Ronin Furniture

Ronin Furniture Find here the quality products you are searching for now. Hand made furniture. On Factory Price !!! Diamond Bedsheets Collection

آپکو معلوم ہے کہ پاکستان کا معیاری وقت کب اور کیسے طے کیا گیا ؟30 ستمبر 1951 پاکستان کے  معیاری وقت کا تعین کیا گیا۔پاکس...
12/06/2020

آپکو معلوم ہے کہ پاکستان کا معیاری وقت کب اور کیسے طے کیا گیا ؟

30 ستمبر 1951 پاکستان کے معیاری وقت کا تعین کیا گیا۔

پاکستان کا معیاری وقت شکرگڑھ سے لیا جاتا ھے.

" دین پناہ " وہ مقام ھے جہاں سورج کی پہلی کرن پاکستان پر پڑتی ھے. یہ گاوں دین پناہ بھائی پور اور لالیاں کے وسط میں واقع تھا یہ گاوں مکمل طور پر ختم ھو چکا ھے وھاں پر اب صرف ایک مسجد ہی باقی ھے. اسی مقام سے ھندوستان کا بارڈر ختم ھوتا ھے اور کشمیر کا بارڈر شروع ھوتا ھے.

پاکستان کا معیاری وقت گرینچ ٹائم سے پورے پانچ گھنٹے آگے ہے۔ اس کاتعین ممتاز ماہر ریاضی پروفیسر محمود انور نے کیا تھا۔حکومت پاکستان نے اسے اختیار کرنے کا اعلان 30 ستمبر 1951 کو کیا اور یہ یکم اکتوبر 1951 سے نافذ العمل ہو گیا تھا۔

پروفیسر محمود انور وہ پاکستانی ہیں جنہوں نے یہ ثابت کیا کہ پاکستان کا معیار ی وقت بھارت سے آدھ گھنٹہ پیچھے ہے۔ حکومت ِپاکستان نے ان کی اس تجویز کو قبول کرتے ہوئے پاکستان کا معیاری وقت بھارت سے آدھ گھنٹہ پیچھے مقرر کیا..!!

ریمانڈ کیا ہے؟★★★★☆ریمانڈ کی تین قسمیں ہیں۔*1- فزیکل (جسمانی) ریمانڈ**2- جوڈیشل (عدالتی) ریمانڈ**3- ٹرانزٹ (سفری) ریمانڈ...
11/10/2019

ریمانڈ کیا ہے؟
★★★★☆
ریمانڈ کی تین قسمیں ہیں۔

*1- فزیکل (جسمانی) ریمانڈ*
*2- جوڈیشل (عدالتی) ریمانڈ*
*3- ٹرانزٹ (سفری) ریمانڈ*

1- فزیکل (جسمانی) ریمانڈ کیا ہے؟
ضابطہ فوجداری کی دفعہ 154 کے تحت ایف آئی آر کے اندارج کے بعد کریمنل پروسیجر کوڈ کی شق 61 کے تحت تفتیشی افسر (انویسٹی گیشن افسر،آئی او) کی ذمہ داری ہے کہ ملزم کو 24 گھنٹے کے اندر متعلقہ علاقہ مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرے۔ان24 گھنٹے کے اندر ملزم سے تفتیش مکمل نہ ہوئی ہو تو آئی او مجسٹریٹ کو وجوہات بتائے گا کہ تفتیش اور جرم سے متعلق ثبوت اکٹھے کرنے کیلئے ملزم کا ابھی پولیس حراست میں رہنا ضروری ہے۔عدالت جرم کی نوعیت وغیرہ دیکھتے ہوئے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 167 کے تحت ملزم کو کچھ دن کیلئے پولیس کی حراست میں دے دے گی۔اسے فزیکل ریمانڈ کہتے ہیں۔

فزیکل ریمانڈ کتنے دن کا ہوگا؟
قانون کے مطابق مجسٹریٹ ملزم کو زیادہ سے زیادہ15دن کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کرسکتا ہے۔تاہم غیر معمولی نوعیت کے کیسوں میں جسمانی ریمانڈ 15 دن سے زیادہ بھی دیا جاسکتاہے۔(تاہم ایسا بہت کم ہوتا ہے)لیکن مجسٹریٹ ایک دفعہ پیشی پر15 دن سے زیادہ کا جسمانی ریمانڈ نہیں دے سکتا۔
نیب قانون میں ملزم کو 3 مہینے(90 دن) کیلئے جسمانی ریمانڈ پر نیب افسران کے حوالے کیا جاسکتا ہے۔
جسمانی ریمانڈ سے متعلق ایک غلط فہمی یہ عام ہے کہ شاید اس عرصے میں پولیس جرم قبول کروانے کیلئے ملزم پر تشدد وغیرہ کر سکتی ہے۔تو اس غلط فہمی کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔کسی بھی قانون کے تحت پولیس ملزم پر تشدد نہیں کرسکتی،اگر وہ ایسا کرے گی تو مجرم ہو گی۔جسمانی ریمانڈ کا مقصد صرف ملزم کو اپنے پاس رکھ کر اس سے تفتیش کرنا اور جرم سے متعلقہ ثبوت اکٹھے کرنا ہے۔ثبوت ملزم اور مدعی دونوں طرف سے اکٹھے کیے جا سکتے ہیں۔
اگر ملزم خاتون ہے اور جرم قتل یا ڈکیتی نہیں ہے تو آئی او کو اس ملزمہ کی کسٹڈی نہیں دی جائے گی۔ضابطہ فوجداری کی شق 167(5) کے تحت وہ اس سے جیل میں ہی تفتیش کرے گا۔اس موقع پرجیل افسر اور کسی خاتون پولیس اہلکار کا بھی پاس موجود ہونا ضروری ہے۔

