب ان کے سامنے طبیب کا سر تن سے جدا ہونے والا تھا، لیکن اگلے ہی لمحے ان کی حیرت خوشی میں بدل گئ، جب خلیفہ نے تلوار میان میں ڈالتے ہوۓ طبیب کے پہلو میں باندھ دی اور طبیب خاص کے عہدے پر اس کا تقرر کرتے ہوۓ کہا،
اس عہدے پر مامور کرنے سے پہلے میں تمہارا امتحان لینا چاہتا تھا، اسلیۓ میں نے سال بھر تمہیں آزمایا، تم اس کڑی آزمائش میں میری توقع سے بڑھ کر نکلے، اسلیۓ میں تم کو اپنا طبیب خاص مقرر کرتا ہوں،
یہ طبیب حنین بن اسحاق تھے، اس قدر بلند اخلاق اور اعلی سیرت کے مالک تھے کہ ہر کوئی ان سے متاثر تھا، عراق کے ایک شہر میرہ کے رہنے والے تھے ان کا خاندان بنو عباد کے نام سے مشہور تھا اسی وجہ سے وہ حنین بن اسحاق مرانی العبادی کہلاتے تھے، انہوں نے اپنی عمر کا چالیس سال سے زائد عرصہ ترجمہ اور تحقیق و تالیف میں صرف کیا، آپ نے کل نوے کتابیں ترجمہ و تالیف کیں وہ ایک بلند پایہ طبیب ہونے کے علاوہ سائنسی مسائل میں ایک تحقیق کا درجہ بھی رکھتے تھے،

02/07/2016

شہر کا ماحول ایک سا تھا کہ ایک آدمی نے ایک باغ کے جھاڑ جھنکار سے کھجوریں چُنیں ایسی کھجوریں صرف شہر کے اسی باغ میں لگی تھیں لیکن لوگوں کو اس کھجور سے کوئی رغبت نہ تھی کہ اس کھجور میں نہ وہ نرمی تھی نہ اس کا وہ ذائقہ تھا رنگ بھی انتہائی گہرا اور دانہ بہت چھوٹا سا۔
وہ غریب آدمی جس کی ناک موٹی آنکھیں چھوٹی رنگت سیاہ چلتا تو ٹانگیں اٹک اٹک جاتیں بولتا تو زبان میں لکنت غربت سی غربت کی نسلی غلام رہا تھا کھجوریں جھولی میں ڈالیں شہر میں فروخت کرنے کی کوشش کر رہا تھا اس باغ کا یہ آخری پھل تھا جو اس آدمی کی جھولی میں تھا۔ شہر میں لیکن کوئی ان کھجوروں کا طلبگار نہ تھا یہاں تک کہ ایک فرد نے یوں آواز لگائی اے بلال رض یہ کھجور تو تجھ جیسی ہے کالی اور خشک۔
دل کا آبگینہ ٹھیس کھا گیا آنکھوں سے آنسو رواں بلال حبشی کھجوریں سمیٹ کر بیٹھ رہے۔ کہ ایسے میں وہاں سے اس کا گذر ہو جو ٹوٹے دلوں کا سہارا ہے جس نے مسکینوں کو عزت بخشی وہ جس کا نام ہے غمزدہ دلوں کی تسکین ہے ہاں وہی محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم آپ نے بلال رضی اللہ عنہ سے سب ماجرہ پوچھا تو آپ یوں گویا ہوئے
لوگو یہ کھجور “عجوہ“ ہے
یہ دل کے مرض کے لیئے شفاء ہے
یہ فالج کے لیئے شفاء ہے
یہ ستر امراض کے لیئے شفاء ہے
اور لوگو یہ کھجوروں کی سردار ہے
پھر یہاں بس نہیں کیا
فرمایا جو اسے کھا لے اسے جادو سے امان ہے۔
منظر بدل گیا وہ بلال رضی اللہ عنہ جس کے پاس چند لمحے پہلے تک جھاڑ جھنکار تھا اب رسول خدا صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اسے غنی کر دیا۔
پھر راوی لکھتے ہیں کہ لوگ بلال کی منتیں کرتے اور بلال کسی مچلے ہوئے بچے کی مانند آگے آگے بھاگتے۔
تاریخ گواہ ہے کہ وہ جسے کبھی دنیا جھاڑ جھنکار سمجھ رہی تھی بلال رضی اللہ عنہ کی جھولی میں آ کر اورمصطفٰے کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زبان مبارکہ کا صدقہ آج بھی کھجوروں کی سردار ہے۔

