Shamshad Memorial Welfare Trust - SMWT

Shamshad Memorial Welfare Trust - SMWT Shamshad Memorial Welfare Trust focuses on creating and reinforcing a positive individual identity through Education.

Shamshad Memorial Welfare Trust (SMWT) aims to provide FREE EDUCATION to those children, who may not afford to pay for education but have got the ability to qualify at high level. As, we strongly believe in equality, thus, we give opportunity to EVERY individual to be qualify at SMWT regardless of their social class, race and gender. In order to succeed in our mission, we have highly qualified, ex

perienced and well trained teachers who are: polite, respectful and encouraging. Shamshad Memorial Welfare Trust is open to ALL to support us in any possible ways. For Further Information, please do not hesitate to contact us on:

Mobile: +966582592927
Whatsapp: +066582592927

For Press Release and Guest Posting, Organic traffic🙂
10/07/2024

For Press Release and Guest Posting, Organic traffic🙂

14/12/2022

✍🏽حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے ایک دفعہ کسی نے پوچھا کہ آپ نے پہلی دفعہ حضور نبی کریم ؐصل اللہُ علیہ وآلہ وسلم
کو کیسے دیکھا ؟
حضرت بلال رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں مکے کے لوگوں کو بہت ہی کم جانتا تھا کیونکہ غلام تھا اور عرب میں غلاموں سے انسانیت سوز سلوک عام تھا انکی استطاعت سے بڑھ کے ان سے کام لیا جاتا تھا تو مجھے کبھی اتنا وقت ہی نہیں ملتا تھا کہ باہر نکل کے لوگوں سے ملوں لہذا مجھے حضور پاک یا اسلام یا اس طرح کی کسی چیز کا قطعی علم نہ تھا۔
✍🏽ایک دفعہ کیا ہوا کہ مجھے سخت بخار نے آ لیا سخت جاڑے کا موسم تھا اور انتہائی ٹھنڈ اور بخار نے مجھے کمزور کر کے رکھ دیا لہذا میں نے لحاف اوڑھا اور لیٹ گیا ادھر میرا مالک جو یہ دیکھنے آیا کہ میں جَو پیس رہا ہوں یا نہیں وہ مجھے لحاف اوڑھ کے لیٹا دیکھ کے آگ بگولا ہو گیا اس نے لحاف اتارا اور سزا کے طور پہ میری قمیض بھی اتروا دی اور مجھے کھلے صحن میں دروازے کے پاس بٹھا دیا کہ یہاں بیٹھ کے جَو پیس۔
اب سخت سردی اوپر سے بخار اور اتنی مشقت والا کام میں روتا جاتا تھا اور جَو پیستا جاتا تھا کچھ ہی دیر میں دروازے پہ دستک ہوئی میں نے اندر آنے کی اجازت دی تو ایک نہائت متین اور پر نور چہرے والا شخص اندر داخل ہوا اور پوچھا کہ جوان کیوں روتے ہو؟ 😥
جواب میں میں نے کہا کہ جاؤ اپنا کام کرو تمہیں اس سے کیا میں جس وجہ سے بھی روؤں یہاں پوچھنے والے بہت ہیں لیکن مداوا کوئی نہیں کرتا حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم یہ جملے سن کے چل پڑے، جب چل پڑے تو بلالؓ نے کہا کہ بس؟
میں نہ کہتا تھا کہ پوچھتے سب ہیں مداوا کوئی نہیں کرتا
حضور ﷺ یہ سن کر بھی چلتے رہے بلالؓ کہتے ہیں کہ دل میں جو ہلکی سی امید جاگی تھی کہ یہ شخص کوئی مدد کرے گا وہ بھی گئی۔ 🤎
لیکن بلالؓ کو کیا معلوم کہ جس شخص سے اب اسکا واسطہ پڑا ہے وہ رحمت اللعالمین ہیں۔
بلالؓ کہتے ہیں کہ کچھ ہی دیر میں وہ شخص واپس آ گیا۔ اس کے ایک ہاتھ میں گرم دودھ کا پیالہ اور دوسرے میں کھجوریں تھیں اس نے وہ کھجوریں اور دودھ مجھے دیا اور کہا کھاؤ پیو اور جا کے سو جاؤ۔
میں نے کہا تو یہ جَو کون پیسے گا؟
نہ پِیسے تو مالک صبح بہت مارے گا۔ اس نے کہا تم سو جاؤ یہ پسے ہوئے مجھ سے لے لینا
بلالؓ سو گئے اور حضور ﷺ نے ساری رات ایک اجنبی حبشی غلام کے لئے چکی پیسی۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح بلالؓ کو پسے ہوئے جو دیے اور چلے گئے دوسری رات پھر ایسا ہی ہوا، دودھ اور دوا بلالؓ کو دی اور ساری رات چکی پیسی ایسا تین دن مسلسل کرتے رہے جب تک کہ بلالؓ ٹھیک نہ ہو گئے۔۔
یہ تھا وہ تعارف جس کے بطن سے اس لافانی عشق نے جنم لیا کہ آج بھی بلالؓ کو صحابی ءِ رسول بعد میں، عاشقِ رسول پہلے کہا جاتا ہے۔❤️

✍🏽حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد سیدنا بلال رضی اللہ عنہ مدینہ کی گلیوں میں یہ کہتے پھرتے کہ لوگو تم نے کہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا ہے تو مجھے بھی دکھا دو، پھر کہنے لگے کہ اب مدینے میں میرا رہنا دشوار ہے، اور شام کے شہر حلب میں چلے گئے۔ 😥
تقریباً چھ ماہ بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خواب میں زیارت نصیب ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے :

ما هذه الجفوة، يا بلال! ما آن لک أن تزورنا؟

حلبي، السيرة الحلبيه، 2 : 308

’’اے بلال! یہ کیا بے وفائی ہے؟ (تو نے ہمیں ملنا چھوڑ دیا)، کیا ہماری ملاقات کا وقت نہیں آیا؟‘‘

✍🏽خواب سے بیدار ہوتے ہی اونٹنی پر سوار ہو کر
لبیک! یا سیدی یا رسول ﷲ! کہتے ہوئے مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوگئے۔ جب مدینہ منورہ میں داخل ہوئے تو سب سے پہلے مسجدِ نبوی پہنچ کر حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی نگاہوں نے عالمِ وارفتگی میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ڈھونڈنا شروع کیا۔ کبھی مسجد میں تلاش کرتے اور کبھی حجروں میں، جب کہیں نہ پایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر انور پر سر رکھ کر رونا شروع کر دیا اور عرض کیا :😭
یا رسول اللہ! آپ نے فرمایا تھا کہ آکر مل جاؤ، غلام حلب سے بہرِ ملاقات حاضر ہوا ہے۔ یہ کہا اور بے ہوش ہو کر مزارِ پُر انوار کے پاس گر پڑے، کافی دیر بعد ہوش آیا۔ اتنے میں سارے مدینے میں یہ خبر پھیل گئی کہ مؤذنِ رسول حضرت بلال رضی اللہ عنہ آگئے ہیں۔💙
مدینہ طیبہ کے بوڑھے، جوان، مرد، عورتیں اور بچے اکٹھے ہو کر عرض کرنے لگے کہ بلال! ایک دفعہ وہ اذان سنا دو جو محبوبِ اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں سناتے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں معذرت خواہ ہوں کیونکہ میں جب اذان پڑھتا تھا تو اشہد ان محمداً رسول ﷲ کہتے وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت سے مشرف ہوتا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دیدار سے اپنی آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچاتا تھا۔ اب یہ الفاظ ادا کرتے ہوئے کسے دیکھوں گا؟💚

بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے مشورہ دیا کہ حسنین کریمین رضی ﷲ عنہما سے سفارش کروائی جائے، جب وہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو اذان کے لیے کہیں گے تو وہ انکار نہ کر سکیں گے۔ چنانچہ امام حسین رضی اللہ عنہ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا :

يا بلال! نشتهی نسمع أذانک الذی کنت تؤذن لرسول ﷲ صلی الله عليه وآله وسلم فی المسجد.