2- جوڈیشل ریمانڈ کیا ہے؟
ملزم کی گرفتاری کے بعد ضابطہ فوجداری کی دفعہ173 کے تحت آئی او کو 14 دن جس میں 3 مزید دن شامل کیے جا سکتے ہیں عدالت کے سامنے چالان (مکمل یا نامکمل) پیش کرنا ہوتا ہے۔ چالان میں کیس کی تفصیلات اور ملزم سے تفتیش کی صورت میں جو ثبوت وغیرہ اکٹھے ہوئے ان کی تفصیلات درج ہوتی ہیں۔چالان پیش ہونے پر عدالت فائل دیکھنےکے بعد اگر یہ سمجھتی ہے کہ ملزم نے کوئی جرم نہیں کیا تو اسے مقدمے سے ڈسچارج کردیتی ہے۔تاہم اگر ملزم کیخلاف ٹھوس ثبوت موجود ہوں تو ٹرائل کا باقاعدہ آغاز کیا جاتا ہے۔اس دوران ملزم کو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 344 کے تحت پولیس کی حراست سے لے کر جیل میں بھیج دیا جاتاہے۔عدالت میں کیس چلنےکے دوران ملزم جتنا عرصہ جیل میں رہے گا اسے جوڈیشل ریمانڈ کہا جاتا ہے۔

3- ٹرانزٹ (سفری) ریمانڈ کیا ہے؟
ملزم جرم کرکے کسی دوسرے شہر فرار ہو گیا۔پولیس اسے گرفتار کرنے کیلئے اس کے پیچھے پہنچتی ہے اور گرفتار کر لیتی ہے۔قانون کے مطابق پولیس کو گرفتاری کے24 گھنٹے کے اندر ملزم کو متعلقہ علاقہ مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنا ہے۔تاہم سفر اتنا زیادہ ہے کہ24 گھنٹے کے اندر واپس پہنچنا ممکن نہیں تو ایسی صورت میں پولیس نے ملزم کو جس علاقے سے گرفتار کیا اسی علاقےکے مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرے گی۔گرفتاری اس کے نوٹس میں لائے گی اور اس سے ملزم کا سفری ریمانڈ لے گی۔اور ملزم کو اپنے علاقے میں واپس پہنچ کر متعلقہ علاقہ مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرے گی۔

 :★★★★☆Pakistan’s No.1 Data Network, Zong 4G, the pioneer of 4G in Pakistan, is now the first and only telecom operator ...
22/08/2019

:
★★★★☆

Pakistan’s No.1 Data Network, Zong 4G, the pioneer of 4G in Pakistan, is now the first and only telecom operator to successfully test 5G services. Backed by China Mobile Communications Corporation (CMCC), and supported by 11,000+ 4G towers and 13 million 4G customers, Zong 4G is truly a leader in innovation, advanced technology, and infrastructure.

Now Pakistan become the first country to test 5G technology successfully in South Asia.

Now, anyone wishing to test 5G will be able to experience lightning fast speeds of 5G. With the 5G enabled technology of the leaders of the digital revolution in Pakistan, businesses will be better equipped to work on IoT and integrate interoperable devices, manage fleets, and systems through cloud technology.

Whenever 5G is launched in Pakistan, the nation’s No. 1 Data Network’s customers will be able to experience infinite possibilities, define the undefined, and explore technology like never before.

پاکستان کے بارے میں معلومات :★★★★☆نام:       اسلامی جمہوریہ پاکستان---------------------------------------------قیام :27...
16/08/2019

پاکستان کے بارے میں معلومات :
★★★★☆

نام:
اسلامی جمہوریہ پاکستان

---------------------------------------------
قیام :
27 رمضان المبارک 1366ھ ( اسلامی کلینڈر )
14 اگست 1947ء ( عیسوی کلینڈر )

---------------------------------------------
کل رقبہ ( 796,096 مربع کلومیٹر )
زمینی حدود ( 770,875 مربع کلومیٹر )
سمندری حدود ( 25,220 مربع کلومیٹر )
۔
نوٹ = ( رقبہ میں پاکستان دنیا میں 37 سینتیسواں نمبر ہے )

---------------------------------------------
صوبے ( 4 ):

بلوچستان
رقبہ = 347,190 مربع کلومیٹر
اضلاع = 32

پنجاب
رقبہ = 205,345 مربع کلومیٹر
اضلاع = 36
۔
خیبر پختونخواہ
رقبہ = 74,521 مربع کلومیٹر
اضلاع = 26
۔
سندھ
140,914 مربع کلومیٹر
اضلاع = 24
۔
اسلام آباد
رقبہ = 906 مربع کلومیٹر
اضلاع = 1
۔
فاٹا
رقبہ = 27,220 مربع کلومیٹر
اضلاع = 13
۔
آزاد جموں کشمیر
رقبہ = 13,297 مربع کلومیٹر
اضلاع = 10
۔
گلگت بلتستان
رقبہ = 72,971 مربع کلومیٹر
اضلاع = 10

