05/11/2022
مختصر کہانی : طبقاتی نظام میں ہوا کی تقسیم
مصنف : محمدجمیل اختر
درخت کم تھے، آبادی زیادہ اور ہوا اِس قدر آلودہ تھی کہ لوگ سانس لینے کی خاطر آکسیجن سلینڈر اپنے ساتھ رکھتے۔۔۔جگہ جگہ آکسیجن اسٹیشن بن گئے تھے جہاں لوگ لمبی قطاروں میں اپنی اپنی باری کا انتظار کرتے رہتے۔۔۔بڑی بڑی کمپنیاں دن رات اپنے اشتہارات تقسیم کرتی رہتیں کہ اگر اپنے پھیپھڑوں کو تندرست وتوانا رکھنا چاہتے ہیں تو اُن کی کمپنی کا آکسیجن سلینڈرحاصل کریں،اگرچہ فضا میں آکسیجن اب بھی موجود تھی لیکن اِن کمپنیوں نے جدید تحقیق سے یہ ثابت کر دیا تھا کہ اب بغیر آکسیجن ماسک کے سانس لینا زندگی کے لیے خطرہ ہے سو لوگ سانس لیتے ہوئے گھبرانے لگے۔۔۔
آکسیجن کی تقسیم میں بھی طبقاتی نظام رائج تھا، طاقتور کو زیادہ اور آسانی سے آکسیجن دستیاب تھی بلکہ اُنہیں کبھی بھی آکسیجن حاصل کرنے کی خاطر قطار میں نہ کھڑا ہونا پڑتا اور ابھی اُن کے گھروں کے سٹور روم میں کئی سلینڈر پڑے ہوتے کہ نئی کھیپ اُن کے دروازے پر پہنچ جاتی یہی وجہ تھی کہ اُن لوگوں نے کئی کئی سالوں کی ایڈوانس آکسیجن جمع کر رکھی تھی۔۔۔غریب لوگ اپنے پرانے سلینڈر ہاتھوں میں لیے قطار میں کھڑے رہتے، بہت سے لوگ دم گھٹنے کی وجہ جان کی بازی ہار جاتے۔۔اُن کے عزیز رشتہ دار سڑک بند کرکے احتجاج کرتے لیکن طاقتور طبقہ ہمیشہ یہی کہتا کہ ہمیں تمہارے دکھوں کا پوری طرح احساس ہے، جلد کوئی حل نکالتے ہیں، سڑک کھول دو۔۔۔سڑک کھل جاتی لیکن حل نہ نکلتا حتٰی کہ کوئی اور آدمی دم گھٹنے سے ہلاک ہو جاتا۔۔۔۔۔
ختم شد
Imran Khan Engr Shoaib Imran Khan Pakistan Tehreek-e-Insaf Pakistan Engineering Council Pakistan Engineering Congress (PEC) Queensland Environment Young Engineers Association وزارة البيئة - Ministry of Environment Environment Films Voice of Engineers National Engineers Alliance Engr Shoaib National Engineers WESSA Wildlife and Environment Society of South Africa Energy & Environment Legal Institute Meta for Education Box Tops for Education IDP Education eduK Anhanguera Educacional Eduard Ed'Esme Ocean Edu ISLAM