02/07/2016

وہ کتنی دیر سے آئینے کے سامنے کهڑی خود کو سنوار رہی تهی ،فنکشن میں وقت پر پہنچنا ضروری تها
اس لئے میرے غصے کی انتہا نہ رہی,
کیا وحشت هے؟آخر تم عورتوں کو سب سے منفرد نظر آنے کا جنون کیوں هے؟
اس لئے جناب تاکہ ان کے شوہر کی نگاہ کسی اور طرف نہ اٹهے ،بس جب دیکهے اپنی بیوی هی کو دیکهے ،
( وہ بڑی اپنائیت سے میرے ہاتھ پکڑتے هوئے بولی ، )
بڑا اچها بہانہ هے ،اپنے ذوق کی تسکین کا ،کبهی یہ سوچاهے کہ وهاں کتنے نامحرم هوتے هیں
میں غصے سے پهٹ پڑا ، تم میرے لئے نہیں ،دوسروں کے لئے خود کو سجاتی هو .
)بس یہیں مجهہ سے غلطی هوگئی ،میں سوچے سمجهے بغیر بول گیا
اس کی انا پر کاری ضرب لگی ،وہ ٹوٹ کر کر چی کرچی هو گئی
آئینے میں خود کو غور سے دیکها،واش روم میں گئی اور منہ دهو کر
باہر نکل آئی .
چلئے دیر هو رہی هے ،چادر لپیٹتے هوئے مجهہ سےآگے آگے چلنے لگی.
فنکشن سے واپسی پر کافی دیر هو گئی .میرا موڈ خراب تها .اس لئے
سیدها کمرے میں چلا گیا ،
رات کے پچهلے پہر پیاس کی شدت سے آنکھ کهل گئی ،پانی پینے کے لئے
اٹها تو اس پر نظر پڑی ،شائد کچھ لکهتے لکهتے سو گئی تهی ،میں نے آهستہ
سے ڈائری اٹها لی ،لکها تها،
مرد کا بهروسہ جیتنا بہت مشکل هے ،اپنے آپ کو بڑی اذیتوں سے گزارنا
پڑتا هے .پهر بهی پتہ نہیں چلتا ،کب کہا ں غلطی هو جاتی هے ،میں بهی اسی
بهروسے کو لے کر اب تک چلتی رهی اور سمجهتی رهی کہ میرا سجنا سنورنا
صرف عدیل کے لئے هے ،اور ان کی نظر پر صرف میرا حق هے ،ان کی محبت
میں اتنی غرق رهی کہ کبهی کسی دوسری طرف دهیان هی نہ گیا
لیکن یہ میری سب سے بڑی بهول تهی ،مرد اپنا ظرف وہیں آزماتے
هیں جہاں انہیں ہارنے کا ڈر نہیں هوتا ،سوآج میں ہار گئی ،میں نے
اپنا سب کچھ کهو دیا میرا مان ٹوٹ گیا
میں نے غور سے اس کے چہرے کو دیکها آنسو گال پر خشک هو چکے تهے
وہ معصوم چہرہ جسے میں بہت چاہتاتها آج کرب میں ڈوبا تها
وہ ایسی بکهری کہ پهر میری لاکھ کوششوں اور معافیوں کے
باوجود دوبارہ سمٹ نہ سکی
گهر کے معمولات میں کوئی فرق نہ آیا وہ اپنی ذمہ داریاں اسی
طرح نبهاتی رهی لیکن اس کے بعد
اس نے آئینہ دیکهنا چهوڑ دیا ...

