11/09/2021
پشاور ائر پورٹ کے راستے خلیجی ملکوں سے آنیوالے مسافروں کو لوٹنے کا اسکینڈل پشاورا ئر پورٹ کے راستےخلیجی ملکوں سے آنیوالے مسافروں کو تازہ کورونا نیگیٹیو ٹیسٹ اور کورونا ویکسی نیشن سرٹیفیکیٹ دکھانے کے باوجود زبردستی رپیڈ کورونا ٹیسٹ پر مجبور کیا جارہا ہے جس کے نتیجے میں سینکڑوں مسافروں کو پشاور کے ایک مقامی ہوٹل میں ہزاروں روپے کے عوض قرنطینہ میں رکھاجارہا ہے ۔ پشاور کے جنرل بس اسٹینڈ کے قریب واقع ایک ہوٹل میں قرنطین مسافروں سے چالیس ہزار روپے فی کس دس دن کے عوض وصول کئے جارہے ہیں ۔ مذکورہ ہوٹل جو کہ ایک ریٹائرڈ پولیس افسر کی ملکیت بتایا جارہا ہے میں روزانہ کے حساب سے درجنوں غیرملکی مسافروں کو رکھاجارہا ہے اور یہ سب کچھ پشاور کی انتظامیہ اور محکمہ صحت کی ملی بھگت سے ہورہا ہے ۔بیرون ملک سے آنیوالے مسافروں کے پاس یو اے ای یا دیگر ممالک میں مستند لیبارٹریوں کے کورونا نیگیٹیوٹیسٹ اور کورونا ویکسی نیشن کے سرٹیفیکیٹ بھی موجود ہوتے ہیں لیکن اسکے باوجود انکے کوروناریپڈ ٹیسٹ ایک غیرمستند کٹ کے ذریعے کرائے جاتے ہیں جسکے نتیجے میں اکثر مسافروں کے ٹیسٹ مثبت ظاہر ہوجاتے ہیں ۔پشاور ائر پورٹ پرمسافروں کے ساتھ ہونےوالے اس زیادتی اور ظلم کے بعد خلیجی ملکوں سے وطن واپس آنیوالے اکثر مسافروں نے اسلام آباد اور ملک کے دیگر ائر پورٹس کا رخ کرلیا ہے جس کی وجہ سے خدشہ ہے کہ پشاور ائر پورٹ ایک بار پھرغیرملکی پروازیں نہ ہونے کی وجہ سے بند کردیا جائیگا ۔بیرون ملک مقیم ان پاکستانیوں نے وزیر اعظم پاکستان عمران خان اور وزیراعلی خیبر پختونخوا محمود خان سے مطالبہ کیا ہے کہ مسافروں کے پاس تازہ کورونا ٹیسٹ کی موجودگی پر پشاور ائر پورٹ پر غیر ضروری ٹیسٹوں کا سلسلہ فوری طورپر بند کیا جائے اور پاکستان کےلئے قیمتی زرمبادلہ بھیجنے والے ان محنت کش پاکستانیوں کو اپنے ہی ملک میں قرنطینہ کے نام پر لوٹنے اور ذلیل وخوار کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے کیونکہ اس کی وجہ سے نہ صرف پشاور ائر پورٹ بلکہ حکومت کی بھی بدنامی ہورہی ہے ۔جب مذکورہ مسافر انتظامیہ سے اپنے گھر جاکر وہاں پر قرنطین ہونے کا کہتے ہیں تو انہیں کہاجاتا ہے کہ آپ کو لازمی طورپر مذکورہ ہوٹل ہی میں لیکن اپنے خرچے پر قرنطین ہونا پڑے گا۔یہاں پر اس بات کا ذکر دلچسپی سے خالی نہیں کہ جب بھی کسی سرکاری اہلکار یا سیاستدان کو کورونا ہوجاتا ہے تو اسے اپنے گھر میں قرنطین ہونے کی اجازت ہوتی ہے تاہم جب یہی کیس کسی عام شہری اور خصوصی طورپر بیرون ملک سے آنیوالوں کے ساتھ پیش آتا ہے تو پھر قانونی پیچیدگیاں سامنے آجاتی ہیں ۔اس بات کا ذکر بھی ضروری ہے کہ ان دس دنوں کے قرنطینہ میں کورونا مثبت ثابت کئے گئے مریضوں کو کسی علاج معالجے کی سہولت نہیں دی جاتی صرف چالیس ہزار روپے کے عوض قید تنہائی ہی دی جاتی ہے جو کہ ایک غیر انسانی سلوک اور ظلم ہے۔
رپورٹ فدا خٹک. . . . . . . . . . . . copy