Techno Solar Pakistan

Techno Solar Pakistan Are you looking for a best Performance Solar Energy Solutions.?. For sure you have reached at right

We offer honest, branded and matching to your need solutions at the most economical rates

02/05/2026

یہ ویڈیو فراڈ ہے
ایسا ہونا ممکن نہیں ہے۔
اس ویڈیو میں دکھایا گیا تصور کہ گاڑی کی چھت پر لگے پنکھے چلتی ہوئی گاڑی کی ہوا سے بجلی بنا کر اسی کی بیٹری کو چارج کریں گے، ایک ناممکن تھیوری ہے جو فزکس کے بنیادی اصول کے خلاف ہے۔
۔
یہ فزکس کے ایک انتہائی گہرے اور بنیادی اصول سے جڑا ہوا ہے جسے قانونِ بقائے توانائی کہا جاتا ہے۔ اِس کے مطابق توانائی نہ تو پیدا کی جا سکتی ہے اور نہ ہی ختم کی جا سکتی ہے بلکہ اسے صرف ایک شکل سے دوسری شکل میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
۔
ویڈیو کے مطابق اس گاڑی پر پنکھے لگا کر اسے ایک ایسی مشین بنانے کی کوشش ہے جسے سائنس کی اصطلاح میں ’’پرپیچوئل موشن مشین‘‘ (Perpetual Motion Machine) کہا جاتا ہے جو کبھی نہیں رکتی۔ حقیقت میں لیکن ایسی مشین بنانا فی الحال تک ناممکن ہے۔ یاد رکھیں کہ جب گاڑی سڑک پر دوڑتی ہے تو اسے آگے بڑھنے کے لئے ہوا کے دباؤ کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے اور اگر ہم اس کی چھت پر پنکھے لگا دیں گے تو یہ پنکھے ہوا کے راستے میں مزید رکاوٹ یعنی ڈریگ (drag) پیدا کریں گے۔ اِس کی وجہ سے گاڑی کے انجن یا موٹر کو پہلے سے کہیں زیادہ طاقت صرف کرنی پڑے گی۔ گاڑی جتنی زیادہ بجلی ان پنکھوں سے پیدا کرنے کی کوشش کرے گی ان پنکھوں کی وجہ سے ہوا کا دباؤ اتنا ہی بڑھتا جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ بیٹری سے خرچ ہونے والی بجلی کی مقدار اس پیدا ہونے والی بجلی سے ہمیشہ زیادہ ہی رہے گی کیونکہ کوئی بھی مکینیکل نظام رگڑ اور حرارت کی صورت میں توانائی کے ضیاع سے پاک نہیں ہوتا۔
۔
عملی طور پر یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص اپنے جوتوں کے تسمے پکڑ کر خود کو اوپر اٹھانے کی کوشش کرے یا کوئی ایسی موٹر بنائے جو اپنی ہی پیدا کردہ بجلی سے خود کو چلاتی رہے لہٰذا انجینئرنگ کے لحاظ سے یہ ایک غیر موثر طریقہ ہے جو بیٹری کو چارج کرنے کے بجائے اسے مزید تیزی سے ختم کرنے کا باعث بنے گا۔
۔
یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی کہے کہ میں اپنی چھت پر ایک بڑا پنکھا لگا کر اس کی ہوا سے کشتی چلاؤں گا اور وہی ہوا کشتی پر لگی دوسری ونڈ مل کو گھما کر بیٹری چارج کرے گی۔ یوں سمجھ لیں کہ ایسا کرنے میں آپ بیٹری سے 100 یونٹ نکال کر گاڑی چلائیں گے تو پنکھے بمشکل 10 یا 20 یونٹ واپس دے سکیں گے جبکہ ہوا کی رکاوٹ کی وجہ سے گاڑی 150 یونٹ خرچ کر چکی ہو گی۔
۔
سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر ایسا ممکن ہوتا تو اس احمق انڈین YouTuber سے بہت پہلے دنیا کی تمام بڑی الیکٹرک کار کمپنیاں (BYD, Tesla وغیرہ) اب تک یہ فیچر اپنی گاڑیوں میں دے چکی ہوتیں۔
اصل تکینیکی معلومات اور سولر بزنس کے لئے ہمارے ساتھ جڑے رہیں۔
۔
والسلام
غیور ترمذی
Techno Solar Pakistan
https://wa.me/923061814868