02/07/2016

ﯾﮧ ﺟﻮ’’ ﻧﺎﻥ ﺳﯿﺮﯾﺲ ‘‘ ﻗﺴﻢ ﮐﮯ ﻟﻮﮒ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ﯾﮧ ﻋﺠﯿﺐ ﮨﻮﺗﮯ
ﮨﯿﮟ ۔ﯾﮧ ﺍﮐﺜﺮ ﮨﻨﺴﺘﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﻨﺴﺎﺗﮯ ﻧﻈﺮ ﺁﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔ﺑﮩﺖ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ
ﭘﺮ ﺭﺷﮏ ﺁﻧﮯ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ۔ﯾﻮﮞ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺩﮐﮫ ﻏﻢ ﻗﺴﻢ ﮐﯽ ﭼﯿﺰ ﮐﺒﮭﯽ
ﺩﯾﮑﮭﯽ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ۔ﻟﯿﮑﻦ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﮯ ﻧﮩﯿﮟ ... ﯾﮧ ﺳﻄﺤﯽ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ
ﻟﻮﮒ ﮨﻮﺗﮯ ﺑﮍﮮ ﮔﮩﺮﮮ ﮨﯿﮟ۔ﺁﭖ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺴﯽ ’’ﻧﺎﻥ ﺳﯿﺮﯾﺲ‘‘ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ
ﺍﻋﺘﻤﺎﺩ ﻣﯿﮟ ﻟﯿﺠﯿﮯ۔
ﺍُﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﭘُﺮﺳﮑﻮﻥ ﺟﮕﮧ ﺑﭩﮭﺎ ﮐﺮ ﮐﺮﯾﺪﯾﮯ ۔ﺍﻭّﻝ ﺗﻮ ﻭﮦ
ﺁﭖ ﮐﮯ ﺳﻮﺍﻟﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺫﺍﺕ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺩﻟﭽﺴﭙﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ
ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭩﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍُﮌﺍﺋﮯ ﮔﺎ۔ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﻋﺎﺩﺕ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺁﭖ ﮐﻮ
ﻟﻄﯿﻔﻮﮞ ،ﻗﺼّﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍُﻟﺠﮭﺎ ﮐﺮ ﺩﺍﻣﻦ ﭼﮭﮍﺍﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﺭﺳﯽ ﺗُﮍﺍﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ
ﮐﺮﮮ ﮔﺎ۔
ﻭﮦ ﯾﮧ ﺑﺎﻭﺭ ﮐﺮﺍﻧﮯ ﭘﺮ ﺍﺻﺮﺍﺭ ﮐﺮﮮ ﮔﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﺎ
ﻧﻮﭨﺲ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﯿﺎ ۔ ﺗﺠﺎﮨﻞِ ﻋﺎﺭﻓﺎﻧﮧ ﮐﺎ ﺳﮩﺎﺭﺍ ﻟﮯ ﮔﺎ۔ﺁﭖ ﮈﭨﮯ ﺭﮨﯿﮯ ۔ﮐﭽﮫ
ﺩﯾﺮ ﺑﻌﺪ ﻭﮦ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮨﺘﮭﯿﺎﺭ ﮈﺍﻝ ﺩﮮ ﮔﺎ ... ﻭﮦ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍﻥ ﮔﻨﺖ
ﻗﮩﻘﮩﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﺷﻤﺎﺭ ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭩﻮﮞ ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﺩﺑﮯ ﻭﮦ ﺩُﮐﮫ ﻧﮑﺎﻝ ﻧﮑﺎﻝ ﮐﺮ
ﺩﮐﮭﺎﺋﮯ ﮔﺎ ۔ ۔ ۔
ﻭﮦ ﮨﺮﺯﺧﻢ ﮐﯽ ﺍﻟﮓ ﺩﺍﺳﺘﺎﻥ ﺳﻨﺎﺋﮯ ﮔﺎ ۔ﻭﮦ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺯﻧﺪﮔﯽ
ﮐﮯ ﺑﮯ ﺷﻤﺎﺭ ﺳﺒﻖ ﺳﻤﺠﮭﺎﺋﮯ ﮔﺎ ۔ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺁﭖ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﺿﺮﻭﺭ
ﮨﻮﮞ ﮔﮯ ۔ ﻣﮕﺮ ﺟﺎﻥ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﮐﮧ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺴﯽ ﺍﯾﮏ ﺻﺪﻣﮯ،ﮐﺴﯽ ﺍﯾﮏ
ﺩﮐﮫ،ﮐﺴﯽ ﺍﯾﮏ ﻣﺤﺮﻭﻣﯽ ﮐﮯ ﺑﻮﺟﮫ ﺗﻠﮯ ﻋﻤﺮ ﮔﺰﺍﺭ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﻧﮩﯿﮟ ۔
ﺗﮑﻠﯿﻒ ﺩﮦ ﻭﺍﻗﻌﺎﺕ ﮐﺎ ﺳﺎﻣﻨﺎ ﮐﻮﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ۔
ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﺍﻧﺪﺭ ﺳﮯ ﺗﻮﮌ ﮐﺮ
ﺭﮐﮫ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺳﺎﻧﺤﺎﺕ ﮐﺲ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﭘﯿﺶ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﮯ۔ﻟﯿﮑﻦ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺍﭘﻨﮯ
ﭼﮩﺮﮮ ﮐﻮ ﮨﺮ ﻭﻗﺖ ﺩﮐﮭﻮﮞ ،ﻣﺤﺮﻭﻣﯿﻮﮞ ،ﻏﻤﻮﮞ ﮐﯽ ﺁﺭﭦ ﮔﯿﻠﺮﯼ ﺑﻨﺎﺋﮯ
ﺭﮐﮭﻨﮯ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﻧﮩﯿﮟ۔ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﻮ ﮐﺴﯽ ﺍﯾﮏ ﺻﺪﻣﮯ ﮐﯽ ﺑﮭﭩﯽ ﻣﯿﮟ
ﺟﮭﻮﻧﮏ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﻧﮩﯿﮟ۔ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺭﻭﺗﮯ ﺭﮨﻨﮯ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﻧﮩﯿﮟ ۔
ﯾﮧ ’’ ﻧﺎﻥ
ﺳﯿﺮﯾﺲ ‘‘ ﮐﮩﻼﺋﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻟﻮﮒ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﮮ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﮨﯿﮟ ۔
ﯾﮧ ﮔِﺮ ﮐﺮ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺍﯾﮏ ﻧﺌﮯ ﻭﻟﻮﻟﮯ ﺳﮯ ﺍُﭨﮭﻨﺎ ﺳﮑﮭﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﯾﮧ ﭨﻮﭦ ﮐﺮ ﺑﮑﮭﺮ
ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﺍﻟﮯ ﺩﻝ ﮐﯽ ﮐﺮﭼﯿﺎﮞ ﺍﮐﭩﮭﯽ ﮐﺮ ﭘﮭﺮ ﺳﮯ ﺟﻮﮌﻧﻨﺎ ﺳﮑﮭﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ﯾﮧ
ﺳﮑﮭﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﯽ ﻏﻢ ﺳﮯ ﻣﺮ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﺩﻝ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﮐﯿﻮﻧﮑﺮ ﺟِﻼﯾﺎ ﺟﺎ
ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ۔ﯾﮧ ﺑﻼ ﮐﮯ ﺧﻮﺩﺩﺍﺭ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﭘﻨﮯ ﻏﻢ ﮐﻮ ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﺣﺮﻑِ ﺗﺴﻠّﯽ
ﮐﮯ ﻋﻮﺽ ﮨﺮ ﮔﺰ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﯿﭽﺘﮯ۔
ﯾﮧ ﮨﻨﺴﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﭨﻮﭦ ﮐﺮ ﮨﻨﺴﺘﮯ ﮨﯿﮟ ۔ ﺑﮯ
ﭘﻨﺎﮦ ﮨﻨﺴﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ﺍﻥ ﮐﮯ ﻗﮩﻘﮩﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻧﺎﺗﻮﺍﻥ ﮨﻮ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺟﺬﺑﻮﮞ ﮐﻮ
ﺍﯾﮏ ﻧﺌﯽ ﺗﻮﺍﻧﺎﺋﯽ ﺑﺤﺸﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ﯾﮩﯽ ﻭﺟﮧ ﮨﮯ ﯾﮧ’’ ﻧﺎﻥ ﺳﯿﺮﯾﺲ ‘‘ ﻟﻮﮒ
ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮔﮭﺴﯿﭩﺘﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮔﺰﺍﺭﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔ﮨﺎﮞ ﮔﺰﺍﺭﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔ﯾﮧ ﮐﺴﯽ ﺍﯾﮏ ﺣﺎﺩﺛﮯ
ﮐﻮﮐﺒﮭﯽ ﺍﺗﻨﺎ ﺳﺮﮐﺶ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﮯ ﺩﯾﺘﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﻧﮩﯿﮟ گزار دے

30/06/2016

ایک نیک بادشاہ کے دور میں کسی فاحشہ عورت نے چار جگہ باقاعدہ شادیاں رچا رکھی تھیں۔ ایک سے خرچہ پانی لیتی، کچھ وقت گزارتی اور پھر میکے جانے کے بہانے دوسری جگہ مال بٹورنے پہنچ جاتی، آخر کب تک۔۔۔؟
بات نکلتے نکلتے سرکاری دربار تک جا پہنچی۔ تصدیق کیلئے اُسکی عدالت میں طلبی ہوئی۔ چونکہ اسلامی قانون نافذ تھا اس لئے زیادہ امکان یہی تھا کہ جب بات پایۂ ثبوت کو پہنچے گی تو اِس عورت کیلئے جان بچانا مشکل ہو جائے گا۔
اُس نے ایک سیانے وکیل سے مشورہ کیا۔ اس نے کہا، "اے خاتون! جان تو بچ سکتی ہے مگر فیس بھاری لگے گی۔۔۔!"
عورت نے کہا، "تم فیس کی پرواہ نہ کرو، جان ہے تو جہاں ہے۔ زندہ رہی تو پھر بھی کما لونگی۔۔۔!"، لہٰذا سارا زیور اور تمام جمع پونچی لا کر اُس وکیل کو دے دی۔
وکیل نے کہا عدالت میں یوں کہنا کہ "میں جمعے کے روز جامع مسجد کے پاس سے گزر رہی تھی، تو خطیب صاحب کہہ رہے تھے کہ "اسلام میں چار چار شادیوں کی اجازت ہے۔۔۔!"، چلتے چلتے میں بس اتنی بات ہی سن سکی تھی، تب میں نے اسلام کے اس حکم پر عمل کا ارادہ کر لیا اور پھر عمل کر ڈالا۔ مجھے یہ نہیں معلوم تھا کہ، یہ حکم صرف مردوں کے لئے تھا، عورتوں کے لئے نہیں۔۔۔!"
عزیز دوستو! پتہ نہیں اُس عدالت نے اس مقدمے کا فیصلہ کیا سنایا ہوگا۔ مگر چلتے چلتے آدھی بات سن کر ادھورے اسلام پر عمل کرنے کا رواج اب روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔ بڑے شہروں میں سحری اور افطاری کی تفصیلات پر مبنی بینر دیکھ کر یہی اندازہ ہوتا ہے کہ رمضان المبارک میں اصل چیز روزہ نہیں بلکہ سحری اور افطاری ہے۔
اِدھر سحری کا وقت ہوتا ہے تو لوگ بھیڑوں کی طرح سحری کرنے چل پڑتے ہیں، اور اُدھر افطاری کا وقت ہوتا ہے بےصبروں کی طرف اُدھر کھانے پینے پر ٹوٹ پڑتے ہیں، لیکن سحری و افطاری کے درمیان کیا کرنا چاہیے، اور کیا نہیں کرنا چاہیے، یہ بات اب اپنی اہمیت کھو چکی ہے۔
لوگ روزہ رکھ کے سارا دِن جھوٹ بولتے ہیں، غیبت کرتے ہیں، چوریاں کرتے ہیں، ملاوٹ کرتے ہیں، بُری نظروں سے دیکھتے ہیں۔ وقت گزاری کیلئے موسیقی، شطرنج، تاش اور دوسری کھیلوں سے محظوظ ہوتے ہیں، تو بتائیے روزے کی اصل روح کہاں برقرار رہے گی؟، جب روزے کا مقصد ہی فوت ہو جائے۔