سبکی، شفاء السقام : 239
هيتمی، الجوهر المنظم : 27

’’اے بلال! ہم آج آپ سے وہی اذان سننا چاہتے ہیں جو آپ (ہمارے ناناجان) اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس مسجد میں سناتے تھے۔‘‘

اب حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو انکار کا یارا نہ تھا، لہٰذا اسی مقام پر کھڑے ہوکر اذان دی جہاں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ظاہری حیات میں دیا کرتے تھے۔ بعد کی کیفیات کا حال کتبِ سیر میں یوں بیان ہوا ہے :

ذهبي، سير أعلام النبلاء، 1 : 2358
سبکي، شفاء السقام : 340
حلبي، السيرة الحلبيه، 3 : 308

’’جب آپ رضی اللہ عنہ نے (بآوازِ بلند) ﷲ اکبر ﷲ اکبر کہا، مدینہ منورہ گونج اٹھا (آپ جیسے جیسے آگے بڑھتے گئے🕋 جذبات میں اضافہ ہوتا چلا گیا)، جب اشھد ان لا الہ الا اﷲ کے کلمات ادا کئے گونج میں مزید اضافہ ہو گیا، جب اشھد ان محمداً رسول اﷲ کے کلمات پر پہنچے تو تمام لوگ حتی کہ پردہ نشین خواتین بھی گھروں سے باہر نکل آئیں (رقت و گریہ زاری کا عجیب منظر تھا) لوگوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد مدینہ منورہ میں اس دن سے زیادہ رونے والے مرد و زن نہیں دیکھے گئے۔😥

علامہ اقبال رحمۃ ﷲ علیہ اذانِ بلال رضی اللہ عنہ کو ترانۂ عشق قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں :

اذاں ازل سے ترے عشق کا ترانہ بنی
نماز اُس کے نظارے کا اک بہانہ بنی

ادائے دید سراپا نیاز تھی تیری💝
کسی کو دیکھتے رہنا نماز تھی تیری..