02/05/2026

نیٹ میٹرنگ ختم کرتے ہوئے حکومت نے بہانہ بنایا تھا کہ ہمارے پاس وافر مقدار میں بجلی موجود ہے اس لئے سولر سارفین کی طرف سے گرڈ میں بجلی لینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
اور
اب نیٹ میٹرنگ بھی ختم ہے اور اوپر سے لوڈ شیڈنگ بھی واپڈا والے دبا کے کر رہے ہیں-
مزید تفصیلات کے لئے چینل 24 پر یہ پوڈ کاسٹ ملاحظہ فرمائیں۔

https://www.facebook.com/share/v/1Cv6qYbAKn/

والسلام
غیور ترمذی
لاہور

السلام و علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہعید الفطر - 1447 ھ بمطابق 2026ءایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حالیہ دہشت گردانہ حملو...
20/03/2026

السلام و علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ
عید الفطر - 1447 ھ بمطابق 2026ء
ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حالیہ دہشت گردانہ حملوں میں مناب اسکول کی 160 معصوم طالبات، آغا رہبر سید علی خامنہ ای، سید علی لاریجانی اور دیگر شہداء کی دلخراش اور بہیمانہ شہادت نے ہمارے دلوں کو گہرے صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔ اس غم اور سوگ کی کیفیت میں ہم عید الفطر کی خوشیاں منانے سے قاصر ہیں۔
۔
اسی باعث ہم اپنے معزز سرپرستوں اور قابلِ قدر کلائنٹس سے دلی معذرت خواہ ہیں کہ اس مرتبہ ہم عید الفطر کی روایتی مبارکباد کے پیغامات ارسال نہیں کر سکیں گے۔
۔
آپ کی محبت اور سمجھ بوجھ کے شکر گزار ہیں۔
۔
والسلام
غیور ترمذی & فیملی – لاہور
Techno Solar Pakistan
https://wa.me/923061814868

14/02/2026

نیٹ میٹرنگ بمقابلہ نیٹ بلنگ
۔
حکومت نیٹ میٹرنگ کو نیٹ بلنگ کے ساتھ کیوں تبدیل کرنا چاہتی ہے
اور
پرائیویٹ بجلی گھروں کے ساتھ کیپیسیٹی چارجز معاہدوں کی باقی ماندہ مدت کتنی ہے؟
۔
عوام کے ساتھ ظلم کا ذمہ دار کون ہے؟
۔
نیشنل ٹیلی ویژن پر آپ کا اپنا
۔