29/06/2016

ایک مرتبہ حضرت موسٰی علیه السلام نے الله تعالی سے ععرض کی:
”اے الله! مجھے اپنے انصاف کا نمونہ دکھا.“
الله تعالی نے فرمایا:
”اے میرے کلیم اللہ! فلاں مقام کی طرف چلے جاؤ، وہاں تم میرے انصاف کا نمونہ دیکھ لوگے.“
حضرت موسیٰ علیہ السلام جگہ پہنچے. وہاں درخت کے جھنڈ تھے اور قریب ایک پانی کا چشمہ تھا. آپ درختوں کے پاس اس طرح بیٹھ گئے کہ کسی کو نظر نہ آسکیں.
چند لمحے بعد ایک گھڑسوار وہاں آیا. اس کے پاس اشرفیوں کی ایک تھیلی تھی. پانی پینے کے بعد وہ تھیلی وہیں بھول کر چلا گیا.
گھڑسوار کے جاتے ہی چشمے کے پاس ایک لڑکا آیا. اس نے اشرفیوں کی تھیلی دیکھی تو اسے اٹھا کر چلا گیا.
کچھ دیر بعد ایک اندھا شخص چشمے کے پاس آکر ہاتھ منہ دھونے لگا. اتنے میں گھڑسوار کو راستے میں یاد آیا کہ اشرفیوں کی تھیلی تو وہ چشمے کے پاس بھول آیا ہے. وہ واپس چشمے کے پاس آیا اور اس اندھے سے تھیلی کے بارے ميں پوچھا.
اندھے نے کہا:” مجھے خبر نہیں.“ گھڑسوار کو غصہ آیا اور اس نے اندھے کو قتل کر دیا.
حضرت موسیٰ علیہ السلام یہ سارا منظر دیکھ رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف وحی نازل فرمائی۔
”اے موسیٰ! اس لڑکے نے اپنا حق پالیا. اس گھڑسوار نے لڑکے کے والد سے ہزار اشرفیاں ظلماً چھینی تھیں. اور اس اندھے نے گھڑسوار کے والد کو ناحق قتل کر ڈالا تھا. ہر ایک حق دار کو اس کا حق مل گیا.“
اسے کہتے ہیں مکافات عمل...