---------------------------------------------
براعظم
ایشیا
---------------------------------------------
علاقہ
جنوبی ایشیا
---------------------------------------------
سرحدی شراکت:
بھارت، چین، افغانستان، ایران

---------------------------------------------
حدود اربعہ:

شمال میں چین
جنوب میں بحیرہ عرب
مشرق میں بھارت
مغرب میں ایران
شمال مغرب میں افغانستان

---------------------------------------------
سرحدی خطوط:

پاک بھارت سرحدی خط ( ریڈکلف لائن )
کشمیر کی عارضی حد بندی ( کنٹرول لائن )
پاک افغان سرحدی خط ( ڈیورنڈ لائن )
۔
سرحدی حدود ( 7,257 کلومیٹر )
افغانستان ( 2,670 کلومیٹر )
چائنہ ( 438 کلومیٹر )
بھارت ( 3,190 کلومیٹر)
ایران ( 959 کلومیٹر )

---------------------------------------------
اہم برآمدات:

روئی
الیکڑک آلات
چمڑا اور چمڑے کی مصنوعات
چاول
کھیلوں کا سامان
کپڑا
آلات جراحی
ہلکا اسلحہ
انجینئرنگ کا سامان

---------------------------------------------
اہم درآمدات:

مشینیں
معدنی تیل
سوتی و ریشمی دھاگہ
کیمیکل
گاڑیاں
چاۓ
پٹرولیم اور تیل
صنعتی آلات

---------------------------------------------
نباتیات:

صنوبر
بلوط
دیودار ( قومی درخت )
شہتوت
پوپلر
میپل

---------------------------------------------
علاقائی جانور و حیاتیات:

تیتر
مارخور ( قومی جانور )
چکور
ہمالیائی کالا بھالو
چیتا
پہاڑی بکرا
سبز کچھوا
نیل گاۓ
مارکوپولو بھیڑ
ہرن
کالا ہرن
مگرمچھ
ڈلفن ( قومی ممالیہ)
برفانی چیتا
مرغابی و بطخ کی مختلف اقسام
سانپ کی اقسام
بھیڑیے و دیگر نایاب اقسام کی جنگلی حیاتیات

---------------------------------------------
سیاحتی مقام :

مری
کاغان
کوئٹہ
ہنزہ
زیارت
سوات
چترال
گلگت

---------------------------------------------
قدیم تہذیب و آثار:

موہنجودڑو
ہڑپہ
ٹیکسلا
تخت بھائی
مہرگڑھ
کوٹ دیجی
---------------------------------------------
سڑک
( 251,845 کلومیٹر )

---------------------------------------------
پاکستان ریلوے :
( 7,791 کلومیٹر + 781 سٹیشن )

---------------------------------------------
پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائن:

44 ہوائی جہاز
کل ہوائی اڈے ( 151 )
بین الاقوامی ( 33 )
علاقائی ہوائی اڈے ( 21 )
معہ پکا رن وے ( 108 )
معہ کچا رن وے ( 43 )
ہیلی پیڈ ( 23 )

اہم ہوائی اڈے:

جناح بین الاقوامی ہوائی اڈا ( کراچی )
بے نظیر بین الاقوامی ہوائی اڈا ( اسلام آباد )
علامہ اقبال بین الاقوامی ہوائی اڈا ( لاہور )
ملتان بین الاقوامی ہوائی اڈا ( ملتان )
کوئٹہ بین الاقوامی ہوائی اڈا
پشاور بین الاقوامی ہوائی اڈا
فیصل آباد بین الاقوامی ہوائی اڈا
گوادر بین الاقوامی ہوائی اڈا

---------------------------------------------
اہم پہاڑی دررے:

دررہ خیبر
دررہ گومل
دررہ بولان
دررہ ٹوچی
دررہ خنجراب
دررہ لواری
---------------------------------------------
اہم ڈیم:

تربیلا ڈیم
منگلا ڈیم
وارسک ڈیم

---------------------------------------------
تعلیم :

پرائمری سکول ( 164,200 )
مڈل سکول ( 19,100)
ہائی سکولز ( 12,900 )
آرٹس و سائنس کالجز ( 925)
پیشہ ورانہ کالجز ( 374)
جامعات ( 29 )

---------------------------------------------
اہم جامعات و تعلیمی ادارے:

قائد اعظم یونیورسٹی ( اسلام آباد )
بین الاقوامی اسلامک یونیورسٹی ( اسلام آباد )
بہاوالدین زکریا یونیورسٹی ( ملتان )
علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی
پنجاب یونیورسٹی ( لاہور )
نشتر میڈیکل کالج ( ملتان )
اسلامیہ کالج ( پشاور )
گورنمنٹ کالج یونیورسٹی ( فیصل آباد )

---------------------------------------------
سمندر
بحیرہ عرب

---------------------------------------------
بندرگاہیں :

پورٹ کراچی
پورٹ قاسم
پورٹ پسنی
پورٹ گوادر

---------------------------------------------
صحرا:

تھر پارکر ( سندھ )
تھل ( 71,306 ہیکٹر )
چولستان ( 2,032,667 ہیکٹر )