13/11/2025

⚡ونڈ ٹربائن ٹیکنالوجی میں انقلاب
اور
🇵🇰 پاکستان میں ہوا کی توانائی کا مستقبل
🌪️ حقیقت، معیشت اور دیکھ بھال
۔
۔
🌐 دنیا بھر میں جدید ٹیکنالوجی نے ونڈ ٹربائنز سے بجلی کی پیداوار شروع کرنے کے لئے درکار کم از کم ہوا کی رفتار (جسے کٹ اِن اسپیڈ --cut-in speed کہتے ہیں) کو تاریخی طور پر کم کر کے توانائی کے شعبے میں ایک انقلاب برپا کر دیا ہے۔ اب ٹربائنیں معمولی ہوا سے بھی بجلی بنا سکتی ہیں۔ موجودہ دور کی جدید ٹربائنز (2010 کے بعد تیار شدہ) صرف 3–4 میٹر فی سیکنڈ (10.8–14.4 کلومیٹر/گھنٹہ یا 6.7–8.9 میل فی گھنٹہ) کی رفتار پر کام شروع کر دیتی ہیں جبکہ بعض چھوٹے ماڈلز تو 2.2 میٹر فی سیکنڈ کی کم ترین رفتار پر بھی فعال ہو جاتے ہیں۔
اس کامیابی کے پیچھے
ایرو ڈائنامک بلیڈ ڈیزائن کا کردار ہے جو ہلکے مرکب مواد (جیسے کاربن فائبر اور فائبر گلاس) سے تیار کئے گئے ہیں اور ڈریگ کو کم کرتے ہیں۔
مزید برآں
ڈائریکٹ ڈرائیو جنریٹرز بھی گیئر باکسز کی ضرورت کو ختم کر کے میکینیکل مزاحمت کو کم کرتے ہیں اور سمارٹ پِچ کنٹرول سسٹمز بلیڈز کے زاویوں کو خودکار طریقے سے ایڈجسٹ کر کے معمولی ہوا کو بھی زیادہ سے زیادہ استعمال کرتے ہیں۔
۔
۔
📈 ٹیکنالوجی کا ارتقاء اور معاشی اثرات
۔
کٹ اِن اسپیڈ میں کمی نے نہ صرف ٹیکنالوجی کو بہتر کیا ہے بلکہ اس کے اقتصادی اور آپریشنل فوائد بھی نمایاں ہیں۔ اب ٹربائنیں سال کے 70%–85% وقت بجلی پیدا کرتی ہیں، جبکہ پرانے ماڈلز صرف 40%–50% وقت ہی مؤثر ہوتے تھے۔ اس بڑھی ہوئی کارکردگی نے سرمایہ کاری پر منافع (ROI) کو بہتر کیا ہے اور عالمی سطح پر 15%–20% زیادہ مقامات ونڈ فارمز کے لئے قابل عمل ہو گئے ہیں۔
ٹربائنز کی ڈیزائن تبدیلیوں کا خلاصہ درج ذیل ہے:

--> ارتقائی محرکات کی تفصیل:
ٹربائنوں کے ارتقاء میں بلیڈ ڈیزائن ایک کلیدی عنصر رہا ہے -- ماضی میں بھاری لکڑی یا اسٹیل کے بلیڈز استعمال ہوتے تھے جو زیادہ ڈریگ پیدا کرتے تھے جبکہ اب ہلکے مرکب مواد سے بنے بہتر ایرو ڈائنامکس والے بلیڈز استعمال ہوتے ہیں۔
جنریٹر ٹیکنالوجی میں پرانے گیئر باکس پر منحصر اور زیادہ رگڑ والے نظام کی جگہ اب ڈائریکٹ ڈرائیو اور مقناطیسی لیویٹیشن والے سسٹمز نے لے لی ہے۔
کنٹرول سسٹمز جو ماضی میں دستی یا فکسڈ پِچ بلیڈز پر مشتمل تھے اب مصنوعی ذہانت (AI) سے چلنے والے پِچ اور یا سسٹمز میں تبدیل ہو چکے ہیں۔
آخر میں توانائی کی تبدیلی کا فوکس جو پہلے میکینیکل کاموں پر تھا اب اعلیٰ کارکردگی کی برقی پیداوار پر مرکوز ہو گیا ہے۔ کٹ اِن اسپیڈ میں یہ کمی 1980 کی دہائی سے اب تک تقریباً 50% سے زیادہ رہی ہے۔