29/06/2016

حضرت سیدنا جابررضی اللہ تعالیٰ عنہ حضورصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام علیہم الرضوان کے مجاہدات اور عبادات کاذکر کرتے ہوئے شمعِ رسالت کے دوپروانوں کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’ایک مرتبہ ہم رسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کسی غزوہ میں گئے، واپسی پر ہم پہاڑی علاقے سے گزرے اور رسو ل اللہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے وہاں قیام کاحکم فرمایا۔ سب صحابہ کرام علیہم الرضوان آرام کی خاطر وہاں ٹھہر گئے، اللہ کے محبوب عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:
’’آج رات تم میں سے کون پہرہ دے گا.........؟‘‘
ایک مہاجر اور ایک انصاری صحابی ر ضی اللہ تعالیٰ عنہما کھڑے ہوئے اور عرض کی:
’’یارسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم...! یہ سعادت ہم حاصل کرنا چاہتے ہیں، ہمیں قبول فرمالیجئے۔‘‘
چنانچہ وہ دونوں صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہما اجازت پاکر پہرہ دینے کے لئے تیار ہوگئے، دونوں نے مشورہ کیااور انصاری صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:
’’ہم ایسا کرتے ہیں کہ آدھی رات ہم میں سے ایک پہرہ دے گااور دوسرا سو جائے گا پھر بقیہ آدھی رات دوسرا پہرہ دے گا اور پہلا سو جائے گا، انصاری صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہنے فرمایا:
’’آپ آرام فرمائیں، میں جاگتاہوں پھر آپ پہرہ دینا پس مہاجر صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ آرام فرمانے لگے اور انصاری صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ پہرہ دینے کے لئے تیار ہوگئے۔ کچھ دیر کے بعد انہوں نے نماز پڑھنا شروع کردی اور سورۂ کہف کی قرائَت کرنے لگے۔ دشمنوں کی طرف سے ایک شخص آیا اور اس نے پہاڑی پر چڑھ کر دیکھا تو اسے ایک شخص نماز پڑھتا ہوا دکھائی دیا، اس نے کمان پرتیر چڑھایا اور نشانہ باندھ کر اس صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر تیر چلا دیا تیر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جسم میں پیوست ہوگیا لیکن آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کوئی حرکت نہ کی اور نمازمیں مشغول رہے اس ظالم نے دوسرا تیر مارا، وہ بھی آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جسم اقدس میں اتر گیا لیکن آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نماز نہ توڑی پھر اس نے تیسرا تیر مارا، وہ بھی سیدھا آیا اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو زخمی کرتا ہوا جسم میں پیوست ہوگیا۔آپ رضی اللہ تعا لیٰ عنہ نے رکوع وسجود کئے اور نماز مکمل کرنے کے بعد اپنے رفیق کو جگایا.... جب اس کافر نے دیکھا کہ یہاں یہ اکیلا نہیں بلکہ اس کے رفقاء بھی قریب ہی موجود ہیں تووہ فورا ًبھاگ گیا۔مہاجر صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے رفیق کی یہ حالت دیکھی توجلدی جلدی آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جسم سے تیر نکالے اور پوچھا:
’’جب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر دشمن نے حملہ کیا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھے جگایاکیوں نہیں........ ؟
‘‘ اس پر قرآن و نماز کے شیدائی ا س ا نصاری صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا:
’’میں نے نماز میں ایک سورت شروع کی ہوئی تھی میں نے یہ گوارا نہ کیا کہ سورت کو ادھورا چھوڑ کر نماز توڑ ڈالوں، خدا عزوجل کی قسم......! اگر مجھے حضو رصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے پہرے کی ذمہ داری نہ دی ہوتی تومیں اپنی جان دے دیتا لیکن سورت کو ضرور مکمل کرتا لیکن مجھے حضورصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے پہرہ دینے کا حکم فرمایا تھا اس لئے میری ذمہ داری تھی کہ اس کو احسن طریقے سے سر انجام دوں۔ جب میں نے دیکھا کہ میں بہت زیادہ زخمی ہوگیا ہوں تو اسی احساس ذمہ داری کی وجہ سے نماز کو مختصر کر دیا اور آپ رضی اللہ تعا لیٰ عنہ کو جگا دیا تاکہ دشمن مزید حملہ نہ کرسکے ۔‘‘...........!!!
اللہ اکبر ......
یااللّہ پاک ہمیں بھی ایسی نماز و تلاوت قرآن پاک کی محبت عطا فرما دے میرے رب تعالٰی .......
آمین ثم آمین .......

Address

Karachi
75300

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when I cares Allot but WhO cArEs posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to I cares Allot but WhO cArEs:

Share