---------------------------------------------
بلند ترین مقام
کے ٹو ( 8,611 میٹر )
---------------------------------------------
پست ترین مقام
بحیرہ عرب
---------------------------------------------
دالحکومت
اسلام آباد

---------------------------------------------
موجودہ سربراہان:

ڈاکٹر عارف علوی ( صدر)
عمران خان ( وزیراعظم)
شاہ محمود قریشی ( وزیر خارجہ )
پرویز خٹک ( وزیر دفاع )
فواد چوہدری ( وزیر سائنس وٹیکنالوجی)
شفقت محمود ( وزیر تعلیم )
فردوس عاشق اعوان ( وزیر اطلاعات)
شیریں مزاری ( وزیر انسانی حقوق)
سرتاج گل ( وزیر موسمیات)

---------------------------------------------
آبادی:

کل آبادی= 20 کروڑ سے زائد
۔
آبادی بلحاظ علاقہ
36.7% ( شہری )
63.5% ( دیہاتی)

---------------------------------------------
بلحاظ زبان و صوبہ:
۔
44.7% ( پنجابی )
15.4% ( پٹھان )
14.1% ( سندھی )
8.1% ( سرائیکی )
7.6% ( مہاجر )
3.6% ( بلوچی )
6.3 % ( دیگر )

---------------------------------------------
بلحاظ عمر:

حد عمر = ( 0 - 14 سال )
فیصد = 31.36 %
مرد = 33,005,623
عورت = 31,265,463
حد عمر ( 15-24 سال )
فیصد = % 21.14
مرد = 22,337,897
خواتین = 20,980,455
۔
حد عمر ( 25-54 سال )
فیصد = %37.45
مرد = 39,846,714
خواتین = 36,907,683
۔
حد عمر ( 55-64 سال)
فیصد = % 5.57
مرد = 5,739,817
خواتین = 5,669,495
حد عمر ( +65 سال )
فیصد = % 4.48
مرد = 4,261,917
خواتین = 4,910,094
۔
آبادی میں اضافے کی شرح:
1.43% (دنیا کے ممالک میں نمبر = 80 )
۔
شرح پیدائش:
1000 آبادی / 21.9 پیدائش
دنیا کے ممالک میں نمبر = 74
۔
شرح اموات:
1,000 آبادی / اموات 6.3
دنیا کے ممالک میں نمبر = 150
۔
شرح خواندگی:
56.40 فیصد

---------------------------------------------
ذرائع مواصلات:

ٹیلی فون ( 3.1 ملین مستقل لائنز)
موبائل فون ( 67/100 فیصد آبادی)
کوڈ = 92+
لینڈنگ پوائنٹ = ME-WE -3 ME-WE-4
۔
سٹیلائٹ ارتھ سٹیشن ( کل - 3 )
یٹلانٹک اوشن ( 1 )
انڈین اوشن ( 2 )
۔
آپشنل انٹرنیشنل گیٹ وے ایکچینج
کراچی ( 1 )
اسلام آباد ( 2 )

---------------------------------------------
اہم کمیونیکیشن کمپنیاں:

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ( 66+ )
جاز / وارد ( 0301/ 0321 )
زونگ ( 0311 )
یوفون ( 0331)
ٹیلی نار ( 0341 )
۔
نوٹ = 90 فیصد پاکستانیوں تک سگنل کی فراہمی ہے۔

---------------------------------------------
براڈکاسٹ میڈیا:

ماتحت ( پیمرا )
پاکستان ٹیلی ویژن ( 8 - چینل )
ہم ٹی وی
جیو انٹرٹینمنٹ
اے - آر - وائے ڈیجیٹل

---------------------------------------------
اہم میڈیا چینل:

پاکستان ٹیلی ویژن
بول چینل
جیو نیوز
دنیا نیوز
ایکسپریس نیوز
سماء نیوز
اے آر واے نیوز
جی این این نیوز
ڈان نیوز

---------------------------------------------
ریڈیو
حکومتی سٹیشن - 30
علاوہ ازیں = 200

---------------------------------------------
انٹرنیٹ یوزر
31.34 ملین ( % 15.5 )

---------------------------------------------
قومی علامات:

قومی رہنما ( قائد اعظم )
قومی شاعر ( علامہ اقبال)
قومی شہید ( لیاقت علی خان)
مادرملت ( فاطمہ جناح)
قومی لائبریری ( نیشنل لائبریری اسلام آباد )
قومی مذہب ( اسلام )
قومی یادگار ( پاکستان مونومنٹ )
قومی زبان ( اردو )
قومی دن ( 23 مارچ )
قومی لباس ( قمیض شلوار)
قومی درخت ( دیودار )
قومی رنگ ( سبز و سفید )
قومی پرندہ ( چوکور )
ریاستی پرندہ ( شاہین )
قومی جانور ( مارخور )
قومی شکاری جانور ( برفانی چیتا )
قومی رینگنے والا جانور ( مگرمچھ)
قومی ممالیہ جانور ( ڈالفن)
قومی مچھلی ( مہاشیر)
قومی پہاڑ ( کے ٹو)
قومی نعرہ ( پاکستان کا مطلب کیا - لاالہ الا الله )
قومی نشان ( ہلال ستارہ )
قومی مٹھائی ( گلاب جامن )
قومی مشروب ( گنے کا رس)
قومی کھانا ( نہاری)
قومی دریا ( دریائے سندھ)
قومی کھیل ( ہاکی)
قومی پھول ( چنبیلی)
قومی پھل ( آم )
قومی سبزی ( بھنڈی )
قومی کتاب ( قرآن پاک)
قومی مسجد ( فیصل مسجد ( اسلام آباد) )
قومی تہوار ( عیدین)
قومی موٹو ( ایمان، اتحاد، تنظیم)