30/11/2019

وفات سے 3 روز قبل جبکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے گھر تشریف فرما تھے، ارشاد فرمایا کہ
"میری بیویوں کو جمع کرو۔"
تمام ازواج مطہرات جمع ہو گئیں۔
تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا:
"کیا تم سب مجھے اجازت دیتی ہو کہ بیماری کے دن میں عائشہ (رضی اللہ عنہا) کے ہاں گزار لوں؟"
سب نے کہا اے اللہ کے رسول آپ کو اجازت ہے۔
پھر اٹھنا چاہا لیکن اٹھہ نہ پائے تو حضرت علی ابن ابی طالب اور حضرت فضل بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما آگے بڑھے اور نبی علیہ الصلوة والسلام کو سہارے سے اٹھا کر سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے حجرے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے حجرے کی طرف لے جانے لگے۔
اس وقت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس (بیماری اور کمزوری کے) حال میں پہلی بار دیکھا تو گھبرا کر ایک دوسرے سے پوچھنے لگے
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو کیا ہوا؟
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو کیا ہوا؟
چنانچہ صحابہ مسجد میں جمع ہونا شروع ہو گئے اور مسجد شریف میں ایک رش لگ ہوگیا۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کا پسینہ شدت سے بہہ رہا تھا۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے اپنی زندگی میں کسی کا اتنا پسینہ بہتے نہیں دیکھا۔
اور فرماتی ہیں:
"میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے دست مبارک کو پکڑتی اور اسی کو چہرہ اقدس پر پھیرتی کیونکہ نبی علیہ الصلوة والسلام کا ہاتھ میرے ہاتھ سے کہیں زیادہ محترم اور پاکیزہ تھا۔"
مزید فرماتی ہیں کہ حبیب خدا علیہ الصلوات والتسلیم
سے بس یہی ورد سنائی دے رہا تھا کہ
"لا إله إلا الله، بیشک موت کی بھی اپنی سختیاں ہیں۔"
اسی اثناء میں مسجد کے اندر آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے بارے میں خوف کی وجہ سے لوگوں کا شور بڑھنے لگا۔
نبی علیہ السلام نے دریافت فرمایا:
"یہ کیسی آوازیں ہیں؟
عرض کیا گیا کہ اے اللہ کے رسول! یہ لوگ آپ کی حالت سے خوف زدہ ہیں۔
ارشاد فرمایا کہ مجھے ان پاس لے چلو۔
پھر اٹھنے کا ارادہ فرمایا لیکن اٹھہ نہ سکے تو آپ علیہ الصلوة و السلام پر 7 مشکیزے پانی کے بہائے گئے، تب کہیں جا کر کچھ افاقہ ہوا تو سہارے سے اٹھا کر ممبر پر لایا گیا۔
یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا آخری خطبہ تھا اور آپ علیہ السلام کے آخری کلمات تھے۔
فرمایا:
" اے لوگو۔۔۔! شاید تمہیں میری موت کا خوف ہے؟"
سب نے کہا:
"جی ہاں اے اللہ کے رسول"
ارشاد فرمایا:
"اے لوگو۔۔!
تم سے میری ملاقات کی جگہ دنیا نہیں، تم سے میری ملاقات کی جگہ حوض (کوثر) ہے، خدا کی قسم گویا کہ میں یہیں سے اسے (حوض کوثر کو) دیکھ رہا ہوں،
اے لوگو۔۔۔!
مجھے تم پر تنگدستی کا خوف نہیں بلکہ مجھے تم پر دنیا (کی فراوانی) کا خوف ہے، کہ تم اس (کے معاملے) میں ایک دوسرے سے مقابلے میں لگ جاؤ جیسا کہ تم سے پہلے (پچھلی امتوں) والے لگ گئے، اور یہ (دنیا) تمہیں بھی ہلاک کر دے جیسا کہ انہیں ہلاک کر دیا۔"
پھر مزید ارشاد فرمایا:
"اے لوگو۔۔! نماز کے معاملے میں اللہ سے ڈرو، اللہ سےڈرو۔ نماز کے معاملے میں اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو۔"
(یعنی عہد کرو کہ نماز کی پابندی کرو گے، اور یہی بات بار بار دہراتے رہے۔)
پھر فرمایا:
"اے لوگو۔۔۔! عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو، عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو، میں تمہیں عورتوں سے نیک سلوک کی وصیت کرتا ہوں۔"
مزید فرمایا:
"اے لوگو۔۔۔! ایک بندے کو اللہ نے اختیار دیا کہ دنیا کو چن لے یا اسے چن لے جو اللہ کے پاس ہے، تو اس نے اسے پسند کیا جو اللہ کے پاس ہے"
اس جملے سے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا مقصد کوئی نہ سمجھا حالانکہ انکی اپنی ذات مراد تھی۔
جبکہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ وہ تنہا شخص تھے جو اس جملے کو سمجھے اور زارو قطار رونے لگے اور بلند آواز سے گریہ کرتے ہوئے اٹھہ کھڑے ہوئے اور نبی علیہ السلام کی بات قطع کر کے پکارنے لگے۔۔۔۔
"ہمارے باپ دادا آپ پر قربان، ہماری مائیں آپ پر قربان، ہمارے بچے آپ پر قربان، ہمارے مال و دولت آپ پر قربان....."
روتے جاتے ہیں اور یہی الفاظ کہتے جاتے ہیں۔
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم (ناگواری سے) حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھنے لگے کہ انہوں نے نبی علیہ السلام کی بات کیسے قطع کردی؟ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا دفاع ان الفاظ میں فرمایا:
"اے لوگو۔۔۔! ابوبکر کو چھوڑ دو کہ تم میں سے ایسا کوئی نہیں کہ جس نے ہمارے ساتھ کوئی بھلائی کی ہو اور ہم نے اس کا بدلہ نہ دے دیا ہو، سوائے ابوبکر کے کہ اس کا بدلہ میں نہیں دے سکا۔ اس کا بدلہ میں نے اللہ جل شانہ پر چھوڑ دیا۔ مسجد (نبوی) میں کھلنے والے تمام دروازے بند کر دیے جائیں، سوائے ابوبکر کے دروازے کے کہ جو کبھی بند نہ ہوگا۔"
آخر میں اپنی وفات سے قبل مسلمانوں کے لیے آخری دعا کے طور پر ارشاد فرمایا:
"اللہ تمہیں ٹھکانہ دے، تمہاری حفاظت کرے، تمہاری مدد کرے، تمہاری تائید کرے۔
اور آخری بات جو ممبر سے اترنے سے پہلے امت کو مخاطب کر کے ارشاد فرمائی وہ یہ کہ:
"اے لوگو۔۔۔! قیامت تک آنے والے میرے ہر ایک امتی کو میرا سلام پہنچا دینا۔"
پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دوبارہ سہارے سے اٹھا کر گھر لے جایا گیا۔
اسی اثناء میں حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور ان کے ہاتھ میں مسواک تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کو دیکھنے لگے لیکن شدت مرض کی وجہ سے طلب نہ کر پائے۔ چنانچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دیکھنے سے سمجھ گئیں اور انہوں نے حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ سے مسواک لے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے دہن مبارک میں رکھ دی، لیکن حضور صلی اللہ علیہ و سلم اسے استعمال نہ کر پائے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسواک لے کر اپنے منہ سے نرم کی اور پھر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو لوٹا دی تاکہ دہن مبارک اس سے تر رہے۔
فرماتی ہیں:
" آخری چیز جو نبی کریم علیہ الصلوة والسلام کے پیٹ میں گئی وہ میرا لعاب تھا، اور یہ اللہ تبارک و تعالٰی کا مجھ پر فضل ہی تھا کہ اس نے وصال سے قبل میرا اور نبی کریم علیہ السلام کا لعاب دہن یکجا کر دیا۔"
أم المؤمنين حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا مزید ارشاد فرماتی ہیں:
"پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی بیٹی فاطمہ تشریف لائیں اور آتے ہی رو پڑیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھہ نہ سکے، کیونکہ نبی کریم علیہ السلام کا معمول تھا کہ جب بھی فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا تشریف لاتیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم انکے ماتھے پر بوسہ دیتےتھے۔
حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اے فاطمہ! "قریب آجاؤ۔۔۔"
پھر حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کے کان میں کوئی بات کہی تو حضرت فاطمہ اور زیادہ رونے لگیں، انہیں اس طرح روتا دیکھ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا اے فاطمہ! "قریب آؤ۔۔۔"
دوبارہ انکے کان میں کوئی بات ارشاد فرمائی تو وہ خوش ہونے لگیں۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد میں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا سے پوچھا تھا کہ وہ کیا بات تھی جس پر روئیں اور پھر خوشی اظہار کیا تھا؟
سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا کہنے لگیں کہ
پہلی بار (جب میں قریب ہوئی) تو فرمایا:
"فاطمہ! میں آج رات (اس دنیاسے) کوچ کرنے والا ہوں۔
جس پر میں رو دی۔۔۔۔"
جب انہوں نے مجھے بےتحاشا روتے دیکھا تو فرمانے لگے:
"فاطمہ! میرے اہلِ خانہ میں سب سے پہلے تم مجھ سے آ ملو گی۔۔۔"
جس پر میں خوش ہوگئی۔۔۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنھا فرماتی ہیں:
پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کو گھر سے باھر جانے کا حکم دیکر مجھے فرمایا:
"عائشہ! میرے قریب آجاؤ۔۔۔"
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زوجۂ مطہرہ کے سینے پر ٹیک لگائی اور ہاتھ آسمان کی طرف بلند کر کے فرمانے لگے:
مجھے وہ اعلیٰ و عمدہ رفاقت پسند ہے۔ (میں الله کی، انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کی رفاقت کو اختیار کرتا ہوں۔)
صدیقہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں:
"میں سمجھ گئی کہ انہوں نے آخرت کو چن لیا ہے۔"
جبرئیل علیہ السلام خدمت اقدس میں حاضر ہو کر گویا ہوئے:
"یارسول الله! ملَکُ الموت دروازے پر کھڑے شرف باریابی چاہتے ہیں۔ آپ سے پہلے انہوں نے کسی سے اجازت نہیں مانگی۔"
آپ علیہ الصلوة والسلام نے فرمایا:
"جبریل! اسے آنے دو۔۔۔"
ملَکُ الموت نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے گھر میں داخل ہوئے، اور کہا:
"السلام علیک یارسول الله! مجھے اللہ نے آپ کی چاہت جاننے کیلئےبھیجا ہے کہ آپ دنیا میں ہی رہنا چاہتے ہیں یا الله سبحانہ وتعالی کے پاس جانا پسند کرتے ہیں؟"
فرمایا:
"مجھے اعلی و عمدہ رفاقت پسند ہے، مجھے اعلی و عمدہ رفاقت پسند ہے۔"
ملَکُ الموت آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کے سرہانے کھڑے ہوئے اور کہنے لگے:
"اے پاکیزہ روح۔۔۔!
اے محمد بن عبدالله کی روح۔۔۔!
الله کی رضا و خوشنودی کی طرف روانہ ہو۔۔۔!
راضی ہوجانے والے پروردگار کی طرف جو غضبناک نہیں۔۔۔!"
سیدہ عائشہ رضی الله تعالی عنہا فرماتی ہیں:
پھر نبی کریم صلی الله علیہ وسلم ہاتھ نیچے آن رہا، اور سر مبارک میرے سینے پر بھاری ہونے لگا، میں سمجھ گئی کہ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کا وصال ہو گیا۔۔۔ مجھے اور تو کچھ سمجھ نہیں آیا سو میں اپنے حجرے سے نکلی اور مسجد کی طرف کا دروازہ کھول کر کہا۔۔
"رسول الله کا وصال ہوگیا۔۔۔! رسول الله کا وصال ہوگیا۔۔۔!"
مسجد آہوں اور نالوں سے گونجنے لگی۔
ادھر علی کرم الله وجہہ جہاں کھڑے تھے وہیں بیٹھ گئے پھر ہلنے کی طاقت تک نہ رہی۔
ادھر عثمان بن عفان رضی الله تعالی عنہ معصوم بچوں کی طرح ہاتھ ملنے لگے۔
اور سیدنا عمر رضی الله تعالی عنہ تلوار بلند کرکے کہنے لگے:
"خبردار! جو کسی نے کہا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے ہیں، میں ایسے شخص کی گردن اڑا دوں گا۔۔۔! میرے آقا تو الله تعالی سے ملاقات کرنے گئے ہیں جیسے موسی علیہ السلام اپنے رب سے ملاقات کوگئے تھے، وہ لوٹ آئیں گے، بہت جلد لوٹ آئیں گے۔۔۔۔! اب جو وفات کی خبر اڑائے گا، میں اسے قتل کرڈالوں گا۔۔۔"
اس موقع پر سب زیادہ ضبط، برداشت اور صبر کرنے والی شخصیت سیدنا ابوبکر صدیق رضی الله تعالی عنہ کی تھی۔۔۔ آپ حجرۂ نبوی میں داخل ہوئے، رحمت دوعالَم صلی الله علیہ وسلم کے سینۂ مبارک پر سر رکھہ کر رو دیئے۔۔۔
کہہ رہے تھے:
وآآآ خليلاه، وآآآ صفياه، وآآآ حبيباه، وآآآ نبياه
(ہائے میرا پیارا دوست۔۔۔! ہائے میرا مخلص ساتھی۔۔۔!ہائے میرا محبوب۔۔۔! ہائے میرا نبی۔۔۔!)
پھر آنحضرت صلی علیہ وسلم کے ماتھے پر بوسہ دیا اور کہا:
"یا رسول الله! آپ پاکیزہ جئے اور پاکیزہ ہی دنیا سے رخصت ہوگئے۔"
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ باہر آئے اور خطبہ دیا:
"جو شخص محمد صلی الله علیہ وسلم کی عبادت کرتا ہے سن رکھے آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کا وصال ہو گیا اور جو الله کی عبادت کرتا ہے وہ جان لے کہ الله تعالی شانہ کی ذات ھمیشہ زندگی والی ہے جسے موت نہیں۔"
سیدنا عمر رضی الله تعالی عنہ کے ہاتھ سے تلوار گر گئی۔۔۔
عمر رضی الله تعالی عنہ فرماتے ہیں:
پھر میں کوئی تنہائی کی جگہ تلاش کرنے لگا جہاں اکیلا بیٹھ کر روؤں۔۔۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی تدفین کر دی گئی۔۔۔
سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
"تم نے کیسے گوارا کر لیا کہ نبی علیہ السلام کے چہرہ انور پر مٹی ڈالو۔۔۔؟"
پھر کہنے لگیں:
"يا أبتاه، أجاب ربا دعاه، يا أبتاه، جنة الفردوس مأواه، يا أبتاه، الى جبريل ننعاه."
(ہائے میرے پیارے بابا جان، کہ اپنے رب کے بلاوے پر چل دیے، ہائے میرے پیارے بابا جان، کہ جنت الفردوس میں اپنے ٹھکانے کو پہنچ گئے، ہائے میرے پیارے بابا جان، کہ ہم جبریل کو ان کے آنے کی خبر دیتے ہیں۔)
اللھم صل علی محمد کما تحب وترضا۔ میں نے آج تک اس سے اچّھا پیغا م کبھی پوسٹ نہیں کیا۔اسلۓ آپ سے گزارش کہ آپ اسے پورا سکون و اطمینان کے ساتھ پڑھۓ۔ان شاء اللہ ، آپکا ایمان تازہ ہوجاۓگا۔“

