23/10/2024
اگلا موقع
شروع میں ایک بچے کو پینسل سے لکھنا سکھایا جاتا ہے،
تاکہ اگر کوئی غلطی ہوجائے تو ربر سے مٹا کر اسے درست کرلے۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پینسل کی جگہ ہاتھ میں قلم پکڑا دیا جاتا ہے یہ سمجھانے کیلئے کہ اب آپ بڑے ہوگئے ہیں، اب اگر غلطی ہوئی تو اسے مٹانا ممکن نہیں بلکہ
اسے یاد رکھنا ہے،
اِس سے سبق لینا ہے،
پھر
اِسے کاٹ کر ٹھیک کرنا ہے۔
مٹانا نہیں ہے بلکہ ذہن میں محفوظ رکھنا ہے۔
اسی طرح
اپنی تربیت کیجئے،
اپنے آپ کو ٹرینڈ کیجئے،
اپنے آپ کو حوصلہ دیجئے،
اپنے اندر مثبت سوچ پیدا کیجئے،
یاد رکھئے:
ناکامی کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے۔
فیل (FAIL) ہونے کا مظلب "کچھ سیکھنے کی طرف پہلا قدم" یعنی
(۔FAIL = First Attempt In Learning ۔)
اور (-END-) کا مطلب خاتمہ یا سب کچھ ختم ہوجا نا نہیں ہے۔
بلکہ
(-END-) کا مطلب ہے (۔END = Effort Never Dies۔) یعنی جدوجہد کبھی نہیں ختم نہیں ہوتی۔
جب کبھی جواب نفی (NO) میں ملے تو اگلے موقعے کیلئے تیار ہوجائیے،
کیونکہ "(-NO-) کا معنی ہے "اگلا موقع"
(۔NO = Next Opportunity۔)
ہمارا رب ہمیں باربار موقع دیتا ہے، ہر رات اپنے بندے کو پکارتا ہے جیسا کہ اللہ کے محبوب پیغمبر ﷺ نے ہمیں خبر دی ہے: " ہمارا رب تبارک و تعالیٰ ہر رات کو اس وقت آسمان دنیا پر آتا ہے جب رات کا آخری تہائی حصہ رہ جاتا ہے۔ وہ کہتا ہے کوئی مجھ سے دعا کرنے والا ہے کہ میں اس کی دعا قبول کروں، کوئی مجھ سے مانگنے والا ہے کہ میں اسے دوں، کوئی مجھ سے بخشش طلب کرنے والا ہے کہ میں اس کو بخش دوں"۔ (صحيح البخاري/كِتَاب التَّهَجُّد/حدیث: 1145)
لہذا ہر لمحہ ایک موقع ہے،
ہر رات اگلہ موقع لے کر آتا ہے،
ہر اگلے موقعے سے فائدہ اٹھائیے،
یا کم از کم
ہر رات کے آخری پہر اپنے رب سے بخشش طلب کیجیے، مغفرت طلب کیجیے، استغفار کیجیے۔
پڑھیے:
أَسْتَغْفِرُ اللَّہَ الَّذِی لاَ إِلَہَ إِلاَّ ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ وَأَتُوبُ إِلَیْہِ
( میں اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرتا ہوں، جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ زندہ ہے اور قائم رکھنے والا ہے اور میں اسی سے توبہ کرتا ہوں )۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جس نے « أستغفر الله الذي لا إله إلا هو الحي القيوم وأتوب إليه» کہا تو اس کے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے اگرچہ وہ میدان جنگ سے بھاگ گیا ہو “۔ (سنن ابي داودسنن ابي داود: 1517)
مغفرت مل گئی تو دنیا و آخرت کی سارے غم سے نجات مل گئی۔ دنیا میں سب سے بڑا غم رزق کی تنگی کا غم ہے، جو استغفار کی برکت سے حل ہوتا ہے۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس نے استغفار کو لازم کر لیا تو اللہ تعالیٰ اسے ہر غم اور تکلیف سے نجات دے گا، اور ہر تنگی سے نکلنے کا راستہ پیدا فرما دے گا، اسے ایسی جگہ سے رزق عطا فرمائے گا، جہاں سے اسے وہم و گمان بھی نہ ہو گا “۔ (سنن ابن ماجه: 3819)
آج جس کو دیکھو وہ رزق کی تنگی کا رونا رو رہا ہوتا ہے۔ اس کا حل تو ہمارے نبی ﷺ نے ہمیں بتا دیا ہے۔ لیکن افسوس کہ لوگ اس حل کی طرف رجوع نہیں کرتے، استغفار کی کثرت نہیں کرتے بلکہ گناہ پر گناہ کیے جاتے ہیں اور ناجائز طریقے یعنی کرپشن و رشوت خوری اور جھوٹ و فریب سے رزق کی تنگی دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جس سے مال تو بڑھ سکتا ہے لیکن رزق کی تنگی دور نہیں ہوتی۔
یاد رکھیے: آپ کا کمایا ہوا حرام مال صرف آپ کو ہی نہیں بلکہ آپ کی متعدد نسلیں تباہ کرکے رہے گی اور نہ جانے کتنی نسلوں کی تباہی کا گناہ آپ کے سر ہوگا۔
لہذا حرام کمانا چھوڑ دیجیے، حرام کمانے سے توبہ کیجیے۔
اگر رزق میں تنگی ہے تو اسے دور کرنے کے لیے اللہ اور رسول اللہ ﷺ کا بتایا ہوا آزمودہ طریقہ اپنائیے۔
استغفار کو لازم کیجیے۔ استغفار کو لازم وہی کرے گا جو اللہ تعالیٰ سے ڈرے گا اور تقویٰ اختیار کرے گا، ارشاد باری ہے:
وَمَنْ يَتَّقِ اللهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لا يَحْتَسِبْ (سورة الطلاق)
”جو اللہ سے ڈرے گا اللہ اس کو ایسی جگہ سے رزق دے گا جس کا وہ گمان بھی نہیں رکھتا ہو گا“۔
لہذا دنیا و آخرت کے ہر غم سے نجات پانے کے لیے اپنے رب سے ہر لمحہ مغفرت طلب کیجیے، جب تک جان میں جان ہے تب تک ہمیں یہ موقع حاصل ہے۔ روح کے حلق میں پہنچتے ہی توبہ و استغفار کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہوجائے گا اور موت کسی بھی وقت آسکتی ہے۔ لہذا موت سے پہلے جتنا ممکن ہو کثرت سے استغفار کیجیے اور دنیا و آخرت کی ہر غم و تکلیف اور ہر تنگی سے نجات پائیے۔
اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو استغفار کی کثرت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
تحریر: محمد اجمل خان
کتاب: بابرکت زندگی۔
۔