---------------------------------------------
بین الاقوامی رابطہ کوڈ
+92

بین الاقوامی وقت
( UTC +5 )

انڑنیٹ سرورpk

---------------------------------------------
کرنسی:

پاکستان روپے

---------------------------------------------
طرز حکومت:

وفاقی و پارلیمانی ( جمہوری)

ویب لنک
https://en.wikipedia.org/wiki/Pakistan

---------------------------------------------
اہم شہر :

کراچی، لاہور، اسلام آباد، ملتان، پشاور، کوئٹہ، فیصل آباد

---------------------------------------------
اہم زبانیں:
ماہر لسانیات ڈاکٹر طارق عبدالرحمٰن کا کہنا ہے کہ پاکستان میں 74 زبانیں بولی جاتی ہیں جبکہ ڈاکٹر آتش درانی کا خیال ہے کہ یہ تعداد 76 ہے۔ تاہم دنیا بھر کی زبانوں پر تحقیق کرنے والی ایک ویب سائٹ ایتھنالوگ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کل 73 زبانیں بولی جاتی ہیں۔

اردو، پنجابی، سرائیکی، سندھ، پشتو، انگریزی

---------------------------------------------
اعلیٰ ترین اعزاز:

نشان پاکستان ( سول )
نشان حیدر ( ملٹری )

---------------------------------------------
مسلح افواج اور ہیڈکوارٹر:

پاک بری فوج ( راولپنڈی )
پاک نیوی ( اسلام آباد )
پاک ائیر فورس ( پشاور )
سب سے بڑی چھاونی ( کھاریاں )
سب سے بڑا فوجی فارم ( اوکاڑہ )
۔
---------------------------------------------
خفیہ ایجنسی:

انٹر سروس انٹیلی جنس (ISI)
ملٹری ایجنسیی (MI)

---------------------------------------------
اہم دریا:

سندھ ( 2896 کلومیٹر )
چناب ( 1087 کلومیٹر )
ستلج ( 1370 کلومیٹر )
جہلم ( 725 کلومیٹر )
راوی ( 765 کلومیٹر)

---------------------------------------------
اہم جھیلیں:

خوش دل خان ( بلوچستان )
ڈروت ( سندھ )
ست پارا ( بلتستان )
سیف الملوک ( کاغان )
فنڈر ( گلگت )
کلرکہار ( پنجاب )
کھادیجی ( سندھ )
کچھورا ( بلتستان )
کلری ( سندھ )
منچھر ( سندھ )
کینجھر ( سندھ )
لالو سر ( کاغان )
ہالیجی ( سندھ )
ہنہ ( بلوچستان )

---------------------------------------------
اہم فصلیں: ( پیدوار )

گندم،کپاس، چاول، آم، گنا، باجرہ، چنا۔

---------------------------------------------
اہم کھیل:

ہاکی، کرکٹ، کبڈی، سکواش، ٹینس، سنوکر

---------------------------------------------
اہم پہاڑی سلسلے:

ہمالیہ
ہندوکش
قراقرمقراقرم
کوہستان نمک
کوہ سلیمان

---------------------------------------------
اہم پہاڑی چوٹیاں:

کے ٹو ( 8,611 میٹر ) عالمی نمبر 2
نانگا پربت ( 8,126 میٹر ) عالمی نمبر 9
گیشربرم 1 ( 8,068 میٹر) عالمی نمبر 11
براڈ پیک ( 8,051 میٹر ) عالمی نمبر 12
گیشربرم 2 ( 8,035 میٹر ) عالمی نمبر 14
گیشربرم 3 ( 7,952 میٹر) عالمی نمبر 15
گیشربرم 4 ( 7,925 میٹر ) عالمی نمبر 17

---------------------------------------------
عام تعطیلات:

یوم یکجہتی کشمیر
یوم پاکستان
یوم مزدور
یوم آزادی
یوم اقبال
یوم قائد و کرسمس ڈے
یوم عیدین
یوم عاشورہ
شب معراج
یوم دفاع
یوم قائد ( برسی)

---------------------------------------------
اہم سیاسی پارٹیاں:

1) پاکستان تحریک انصاف ( عمران خان)
2) پاکستان مسلم لیگ ( شہباز شریف)
3) پاکستان پیپلز پارٹی ( بلاول / زرداری)
4) جماعت اسلامی ( سراج الحق )
5) جمیعت علماء اسلام ( مولانا فضل الرحمان )
6) مسلم لیگ ق ( چوہدری پرویز الہی)
7) متحدہ قومی موومنٹ ( فاروق ستار/ ندیم نصرت )
8) عوامی نیشنل پارٹی ( میاں افتخار حسین )
9) بلوچستان نیشنل پارٹی ( میر اسرار الله زہری / سردار اختر خان مینگل )
10) پختونخواہ ملی عوامی پارٹی ( محمود خان اچکزئی)
11) نیشنل پارٹی ( میر حاصل خان بزنجو)
12) پاکستان مسلم لیگ فنکشنل ( پیر پگاڑا)
13) پاک سرزمین پارٹی ( مصطفی کمال)
14) قومی وطن پارٹی ( آفتاب احمد شیرپاؤ)