12/10/2019

خاموش محبت
حضرت نظام الدین اولیاءؒ اکثر ایک جملہ کہا کرتے تھے کہ ’’ہم سے تو دھوبی کا بیٹا ہی خوش نصیب نکلا، ہم سے تو اتنا بھی نہ ہو سکا‘‘۔ پھر غش کھا جاتے- ایک دن ان کے مریدوں نے پوچھ لیا کہ حضرت یہ دھوبی کے بیٹے والا کیا ماجرا ہے

آپؒ نے فرمایا ایک دھوبی کے پاس محل سے کپڑ ے دھلنے آیا کرتے تھے اور وہ میاں بیوی کپڑ ے دھو کر استری کر کے واپس محل پہنچا دیا کرتے تھے، ان کا ایک بیٹا بھی تھا جو جوان ہوا تو کپڑ ے دھونے میں والدیں کا ھاتھ بٹانے لگا، کپڑ وں میں شہزادی کے کپڑ ے بھی آ تے تھے، جن کو دھوتے دھوتے وہ شہزادی کے نادیدہ عشق میں مبتلا ہو گیا، محبت کے اس جذبے کے جاگ جانے کے بعد اس کے اطوار تبدیل ہو گئے، وہ شہزادی کے کپڑ ے الگ کرتا انہیں خوب اچھی طرح دھوتا،

انہیں استری کرنے کے بعد ایک خاص نرالے انداز میں تہہ کر کے رکھتا، سلسلہ چلتا رہا آخر والدہ نے اس تبدیلی کو نوٹ کیا اور دھوبی کے کان میں کھسر پھسر کی کہ یہ تو لگتا ہے سارے خاندان کو مروائے گا،

یہ تو شہزادی کے عشق میں مبتلا ہو گیا ہے، والد نے بیٹے کے کپڑ ے دھونے پر پابندی لگا دی، ادھر جب تک لڑکا محبت کے زیر اثر محبوب کی کوئی خدمت بجا لاتا تھا، محبت کا بخار نکلتا رہتا تھا، مگر جب وہ اس خدمت سے ہٹایا گیا تو لڑکا بیمار پڑ گیا اور چند دن کے بعد فوت ہو گیا۔

ادھر کپڑوں کی دھلائی اور تہہ بندی کا انداز بدلا تو شہزادی نے دھوبن کو بلا بھیجا اور اس سے پوچھا کہ میرے کپڑے کون دھوتا ہے دھوبن نے جواب دیا کہ شہزادی عالیہ میں دھوتی ہوں، شہزادی نے کہا پہلے کون دھوتا تھا دھوبن نے کہا کہ میں ہی دھوتی تھی، شہزادی نے اسے کہا، کہ یہ کپڑا تہہ کرو، اب دھوبن سے ویسے تہہ نہیں ہوتا تھا، شہزادی نے اسے ڈانٹا کہ تم جھوٹ بولتی ہو، سچ سچ بتاؤ ورنہ سزا ملے گی، دھوبن کے سامنے کوئی دوسرا رستہ بھی نہیں تھا کچھ دل بھی غم سے بھرا ہوا تھا،

وہ زار و قطار رونے لگ گئی، اور سارا ماجرا شہزادی سے کہہ دیا، شہزادی یہ سب کچھ سن کر سناٹے میں آ گئی۔پھر اس نے سواری تیار کرنے کا حکم دیا اور شاہی بگھی میں سوار ہو کر پھولوں کا ٹوکرا بھر کر لائی اور مقتول محبت کی قبر پر سارے پھول چڑھا دیے، زندگی بھر اس کا یہ معمول رہا کہ وہ اس دھوبی کے بچے کی برسی پر اس کی قبر پر پھول چڑ ھانے ضرور آتی۔یہ بات سنانے کے بعد حضرت کہتے، اگر ایک انسان سے بن دیکھے محبت ہوسکتی ہے تو بھلا اللّٰہ سے بن دیکھے محبت کیوں نہیں ہو سکتی

ایک انسان سے محبت اگر انسان کے مزاج میں تبدیلی لا سکتی ہے اور وہ اپنی پوری صلاحیت اور محبت اس کے کپڑ ے دھونے میں بروئےکار لا سکتا ہے تو کیا ہم لوگ اللّٰہ سے اپنی محبت کو اس کی نماز پڑھنے میں اسی طرح دل وجان سے نہیں استعمال کر سکتے
مگر ہم بوجھ اتارنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اگر شہزادی محبت سے تہہ شدہ کپڑوں کے انداز کو پہچان سکتی ہے تو کیا رب کریم بھی محبت سے پڑھی گئی نماز اور پیچھا چھڑانے والی نماز کو سمجھنے سے عاجز ہے
حضرت نظام الدین اولیاءؒ پھر فرماتے وہ دھوبی کا بچہ اس وجہ سے کامیاب ہے کہ اس کی محبت کو قبول کر لیا گیا جبکہ ہمارے انجام کا کوئی پتہ نہیں قبول ہوگی یا منہ پر ماردی جائے گی، اللّٰہ جس طرح ایمان اور نماز روزے کا مطالبہ کرتا ہے اسی طرح محبت کا تقاضا بھی کرتا ہے، یہ کوئی مستحب نہیں فرض ہے مگر ہم غافل ہیں ۔

