24/09/2025
پاکستان کو ماحولیاتی تبدیلیوں کا سامنا وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا شجر کاری کیلئے خصوصی احکامات جاری
راولپنڈی و چکلالہ کنٹونمنٹ موسم شجر کاری مہمات میں ہزاروں درختوں کو لگانے کے بعد بھی سایہ دار اور پھلدار درختوں کی کم ہوتی تعداد
راولپنڈی (نامہ نگار خصوصی) راولپنڈی و چکلالہ کنٹونمنٹ بورڈز کے علاقوں میں ہر سال شجر کاری کے موسم میں لاکھوں روپے مالیت کے ہزاروں درخت لگائے جانے کے بعد بھی چھاونی کے علاقوں میں سایہ دار اور پھلدار درختوں کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے۔ یاد رہے کہ وزیر اعلی پنجاب مریم نواز کی جانب سے پاکستان کو درپیش موسمی تبدیلیوں سے بچانے اور پاکستان کے مستقبل کو سر سبز و شاداب بنانے کیلئے شجر کاری کیلئے واضع احکامات جاری کر رکھے ہیں اور ہر سال بہار کے موسم سے قبل ہی ملک بھر کی طرح راولپنڈی شہر و چھاونی کے علاقوں میں شجر کاری مہمات چلانے کیلئے واضع احکامات بھی جاری تو کیے جاتے ہیں لیکن سالوں سے ہر سال راولپنڈی و چکلالہ کنٹونمنٹ بورڈ کے علاقوں میں عوام کے ٹیکسوں کی کمائی سے ہزاروں درخت تو لگائے جاتے ہیں لیکن ہر سال ہی انکی تعداد نا ہونے کے برابر رہ جاتی ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ ہر سال موسم بہار کے آنے سے پہلے سارے علاقے بغیر درختوں کے راولپنڈی و چکلالہ کے گارڈن برانچ کی بہترین کار کردگی کی داستانین سناتے نظر آتے ہیں اور گزشتہ سال جن جگہوں پر پہلے درخت لگائے گئے تھے وہاں ہی اور درخت لگا کر فائلوں کا پیٹ بھر دیا جاتا ہے اور یوں وہ لگائے گئے درخت چند ماہ کے بعد ہی پھلنے پھولنے کی بجائے ختم ہو جاتے ہیں اور اگلے سال موسم بہار کے آنے سے پہلے انکے نام و نشان ہی ختم ہو جاتا ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان کو ماحولیاتی تبدیلیوں کا سامنا ہے جس کی وجہ سے وطن عزیز کو مختلف قسم کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور ان چیلنجز سے نمٹنے کیلئے وزیر اعلی پنجاب کی جانب سے ملک بھر میں ہر سال موسم بہار سے قبل موثر اور بھر پور مہامات چلانے کے واضع احکامات جاری کر رکھے گئے ہیں اور انہی کے احکامات کی روشنی میں راولپنڈی و چھاونی کے علاقوں میں بھی موسم بہار سے قبل سایہ دار اور پھلدار درخت لگانے کے واضع احکامات جاری کر رکھے ہیں لیکن کمال حیرت کی بات یہ ہے کہ ہر سال ہزاروں درخت لگائے جانے کے بعد بھی راولپنڈی و چھاونی کے علاقوں میں پھلدار اور سایہ دار درختوں کی تعداد انتہائی کم ہے اگر اس ضمن میں کوئی بھی ذمہ دار چاہے تو شواہد کے ساتھ اپنا موقف دے سکتا ہے جسکو ادارہ اپنی غیر جانبدارانہ پالیسی کے مطابق مناسب جگہ فراہم کرے گ