---------------------------------------------
منفرد اعزازات:

* مدینہ کے بعد واحد اور پہلی ریاست جو اسلام کے نام پر بنی۔

* واحد اسلامی ایٹمی طاقت

* دنیا کی ساتویں بڑی اور بہترین فوج

* دنیا کی درجہ اول کی خفیہ ایجنسی

* واحد کرکٹ ٹیم جس نے ہر فارمیٹ کے عالمی مقابلے جیتے

* سب سے زیادہ بار ہاکی کا عالمی مقابلہ جیتنے والی ٹیم

* دنیا میں سب سے زیادہ خیرات کرنے والی قوم

---------------------------------------------
اہم مسائل
دہشت گردی، بےروزگاری، کرپشن، کشمیر، جمہوری و معاشی عدم استحکام --------------------------------------------

Knowledge - Encyclopedia
▪▫▪▫▪▫▪▫▪
*═════ ♢.✰.♢ ═════*
*彡★ہم سب کا پاکستان★* 彡*
*═════ ♢.✰.♢ ═════*

آرٹیکل 370 اور آرٹیکل 35 A کیا تھا؟★★★★☆تقسیمِ برصغیر کے وقت جموں و کشمیر کے حکمران راجہ ہری سنگھ نے پہلے تو خودمختار رہ...
10/08/2019

آرٹیکل 370 اور آرٹیکل 35 A کیا تھا؟
★★★★☆

تقسیمِ برصغیر کے وقت جموں و کشمیر کے حکمران راجہ ہری سنگھ نے پہلے تو خودمختار رہنے کا فیصلہ کیا تاہم بعدازاں مشروط طور پر انڈیا سے الحاق پر آمادگی ظاہر کی تھی.
اس صورتحال میں انڈیا کے آئین میں شق 370 کو شامل کیا گیا جس کے تحت جموں و کشمیر کو خصوصی درجہ اور اختیارات دیے گئے۔
تاہم ریاست کی جانب سے علیحدہ آئین کا بھی مطالبہ کیا گیا۔ جس پر سنہ 1951 میں وہاں ریاستی آئین ساز اسمبلی کے قیام کی اجازت بھی دے دی گئی۔
انڈین آئین کی شق 370 عبوری انتظامی ڈھانچے کے بارے میں ہے اور یہ دراصل مرکز اور ریاستِ جموں و کشمیر کے تعلقات کے خدوخال کا تعین کرتا تھا۔
یہ آرٹیکل ریاست جموں و کشمیر کو انڈین یونین میں خصوصی نیم خودمختار حیثیت دیتا تھا اور ریاست جموں و کشمیر کے وزیراعظم شیخ عبداللہ اور انڈین وزیراعظم جواہر لعل نہرو کی اس پر پانچ ماہ کی مشاورت کے بعد اسے آئین میں شامل کیا گیا تھا۔
اس کے تحت ریاست جموں و کشمیر کو ایک خاص مقام حاصل تھا اور انڈیا کے آئین کی جو دفعات دیگر ریاستوں پر لاگو ہوتی ہیں اس آرٹیکل کے تحت ان کا اطلاق ریاست جموں و کشمیر پر نہیں ہو سکتا تھا۔
اس کے تحت ریاست کو اپنا آئین بنانے، الگ پرچم رکھنے کا حق دیا گیا تھا جبکہ انڈیا کے صدر کے پاس ریاست کا آئین معطل کرنے کا حق بھی نہیں تھا۔
اس آرٹیکل کے تحت دفاع، مواصلات اور خارجہ امور کے علاوہ کسی اور معاملے میں مرکزی حکومت یا پارلیمان ریاست میں ریاستی حکومت کی توثیق کے بغیر انڈین قوانین کا اطلاق نہیں کر سکتی تھی۔

بھارتی آئین کے آرٹیکل 360 کے تحت وفاقی حکومت کسی ریاست میں یا پورے ملک میں مالیاتی ایمرجنسی نافذ کر سکتی ہے تاہم آرٹیکل 370 کے تحت انڈین حکومت کو جموں و کشمیر میں اس اقدام کی اجازت نہیں تھی۔
انڈیا کے آئین میں جموں و کشمیر کی خصوصی شہریت کے حق سے متعلق دفعہ 35-A کا مسئلہ کشمیر سے بھی پرانا ہے۔
اس قانون کی رُو سے جموں کشمیر کی حدود سے باہر کسی بھی علاقے کا شہری ریاست میں غیرمنقولہ جائیداد کا مالک نہیں بن سکتا، یہاں نوکری حاصل نہیں کرسکتا اور نہ کشمیر میں آزادانہ طور سرمایہ کاری کرسکتا ہے۔