پھر فرماتے اللّٰہ کی قسم اگر یہ نمازیں نہ ہوتیں تو اللّٰہ سے محبت کرنے والوں کے دل اسی طرح پھٹ جاتے جس طرح دھوبی کے بچے کا دل پھٹ گیا تھا، یہ ساری ساری رات کی نماز ایسے ہی نہیں پڑھی جاتیں کوئی جذبہ کھڑا رکھتا ہے، فرماتے یہ نسخہ اللّٰہ پاک نے اپنے نبی ﷺ کے دل کی حالت دیکھ کر بتایا تھا کہ آپ نماز پڑھا کیجئے اور رات بھر ہماری باتیں دہراتے رھا کیجئے آرام ملتا رہے گا، اسی وجہ سے نماز کے وقت آپ فرماتے تھے

’’أرحنا بها يابلال"۔
اے بلال ہمارے سینے میں ٹھنڈک ڈال دے اذان دے کر‘

26/08/2019
25/08/2019

وہ لوگ جو اپنے گھرانوں کے بچوں کے کردار کی بہترین تربیت کے خواہشمند ہیں، انکی خدمت میں کچھ گزارشات ہیں جن سے
انشاءاللہ تعالیٰ آپ کے بچوں میں پاکیزگی پیدا ہوگی.
❶ - *بچوں کو زیادہ وقت تنہا مت رہنے دیں*
*آج کل بچوں کو ہم الگ کمرہ، کمپیوٹر اور موبائل جیسی سہولیات دے کر ان سے غافل ہو جاتے ہیں…. یہ قطعاً غلط ہے* بچوں پر غیر محسوس طور پر نظر رکھیں
اور خاص طور پر انہیں اپنے کمرے کا دروازہ بند کر کے بیٹھنے مت دیں. کیونکہ تنہائی شیطانی خیالات کو جنم دیتی ہے. جس سے بچوں میں منفی خیالات جنم لیتے ہیں اور وہ غلط سرگرمیوں کا شکار ہونے لگتے ہیں۔

❷- *بچوں کے دوستوں اور بچیوں کی سہیلیوں پہ خاص نظر رکھیں. تاکہ آپ کے علم میں ہو کہ آپکا بچہ یا بچی کا میل جول کس قسم کے لوگوں سے ہے.*

❸ - *بچوں بچیوں کے دوستوں اور سہیلیوں کو بھی ان کے ساتھ کمرہ بند کرکے نہ بیٹھنے دیں*.
اگر آپ کا بچہ اپنے کمرے میں ہی بیٹھنے پر اصرار کرے تو کسی نہ کسی بہانے سے گاہے بہ گاہے چیک کرتے رہیں.

❹ *بچوں کو فارغ نہ رکھیں فارغ ذہن شیطان کی دکان ہوتا ہے* اور بچوں کا ذہن سلیٹ کی مانند صاف ہوتا ہے. بچپن ہی سے وہ عمر کے اس دور میں ہوتے ہیں جب انکا ذہن اچھی یا بری ہر قسم کی چیز کا فوراً اثر قبول کرتا ہے. اس لئے انکی دلچسپی دیکھتے ہوئے انہیں کسی صحت مند مشغلہ میں مصروف رکھیں.
*ٹی وی وقت گزاری کا بہترین مشغلہ نہیں بلکہ سفلی خیالات جنم دینے کی مشین ہے اور ویڈیو گیمز بچوں کو بے حس اور متشدد بناتی ہیں.*
❺ - *ایسے کھیل جن میں جسمانی مشقت زیادہ ہو وہ بچوں کے لئے بہترین ہوتے ہیں* تاکہ بچہ کھیل کود میں خوب تھکے اور اچھی گہری نیند سوئے.

❻ - *بچوں کے دوستوں اور مصروفیات پر گہری نظر رکھیں*
*یاد رکھیں والدین بننا فل ٹائم جاب ہے. اللّہ تعالی نے آپکو اولاد کی نعمت سے نواز کر ایک بھاری ذمہ داری بھی عائد کی ہے.*

❼ - *بچوں کو رزق کی کمی کے خوف سے پیدائش سے پہلے ہی ختم کردینا ہی قتل کے زمرے میں نہیں آتا، بلکہ اولاد کی ناقص تربیت کرکے انکو جہنم کا ایندھن بننے کے لئے بے لگام چھوڑ دینا بھی انکے قتل کے برابر ہے.*

❽ -*اپنے بچوں کو نماز کی تاکید کریں اور ہر وقت پاکیزہ اور صاف ستھرا رہنے کی عادت ڈالیں.
کیونکہ جسم اور لباس کی پاکیزگی ذہن اور روح پر بھی مثبت اثرات مرتب کرتی ہے.
❾- *بچیوں کو سیدھا اور لڑکوں کو الٹا لیٹنے سے منع کریں.*
*_حضرت عمر رضی اللّہ تعالیٰ اپنے گھر کی بچیوں اور بچوں پر اس بات میں سختی کرتے تھے.
*ان دو حالتوں میں لیٹنے سے سفلی خیالات زیادہ آتے ہیں. بچوں کو دائیں کروٹ سے لیٹنے کا عادی بنائیں.*

🔟 *بلوغت کے نزدیک بچے جب واش روم میں معمول سے زیادہ دیر لگائیں تو کھٹک جائیں اور انہیں نرمی سے سمجھائیں.* اگر ان سے اس معاملے میں بار بار شکایت ہو تو تنبیہ کریں. لڑکوں کو انکے والد جبکہ لڑکیوں کو ان کی والدہ سمجھائیں.

❶❶ - *بچوں کو بچپن ہی سے اپنے مخصوص اعضاء کو مت چھیڑنے دیں.* یہ عادت آگے چل کر بلوغت کے نزدیک یا بعد میں بچوں میں اخلاقی گراوٹ اور زنا کا باعث بن سکتی ہے
❷❶- *بچوں کو اجنبیوں سے گھلنے ملنے سے منع کریں اور اگر وہ کسی رشتہ دار سے بدکتا ہے یا ضرورت سے زیادہ قریب ہے تو غیر محسوس طور پر پیار سے وجہ معلوم کریں*

❹❶- *بچوں کا 5 یا 6 سال کی عمر سے بستر اور ممکن ہو تو کمرہ بھی الگ کر دیں تاکہ انکی معصومیت تا دیر قائم رہ سکے.*

❺❶- *بچوں کے کمرے اور چیزوں کو غیر محسوس طور پر چیک کرتے رہیں.*
آپ کے علم میں ہونا چاہئے کہ آپ کے بچوں کی الماری کس قسم کی چیزوں سے بھری ہے. مسئلہ یہ ہے کہ آج کے دور میں پرائیویسی نام کا عفریت میڈیا کی مدد سے ہم پر مسلط کر دیا گیا ہے
*اس سے خود کو اور اپنے بچوں کو بچائیں. کیونکہ نوعمر بچوں کی نگرانی بھی والدین کی ذمہ داری ہے*۔

*یاد رکھیں آپ بچوں کے ماں باپ ہیں، آج کے دور میں میڈیا والدین کا مقام بچوں کی نظروں میں کم کرنے کی سرتوڑ کوشش کر رہاہے. ہمیں اپنے بچوں کو اپنے مشفقانہ عمل سے اپنی خیرخواہی کا احساس دلانا چاہئے اور نوبلوغت کے عرصے میں ان میں رونما ہونے والی جسمانی تبدیلیوں کے متعلق رہنمائی کرتے رہنا چاہیے تاکہ وہ گھر کے باہر سے حاصل ہونے والی غلط قسم کی معلومات پہ عمل کرکے اپنی زندگی خراب نہ کر لیں.*