یہ قوانین ڈوگرہ مہاراجہ ہری سنگھ نے سنہ 1927 سے 1932 کے درمیان مرتب کیے تھے اور ان ہی قوانین کو سنہ 1954 میں ایک صدارتی حکمنامے کے ذریعہ آئین ہند میں شامل کر لیا گیا تھا۔

کشمیریوں کو خدشہ ہے کہ آئینِ ہند میں موجود یہ حفاظتی دیوار گرنے کے نتیجے میں تو وہ فلسطینیوں کی طرح بے وطن ہو جائیں گے، کیونکہ غیر مسلم آبادکاروں کی کشمیر آمد کے نتیجے میں ان کی زمینوں، وسائل اور روزگار پر قبضہ ہو سکتا ہے۔
یہ خدشہ صرف کشمیر کے علیحدگی پسند حلقوں تک محدود نہیں بلکہ ہند نواز سیاسی حلقے بھی اس دفعہ کے بچاؤ میں پیش پیش رہے۔

*Azad Kashmir* :★★★★☆Azad Jammu and Kashmir Interim Constitution Act (VIII of 1974), S. 2---Azad Jammu and Kashmir is a ...
07/08/2019

*Azad Kashmir* :
★★★★☆
Azad Jammu and Kashmir Interim Constitution Act (VIII of 1974), S. 2---Azad Jammu and Kashmir is a separate territory and not included in the territory of Pakistan.

🌐  سے متعلق آگاہی : ★★★★☆جب بھی آپ کسی  #برانڈ پر شاپنگ کرنے یا کسی  #ہوٹل میں کھانا کھانے جائیں تو  #بل کو بغور پڑھیے د...
07/08/2019

🌐 سے متعلق آگاہی :
★★★★☆

جب بھی آپ کسی #برانڈ پر شاپنگ کرنے یا کسی #ہوٹل میں کھانا کھانے جائیں تو #بل کو بغور پڑھیے
دوکاندار نے آپ کے بل کے سب سے نیچے17٪ یا 16% اضافی ٹیکس مینشن کیا ہو گا۔
آپ بل پر دیکھیں کے STN مطلب سیلز ٹیکس نمبر موجود ہے۔
جس کے نام پر وہ آپ سے 17٪ یا 16% اضافی وصول کر رہا ہے تو دیجیے۔
‏ورنہ اب آپ اپنے موبائل کا کیمرہ آن کیجیے اور ویڈیو آن کر لیجیے اور دوکاندار سے STN مانگیے۔

اگر وہ آپکو FBR کا بنا ہوا NTN دکھائے تو بالکل اس کے جھانسے میں نہ آئیں۔

کیونکہ NTN کا مطلب "نیشنل ٹیکس نمبر" ہے جو اس کے کاروبار کی رجسٹریشن ہے۔

لیکن الگ چیز ہے
آپ اس سے ‏سیلز ٹیکس نمبر" لینے کا قانونی حق رکھتے ہیں ۔

اگر وہ STN سیلز ٹیکس نمبر نہ دکھائے تو یقین کر لیجیے کے وہ دوکاندار چور ہے اور سرکار کے نام پر آپ سے پیسے وصول کر کے چوری کر رہا ہے۔
آپ اس دوکاندار کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے کا حق رکھتے ہیں.
اسی وقت FBR کی ہیلپ لائن

0800-00 227
‏051-111-227-227
پر کال کیجیے اور
کمپلین درج کروائیں آپ کی چھوٹی سی کوشش اس ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔🌐

*سڑک کی لکیروں کی تاریخ*★★★★☆برطانیہ میں 1918 میں سڑکوں پر سفید لکیروں کو پینٹ کرنا شروع کیا گیا تھا مگر یہ مشق 1936 میں...
23/06/2019

*سڑک کی لکیروں کی تاریخ*
★★★★☆

برطانیہ میں 1918 میں سڑکوں پر سفید لکیروں کو پینٹ کرنا شروع کیا گیا تھا مگر یہ مشق 1936 میں جاکر معمول بنی۔

اس وقت یہ سفید لکیریں انٹرسیکشن اور جنکشن پر اس لیے پینٹ کی جاتی تھیں کہ ڈرائیورز یہاں رک سکیں۔

1940 کی دہائی میں یہ سفید لکیریں ٹریفک کو مختلف لینز میں تقسیم کرنے کے لیے استعمال ہونے لگیں، یہاں سڑک کو درمیان سے دو حصوں میں تقسیم کرنے لگیں۔

زرد لکیریں پہلی بار 1950 کی دہائی میں نظر آئیں اور ان کا مقصد پارکنگ، انتظار اور لوڈنگ کے حوالے سے پابندیوں سے لوگوں کو آگاہ کرنا تھا۔

آج کی دنیا میں ایسی بیشتر لکیریں پینٹ کی بجائے تھرمو پلاسٹک سے تیار کی جاتی ہیں جو کہ پائیدار ہونے کے ساتھ کئی برسوں تک خراب نہیں ہوتیں۔

دنیا بھر میں جو لکیریں سب سے زیادہ عام ہیں وہ سفید یا زرد ہوتی ہیں، جن میں سے کچھ مکمل لکیر کی شکل میں ہوتی ہیں، کہیں کٹی ہوئی جبکہ کئی جگہ ان دونوں کا امتزاج۔

*مکمل سفید لکیر*

اگر سڑک ے درمیان ایک سفید لکیر کھچی ہوئی ہے اور درمیان سے کٹی ہوئی نہیں، تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کے آگے موجود گاڑی کو اوور ٹیک کرنا یا لین تبدیل کرنے پر پابندی ہے، اپنی لین میں اس وقت تک موجود رہیں، جب تک لکیریں بدل نہ جائیں۔

*کٹی ہوئی سفید لکیریں*

اس طرح کی لکیریں سڑک کے درمیان میں ہوتی ہیں، جن کا مطلب ہوتا ہے کہ آپ اپنے آگے موجود گاڑی کو اوور ٹیک یا لین چینج کرسکتے ہیں، بس دیکھ بھال کر یہ کام کرنا ضروری ہوتا ہے۔

*مکمل زرد لکیر*

اس طرح کی لکیر اگر سڑک کے کانرے ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اس جگہ پارکنگ کی اجازت نہیں، کچھ ممالک میں زرد رنگ کی لکیر سڑک کے درمیان ہوتی ہے جو کہ مکمل سفید لکیر جیسا ہی کام کرتی ہے یعنی گاڑی کو اوور ٹیک کرنے یا چینج بدلنے کی اجازت نہیں ہوتی۔

*دوہری مکمل زرد لکیریں*

اس طرح کی لکیریں اگر سڑک کے درمیان میں ہو تو اس کا عام طور پر مطلب یہ ہوتا ہے کہ اوورٹیکنگ یا لین بدلنا خطرناک ہوسکتا ہے اور اس کا مشورہ نہیں دیا جاسکتا، کچھ ممالک جیسے برطانیہ میں سڑک کے کنارے ایسی لکیروں سے عندیہ دیا جاتا ہے کہ یہاں گاڑی روک کر اس میں بیٹھ کر انتظار تو کیا جاسکتا ہے مگر پارکنگ کی اجازت نہیں۔

پاکستان کے آئینی سربراہ اور اداروں کے سربراہان :★★★★☆
21/06/2019

پاکستان کے آئینی سربراہ اور اداروں کے سربراہان :
★★★★☆

19/06/2019

سوال؟؟؟
آپکو کتنی عمر میں پتا چلا کے فیس بک چلاتے ہوئے موبائل کو ہلائیں تو رپورٹ کا آپشن آ جاتا ہے ؟؟؟
🤔

03/06/2019
فیس بک پر آپ کی تصویر پوسٹ ہونے پر خبردار کرنے والا سافٹ ویئر :★★★★☆فیس بک نے چہرہ شناسی کےتین آپشن پیش کردیے ہیں۔ تیز...
13/05/2019

فیس بک پر آپ کی تصویر پوسٹ ہونے پر خبردار کرنے والا سافٹ ویئر :
★★★★☆

فیس بک نے چہرہ شناسی کےتین آپشن پیش کردیے ہیں۔
تیزی سے مقبول ہوتا ہوا فیس بک اپنے پلیٹ فارم پر آرٹی فیشل انٹیلی جنس (مصنوعی ذہانت) کا دائرہ وسیع کررہا ہے اور اس ضمن میں ایک نئے فیچر پر کام ہورہا جو فیس بک پر کہیں بھی آپ کا چہرہ اپ لوڈ ہونے پر آپ کو مطلع کردے گا۔

اس ضمن میں چہرہ شناسی (فیشل ریکگنیشن) کےتین طاقتور الگورتھمز پہلے ہی پیش کیے جاچکے ہیں
جن میں سے ایک خراب بصارت والے افراد کو بتائے گا کہ تصویر میں کیا کیا اشیا موجود ہیں۔
دوسرے آپشن میں اگرکوئی آپ کی پروفائل تصویر چراتا ہے یا اس پر کمنٹ کرتا ہے تو فیس بک آپ کو اس سے آگاہ کرے گا۔

ان میں سب سے اہم الگورتھم مصنوعی ذہانت استعمال کرتے ہوئے نوٹ کرتا ہے کہ جب کوئی آپ کی اپنی تصویر فیس بک پر کہیں بھی اپ لوڈ کرے تو وہ اس کی اطلاع آپ تک پہنچائے گا خواہ آپ کو ٹیگ کے ذریعے آگاہ کیا گیا ہو یا نہ کیا گیا ہو۔
ان میں سے پہلی سہولت بہت اچھی ہے جس کے ذریعے متاثرہ بینائی والے افراد بھی تصویر کے احوال سے واقف ہوسکیں گے جبکہ دوسرے آپشن کے ذریعے جعلی اکاؤنٹس اور لوگوں کو بدنام کرنے کی کوشش کا تدارک ہوگا۔ تیسرا آپشن آپ کی پرائیویسی برقرار رکھتے ہوئے آپ کی اجازت کے بغیر کہیں بھی تصویر کے استعمال کی حوصلہ شکنی کے گا۔ اس فیچر سے خواتین کا بہت بھلا ہوگا جن کی تصاویر سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہتی ہیں۔

اس سے کئی فوائد حاصل ہوں گے اور فیس بک کے پورے پلیٹ فارم پر شفافیت میں اضافہ ہوگا۔ دوسری جانب اس سے پرائیویسی کو بہتر بنانے میں بھی مدد ملے گی۔

Address

Basildon

Telephone

+923059569550

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ronin Furniture posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share