❻❶- *بچوں کو بستر پر تب جانے دیں جب خوب نیند آ رہی ہو اور جب وہ اٹھ جائیں تو بستر پر مزید لیٹے مت رہنے دیں۔
❼❶- *والدین بچوں کے سامنے ایک دوسرے سے جسمانی بے تکلفی سے پرہیز کریں.*
*ورنہ بچے وقت سے پہلے ان باتوں کے متعلق با شعور ہو جائیں گے جن سے ایک مناسب عمر میں جا کر ہی آگاہی حاصل ہونی چاہئے* .
نیز والدین بچوں کو ان کی غلطیوں پہ سرزنش کرتے ہوئے بھی باحیا اور مہذب الفاظ کا استعمال کریں. ورنہ بچوں میں وقت سے پہلے بےباکی آ جاتی ہے جس کا خمیازہ والدین کو بھی بھگتنا پڑتا ہے۔
❽❶-*تیرہ چودہ سال کے ہوں تو لڑکوں کو انکے والد اور بچیوں کو انکی والدہ سورۃ یوسف اور سورۃ النور کی تفسیر سمجھائیں یا کسی عالم، عالمہ سے پڑھوائیں کہ کس طرح *حضرت یوسف علیہ السلام* نے بے حد خوبصورت اور نوجوان ہوتے ہوئے ایک بے مثال حسن کی مالک عورت کی ترغیب پر بھٹکے نہیں. بدلے میں *اللّہ تعالی*ٰ کے مقرب بندوں میں شمار ہوئے. اس طرح بچے بچیاں *ان شاءاللّہ تعالیٰ* اپنی پاکدامنی کو معمولی چیز نہیں سمجھیں گے اور اپنی عفت و پاکدامنی کی خوب حفاظت کریں گے۔
*_آخر میں گذارش یہ ہے کہ ان کے ذہنوں میں بٹھا دیں کہ اس دنیا میں حرام سے پرہیز کا روزہ رکھیں گے تو *
انشاءاللہ تعالیٰ* آخرت میں * اللّہ سبحان وتعالیٰ* کے عرش کے سائے تلے حلال سے افطاری کریں گے._
*اللّہ تعالیٰ* امت مسلمہ کے تمام بچوں کی عصمت کی حفاظت فرمائے اور ان کو شیطان اور اس کے چیلوں سے اپنی حفظ و امان میں رکھے___!!! آمین___!!!!

25/08/2019

اسلامی فوج کے چیف آف آرمی سٹاف کااثاثہ،،، ،،،،،،،،،،،،،،،،،،

ﺣﻀﺮﺕ ﺧﺎﻟﺪ ﺑﻦ ﻭﻟﯿﺪؓ ﮐﮯ ﺍﻧﺘﻘﺎﻝ
ﮐﯽ ﺧﺒﺮ ﺟﺐ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻣﻨﻮﺭﮦ ﭘﮩﻨﭽﯽ ﺗﻮ ﮨﺮ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺮﺍﻡ ﻣﭻ ﮔﯿﺎ۔ ﺟﺐ ﺣﻀﺮﺕ ﺧﺎﻟﺪ ﺑﻦ ﻭﻟﯿﺪؓ ﮐﻮ ﻗﺒﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﺎﺭﺍ ﺟﺎﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﻮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺁﭖؓ ﮐﺎ ﮔﮭﻮﮌﺍ ’’ ﺍﺷﮑﺮ ‘‘ ﺟﺲ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﮯ ﺁﭖؓﻧﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﺟﻨﮕﯿﮟ ﻟﮍﯾﮟ،ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺁﻧﺴﻮ ﺑﮩﺎﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ﺣﻀﺮﺕ ﺧﺎﻟﺪ ﺑﻦ ﻭﻟﯿﺪؓ ﮐﮯ ﺗﺮﮐﮯ ﻣﯿﮟ ﺻﺮﻑ ﮨﺘﮭﯿﺎﺭ، ﺗﻠﻮﺍﺭﯾﮟ، ﺧﻨﺠﺮ ﺍﻭﺭ ﻧﯿﺰﮮ ﺗﮭﮯ۔ ﺍﻥ ﮨﺘﮭﯿﺎﺭﻭﮞ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﺍﯾﮏ ﻏﻼﻡ ﺗﮭﺎ ﺟﻮ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﯾﮧ ﺗﻠﻮﺍﺭ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺩﻭ ﻋﻈﯿﻢ ﺳﻠﻄﻨﺘﻮﮞ ‏( ﺭﻭﻡ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﺮﺍﻥ ‏) ﮐﮯ ﭼﺮﺍﻍ ﺑﺠﮭﺎﺋﮯ،ﻭﻓﺎﺕ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﺍﻥ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ۔ﺁﭖؓ ﻧﮯ ﺟﻮ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﮐﻤﺎﯾﺎ،ﻭﮦ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺭﺍﮦ ﻣﯿﮟ ﺧﺮﭺ ﮐﺮﺩﯾﺎ۔ ﺳﺎﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﺪﺍﻥ ﺟﻨﮓ ﻣﯿﮟ ﮔﺰﺍﺭ ﺩﯼ۔
ﺻﺤﺎﺑﮧؓ ﻧﮯ ﮔﻮﺍﮨﯽ ﺩﯼ ﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻣﻮﺟﻮﺩﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺷﺎﻡ ﺍﻭﺭ ﻋﺮﺍﻕ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﺟﻤﻌﮧ ﺍﯾﺴﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮍﮬﺎ ﺟﺲ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﻢ ﺍﯾﮏ ﺷﮩﺮ ﻓﺘﺢ ﮐﺮﭼﮑﮯ ﮨﻮﮞ ﯾﻌﻨﯽ ﮨﺮ ﺩﻭ ﺟﻤﻌﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻧﯽ ﺩﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺷﮩﺮ ﺿﺮﻭﺭ ﻓﺘﺢ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺑﮍﮮ ﺑﮍﮮ ﺟﻠﯿﻞ ﺍﻟﻘﺪﺭ ﺻﺤﺎﺑﮧؓ ﻧﮯ ﺣﻀﻮﺭ ﺳﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﺧﺎﻟﺪؓﮐﮯ ﺭﻭﺣﺎﻧﯽ ﺗﻌﻠﻖ ﮐﯽ ﮔﻮﺍﮨﯽ ﺩﯼ۔ﺧﺎﻟﺪ ﺑﻦ ﻭﻟﯿﺪ ؓﮐﺎ ﭘﯿﻐﺎﻡ ﻣﺴﻠﻢ ﺍﻣﺖ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ :
*ﻣﻮﺕ ﻟﮑﮭﯽ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺗﻮ ﻣﻮﺕ ﺧﻮﺩ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯽ ﺣﻔﺎﻇﺖ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ۔ﺟﺐ ﻣﻮﺕ ﻣﻘﺪﺭ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺩﻭﮌﺗﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﻣﻮﺕ ﺳﮯ ﻟﭙﭧ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ، ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﯽ ﺳﮑﺘﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﻮﺕ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﺎ ۔ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﺑﺰﺩﻝ ﮐﻮ ﻣﯿﺮﺍ ﯾﮧ ﭘﯿﻐﺎﻡ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺩﻭ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﻣﯿﺪﺍ ﻥ ﺟﮩﺎﺩ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺕ ﻟﮑﮭﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﺗﻮ ﺍﺱ ﺧﺎﻟﺪ ﺑﻦ ﻭﻟﯿﺪؓ ﮐﻮ ﻣﻮﺕ ﺑﺴﺘﺮ ﭘﺮ ﻧﮧ ﺁﺗﯽ۔‎*

25/08/2019

بزرگ مہنگا ٹکٹ خریدنا چاہتے تھے‘ ایجنٹ انہیں سستا ٹکٹ دینا چاہتا تھا‘ وہ دونوں مسلسل تکرار کر رہے تھے‘ ایجنٹ بتا رہا تھا‘ سر یہ بھی فرسٹ کلاس ہے‘ یہ آپ کو چار لاکھ روپے سستی پڑے گی لیکن بزرگ کا کہنا تھا‘ بیٹا میں نے آپ سے سستی ٹکٹ کا مطالبہ نہیں کیا‘ مجھے ایسی فرسٹ کلاس چاہیے جس میں بیڈ لگا ہو‘ میں ہوائی سفر کے دوران بیڈ کو انجوائے کرنا چاہتا ہوں‘ ایجنٹ انہیں سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا ”سر
یہ سیٹ بھی پورا بیڈ بن جاتی ہے‘ آپ اسے بھی انجوائے کریں گے‘ آپ اپنا پیسہ بلاوجہ ضائع نہ کریں“ لیکن بزرگ ڈٹے رہے‘ ان کا کہنا تھا‘ میں مہنگی ترین سیٹ ہی لوں گا‘ میں یہ تکرار مزے سے دیکھ رہا تھا‘ تکرار کے آخر میں فیصلہ ہو گیا‘ ایجنٹ نے بزرگ کو سیٹ دے دی‘ وہ سیٹ انہیں ساڑھے تیرہ لاکھ روپے میں پڑی‘ یہ بہت بڑی رقم تھی لیکن بزرگ نے چیک بک نکالی‘ دستخط کئے اور چیک ایجنٹ کے حوالے کر دیا‘ میں اس فضول خرچی پر حیران ہو گیا‘ میں نے زندگی میں پہلی مرتبہ کسی شخص کو اتنا مہنگا ٹکٹ خریدتے دیکھا تھا چنانچہ میں نے ان سے معذرت کی اور عاجزی سے پوچھا ”سر آپ کیا کرتے ہیں“ وہ میری طرف مڑے‘ غور سے مجھے دیکھا اور مسکرا کر بولے ”میں کچھ نہیں کرتا‘ میں ریٹائر لائف گزار رہا ہوں“ میں نے پوچھا ”آپ ریٹائر ہونے سے پہلے کیا کرتے تھے“ وہ بڑے پیار سے بولے ”میری کپڑے کی دکان تھی“ میں نے پوچھا ”دکان یا فیکٹری“ وہ بولے ”پندرہ بائی بیس فٹ کی چھوٹی سی دکان“ میں نے پوچھا ”کیا یہ آپ کا کل کاروبار تھا“ وہ ہنس کر بولے ”ہاں سو فیصد‘ میں نے راولپنڈ میں چالیس سال کپڑا بیچا“ میں نے پوچھا ”آپ کے پاس پھر لمبی چوڑی زمین جائیداد ہو گی“ وہ فوراً بولے ”ہرگز نہیں‘ بس ایک آبائی گھر تھا اور دو دکانیں تھیں‘ دکانیں دونوں بیٹوں نے لے لی ہیں‘ مکان میں نے آدھا بیچ دیا ہے اور آدھا بچوں کو دے دیا ہے“
میں نے پوچھا ”کیا آپ بچوں کے ساتھ رہتے ہیں“ بولے ”ہرگز نہیں‘ میں دو سال سے ہوٹل میں رہ رہا ہوں‘ سال میں ایک بار ملک سے باہر جاتا ہوں‘ ریستورانوں میں کھانا کھاتا ہوں اور بس“ میری حیرت آسمان کو چھونے لگی‘ میں نے عرض کیا ”پھر آپ نے اتنا مہنگا
ٹکٹ کیوں خریدا‘ میں نے آج تک امیر سے امیرترین لوگوں کو بھی ایک سفر پر ساڑھے تیرا لاکھ روپے کا ٹکٹ خریدتے نہیں دیکھا اور آپ بظاہر امیر بھی نہیں ہیں چنانچہ میں آپ کی فضول خرچی پر حیران ہوں“
بزرگ نے قہقہہ لگایا اور پھر زندگی کا ایک نیا رخ میرے سامنے رکھ دیا۔وہ بولے ”میں راولپنڈی میں کپڑے کا کاروبار کرتا تھا‘ دکان اچھی چل رہی تھی‘ دو بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں‘ بیوی نیک اور گھریلو تھی‘ میں فیصل آباد کے ایک مل اونر سے کپڑا خریدتا تھا اور وہ کپڑا پرچون میں بیچ دیتاتھا‘ میں ہفتے میں ایک بار فیصل آباد جاتا تھا‘ میری اس آمدورفت کی وجہ سے وہ مل اونر میرا دوست بن گیا‘ وہ جب بھی راولپنڈی آتا تھا‘ وہ پی سی میں ٹھہرتا تھا‘ مجھے دعوت دیتا تھا اور میں اس کے ساتھ کھانا کھاتا تھا‘
وہ گرِل فش بڑی رغبت سے کھاتا تھا‘ وہ مجھے بتایا کرتا تھا وہ دن میں ایک بار سالمن فش ضرور کھاتا ہے‘ میں نے اس کے ساتھ سالمن فش کھانی شروع کی تو میں بھی اس کا عادی ہو گیا‘ میں بھی فش کھانے لگا‘ ہم دونوں دوست تھے لیکن پھر اس بے چارے کا ڈاؤن فال شرع ہو گیا‘ پاکستان میں لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ پیدا ہو گیا‘ حکومت نے ٹیکس بڑھا دیئے‘ فیکٹریوں میں یونینز بنی بن گئیں‘ را مٹیریل بھی مہنگا ہو گیا اور اغواء برائے تاوان اور بھتہ خوری بھی شروع ہو گئی‘
بنگلہ دیش نے اس دور میں ٹیکسٹائل انڈسٹری کو ٹیکس فری کر دیا‘ میرا دوست بنگلہ دیش گیا‘ بنگالی بزنس مین کے ساتھ ”جوائنٹ وینچر“ کیا اور اپنی فیکٹری بنگلہ دیش شفٹ کر دی‘ وہ بنگلہ دیش میں کامیاب ہو گیا لیکن پھر دونوں پارٹنرز کے درمیان اختلاف ہوا‘ معاملہ عدالت تک گیا اور بنگلہ دیش کی عدالت نے بنگالی بزنس مین کے حق میں فیصلہ دے دیا یوں وہ بیچارا محل سے فٹ پاتھ پر آگرا‘ وہ واپس پاکستان آ گیا‘ فیصل آباد میں اس دوران اس کی پراپرٹی پر قبضہ ہو چکا تھا‘
وہ یہاں بھی کورٹ کچہریوں میں الجھ گیا‘ بیوی یہ اتار چڑھاؤ برداشت نہ کر سکی‘ وہ بیمار ہوئی اور انتقال کر گئی‘ اس نے لاہور میں ایک انڈسٹریل یونٹ لگایا‘ وہ یونٹ بیٹے کے حوالے کیا‘ بیٹے نے وہ برباد کر دیا‘ دوسرے بیٹے کو کاروبار میں ڈالا‘ وہ بھی ناکام ہوا اور بیوی بچوں کو لے کر کینیڈا شفٹ ہو گیا‘ بڑا بیٹا ناکامی کے بعد نشے کا عادی ہو گیا‘ وہ نشے کے ہاتھوں ہسپتال پہنچ گیا‘ بیٹی کی شادی کی‘ سسرال نے گھر مانگ لیا‘ اس نے اپنا واحد گھر بیٹی کو دے دیا‘
یار دوست بھاگ گئے اور عزیز رشتے دار سائیڈ پر ہو گئے اور یوں وہ بے چارہ پوری دنیا میں بے دست و پا ہو گیا۔میں اس کے عروج وزوال کا عینی شاہد تھا‘ وہ خوددار تھا‘ اس نے مجھ سے ملنا بھی ترک کر دیا تھا لیکن میں اسے ڈھونڈ ڈھانڈ کر مل لیتا تھا‘ ہم گرِل فش کھاتے تھے‘ پرانا وقت یاد کرتے تھے اور ہنس رو کر اپنے اپنے ٹھکانے پر آ جاتے تھے‘ وہ زندگی کے بوجھ کے ساتھ ساتھ چلتا رہا لیکن پھر ایک ایسا وقت آ گیا جب کرائے کا مکان بھی اس کے بس کی بات نہ رہا‘
وہ حقیقتاً کوڑی کوڑی کا محتاج ہو گیا اور پھر ایک دن وہ غائب ہو گیا‘ میں اسے تلاش کرتا رہا لیکن وہ نہ ملا‘ میں اپنے کام کاج میں مصروف ہو گیا‘ مجھے ایک دن ایدھی فاؤنڈیشن سے فون آیا‘ مجھے بتایا گیا آپ کا ایک عزیز شدید علالت میں ہمارے پاس موجود ہے‘ آپ سے ملنا چاہتا ہے‘ میں تشویش کے عالم میں ایدھی فاؤنڈیشن پہنچ گیا‘ وہ مجھے اولڈ پیپل ہوم میں لے گئے‘ میں اندر داخل ہوا تو وہ علالت کے عالم میں بستر پر پڑا تھا‘ داڑھی بڑھی ہوئی تھی‘
شوگر‘ بلڈ پریشر اور دل کا مرض بے قابو ہو چکا تھا اور وہ حقیقتاً ہڈیوں کا ڈھانچہ بن چکا تھا‘ میری آنکھوں میں آنسو آ گئے‘ میں اس کے پاس بیٹھ گیا‘ وہ مجھے دیکھ کر مسکرایا اور آہستہ آوازمیں بولا ”یار شکور صاحب گرِل فش کھانے کا بہت دل کر رہا ہے‘ میں نے فش کے لالچ میں ان کو آپ کا نمبر دے دیا تھا“ میں آنکھیں پونچھتا ہوا اٹھا‘ پی سی گیا‘ گرِل فش پیک کرائی اور اس کے پاس آ گیا‘ اس نے بڑی مدت بعد اچھا اور صاف ستھرا کھانا کھایا‘ میں اس کے بعد روزانہ اس کے پاس جاتا‘
ہم گرِل فش کھاتے اور دھوپ میں بیٹھ کر گپ شپ کرتے‘ میں نے اسے اپنے گھر لانے کی شش کی لیکن اس نے انکار کر دیا‘ بہرحال قصہ مختصر وہ بہتر ہو گیا‘ وہ اب چل پھر بھی سکتا تھا اور اپنے کام بھی خود کر سکتا تھا‘ اس نے اس کے بعد اپنی باقی زندگی ایدھی فاؤنڈیشن کیلئے وقف کر دی‘ وہ اولڈ پیپل ہوم میں رہتا تھا‘ بیماروں کی خدمت کرتا تھا‘ نماز پڑھتا تھا اور اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتا تھا‘ ہم دونوں ہفتے میں ایک بارہوٹل جاتے تھے‘ گرِل فش کھاتے تھے اور کافی پیتے تھے‘
یہ روٹین اس کے مرنے تک جاری رہی‘ میں اسے ایک رات واپس چھوڑ کر آیا‘ وہ بستر پر لیٹا اور پھر دوبارہ نہ اٹھ سکا‘ ہم نے اس کے بچوں سے رابطے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہو سکے‘ ہمارے پاس کینیڈا والے بیٹے کا نمبر نہیں تھا‘ دوسرا بیٹا ہسپتال میں زیر علاج تھا‘ اسے ہوش نہیں تھا‘ بیٹی خاوند اور بچوں کے ساتھ چھٹیاں منانے کیلئے یورپ گئی ہوئی تھی‘ ہمارے پاس اس کا رابطہ نمبر نہیں تھا‘ عزیز رشتے دار اور دوست احباب کو بلانے سے اس نے روک دیا تھا‘
وہ وصیت کر کے مرا تھا میری موت کی کوئی اناؤنسمنٹ نہیں ہو گی اور میرے کسی عزیز رشتے دار کو اطلاع نہیں دی جائے گی چنانچہ اجنبی لوگوں نے اس کا جنازہ پڑھا‘ اجنبیوں نے اسے قبر میں اتارا اور اجنبی قبرستان میں اسے دفن کر دیا گیا‘ میں دوبارہ اپنے کاروبار میں مصروف ہو گیا‘ میں نے ایک دن اپنے بڑے بیٹے کو ڈانٹ دیا‘ بیٹا بپھر گیا اور بولا ”آپ نے ہمارے لئے کیا کیا ہے؟“ یہ فقرہ سیدھا میرے سینے میں لگا‘ مجھے اپنا مرحوم دوست یاد آ گیا اور احساس ہوا‘ یہ سب مایا ہے‘
یہ سارا مایا ختم ہو جائے گا‘ مال وہ ہے جو آپ نے استعمال کر لیا اور خوشی وہ ہے جو آپ نے محسوس کر لی اور بس‘ میری بیوی فوت ہو چکی تھی‘ بچے شادی شدہ تھے‘ میں نے دونوں بیٹوں کو ایک ایک دکان دے دی‘ مکان بازار میں آ چکا تھا‘ میں نے آدھا مکان بیچ دیا‘ مجھے بارہ کروڑ روپے ملے‘ میں ہوٹل میں شفٹ ہو گیا‘ میں اب آدھا دن ایدھی فاؤنڈیشن میں کام کرتا ہوں‘ صبح شام ایکسرسائز کرتا ہوں‘ سوئمنگ کرتا ہوں‘ گرِل فش کھاتا ہوں‘ سوٹ پہنتا ہوں‘ ہوٹل کی گاڑی استعمال کرتا ہوں‘
سال میں ایک بار مہنگا ترین ٹکٹ لے کر ملک سے باہر جاتا ہوں اور چِل کر رہا ہوں۔وہ خاموش ہو گئے‘ میں حیرت سے ان کی طرف دیکھتا رہا اور وہ مسکراتے رہے‘ میں نے عرض کیا ”آپ جس طرح رقم اڑا رہے ہیں یہ بارہ کروڑ کب تک آپ کا ساتھ دیں گے“ بزرگ نے قہقہہ لگایا اور بولے ”سال کا ایک کروڑ روپے خرچ آتا ہے‘ میرا خیال ہے میں بارہ کروڑ سے پہلے فوت ہو جاؤں گا‘ میں نے عرض کیا ”اور آپ اگر بچ گئے‘ اللہ نے اگر آپ کو لمبی زندگی دے دی تو؟“ انہوں نے قہقہہ لگایا اور بولے ”میں بھی اپنے دوست کی طرح ایدھی فاؤنڈیشن شفٹ ہو جاؤں گا‘ آپ جیسے کسی دوست کی مدد سے ہفتے میں ایک دن گرِل فش کھاؤں گا اور موت کے فرشتے کا انتظار کروں گا“۔

Address

Head Offices: Jeddah Saudi Arabia &
Islamabad

Telephone

+923067551516

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Shamshad Memorial Welfare Trust - SMWT posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Shamshad Memorial Welfare Trust - SMWT:

Share