🇵🇰 پاکستان میں ونڈ انرجی: مواقع اور چیلنجز

یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اگرچہ ٹربائنیں کم رفتار پر چلنا شروع کر دیتی ہیں لیکن اقتصادی کامیابی کے لئے اوسط ہوا کی رفتار 6میٹر – 8 میٹر فی سیکنڈ سے زیادہ ہی ہونی چاہئے۔
۔
اس معیار پر پاکستان کے مختلف علاقے مختلف صلاحیتیں پیش کرتے ہیں:
۔
--> ساحلی اور بڑے ونڈ فارمز کے لئے ہاٹ اسپاٹس:
سندھ کا ساحلی کوریڈور (جیسے گھارو-جھمپیر) اور بلوچستان کا ساحل (جیسے گوادر اور پسنى) سب سے زیادہ موزوں ہیں، جہاں سالانہ اوسط ہوا کی رفتار 7.2–7.8 میٹر فی سیکنڈ تک رہتی ہے۔ یہ علاقے بڑے پیمانے پر 1.8 گیگاواٹ سے زیادہ بجلی پیدا کر رہے ہیں اور فی یونٹ لاگت $0.036/kWh (تقریباً 10 پاکستانی روپیہ فی یونٹ) تک کی ہے۔

--> رہائشی ٹربائنز کے لئے بہترین علاقے:
گلگت بلتستان کی وادیاں -- خاص طور پر خپلو (7.1 m/s)، شِگر (7.0 m/s)، اور ہنزہ (6.2–6.8 m/s)
یہ علاقے چھوٹی (1kW – 10 kW) کی ٹربائنز اور ہائبرڈ سولر-ونڈ سسٹمز کے لئے بہترین ہیں۔ ان علاقوں میں پہاڑی ڈھلانوں پر ٹربائنیں لگانا اور برف ہٹانے کا خصوصی انتظام کرنا ضروری ہے۔

--> آزاد کشمیر کے منتخب مقامات جیسے نیلم ویلی کے بالائی حصوں میں بھی اوسطاً 4.5–5 میٹر فی سیکنڈ کی رفتار موجود ہے، اور خیبر پختونخواہ کے بعض مقامات میں بھی 5.23–6.55 میٹر فی سیکنڈ کی اوسط رفتار ہائبرڈ سسٹمز (سولر + ونڈ) کے لئے قابل عمل ہے

--> غیر موزوں علاقے:
لاہور، اسلام آباد، پشاور، کوئٹہ، فیصل آباد، ملتان وغیرہ جیسے شہروں میں اوسط ہوا کی رفتار صرف 1.0 – 1.5 میٹر فی سیکنڈ رہتی ہے جو کسی بھی جدید ٹربائن کی کٹ اِن اسپیڈ (3–4 m/s) سے بہت کم ہے۔ ایسے علاقوں میں ونڈ انرجی کے منصوبے لگانا معاشی طور پر سراسر نقصان دہ ہے۔
۔
۔
🛠️ گھریلو ٹربائنوں کی دیکھ بھال: کامیابی کی ضمانت

جدید ورٹیکل ایکسز ونڈ ٹربائنز (VAWT) شہری اور دیہی ماحول میں مؤثر ہیں، لیکن ان کی طویل عمر کا راز ان کی مناسب دیکھ بھال میں پوشیدہ ہے۔ ان کی دیکھ بھال کے اخراجات سولر سسٹمز سے قدرے زیادہ ہیں مگر 24 گھنٹے بجلی کی پیداوار اسے متوازن کر دیتی ہے۔ اوسطاً ایک گھریلو ٹربائن کی سالانہ سروسنگ (بلیڈ کلیننگ، بولٹ ٹائٹنینگ، وائرنگ چیک اپ) پر 5,000 روپے سے 8,000 روپے کا خرچ آتا ہے۔
سب سے بڑا خرچ بیٹری ری پلیسمنٹ کا ہوتا ہے جو ہر 2 سے 3 سال بعد 25,000 روپے سے 30,000 روپے کا ہوتا ہے۔
۔
۔
ہر علاقے کے لئے دیکھ بھال کی مخصوص نوعیت کو سمجھنا ضروری ہے:

سندھ اور کراچی کا ساحلی علاقہ:
یہاں سب سے اہم کام نمک کی تہہ کو ہٹانا ہے جو بلیڈز پر جم جاتی ہے اور کارکردگی کو کم کرتی ہے۔ اس لئے ماہانہ بنیادوں پر بلیڈ کی صفائی ضروری ہے۔ جس پر سالانہ لاگت تقریباً 12,000–14,000 روپے تک کی آسکتی ہے۔
۔
--> بلوچستان (گوادر، پسنى):
ریت کے طوفانوں کی وجہ سے بلیڈز پر ریت کے ذرات خراشیں ڈالتے ہیں۔ اس لئے ہر 6 ماہ بعد بلیڈز کی پالش اور جنریٹر کولنگ سسٹم کا چیک اپ ضروری ہے۔ جس کی سالانہ لاگت تقریباً 16,000–18,000 روپے تک آ سکتی ہے۔
۔
--> شمالی علاقہ جات (سکردو، ہنزہ، شگر):
سردیوں میں بلیڈوں پر جمی برف کو ہٹانا لازمی ہے تاکہ ٹربائن کا توازن برقرار رہے اور سردی سے تحفظ (Cold Weather Protection) کے نظام کو چیک کرنا ضروری ہے۔ جس کی سالانہ لاگت تقریباً 9,500–12,000 روپے تک آ سکتی ہے۔
۔
۔
سب سے ضروری کام:
ٹربائن لگانے سے پہلے 30 دن تک اپنے مقام کی ہوا کی رفتار کا ڈیٹا اکٹھا کریں؛ اگر اوسط رفتار 3.5 میٹر فی سیکنڈ سے کم ہے تو سرمایہ کاری کے لئے ونڈ ٹربائن نہیں بلکہ سولر سسٹم بہتر ہے۔
۔
۔
💎 آخری بات
۔
ونڈ ٹربائن میں کٹ اِن اسپیڈ میں تاریخی کمی ایک بڑی کامیابی ہے لیکن معاشی لحاظ سے ونڈ انرجی کی سرمایہ کاری اب بھی پاکستان کے ان علاقوں میں کرنی چاہئے جہاں اوسط ہوا کی رفتار 6 میٹر فی سیکنڈ سے زیادہ ہو (جیسے ہمارے ساحلی علاقے اور گلگت بلتستان کی اونچی وادیاں)۔
ان علاقوں میں اگر مسلسل اور مخصوص دیکھ بھال پر توجہ دی جائے تو ونڈ ٹربائنز بجلی کی فراہمی کا ایک پائیدار اور موثر ذریعہ ثابت ہو سکتی ہیں۔


Highlights





https://wa.me/923061814868
Techno Solar Pakistan
Lahore

نیٹ میٹرنگ سولر سسٹم لگوانے والے بجلی کا بل کیسے کم رکھ سکتے ہیں وائے ہو ہماری کمزور انگریزی دانش کا کہ سادہ اور سیدھی ل...
26/04/2025

نیٹ میٹرنگ سولر سسٹم لگوانے والے بجلی کا بل کیسے کم رکھ سکتے ہیں

وائے ہو ہماری کمزور انگریزی دانش کا کہ سادہ اور سیدھی لکھی انگریزی کی بجائے اگر ادبی اور شاعرانہ انگریزی سامنے آ جائے تو وہ سر کے اوپر سے گزرنے لگتی ہے- پھر لیتے پھرو سہارے پرانی انگلش سے اردو ڈکشنریوں کے یا چاچا گوگل اور AI پلیٹ فارمز کے کہ جس سے اس کا اردو ترجمہ کروائیں یا پھر اسے سادہ انگریزی میں منتقل کروا کے پھر اسے اردو میں سمجھیں ۔۔۔۔
اور
ہمارے پرانے کلاس فیلو الیکٹریکل انجینئیر دوست (نام بوجہ نہیں لکھ رہا) کے سر میں پچھلی 3 دہائیوں سے ایک خبط سوار پے کہ وہ سیدھی سی بات کا بھی شاعرانہ انگریزی میں اس طرح جواب دیتا ہے کہ سوال پوچھنے والا ہونقوں کی طرح اسے دیکھتا رہ جاتا یے یا فورا" ہی راہ فرار اختیار کرتا ہے-
مثال کے طور پر
اس لے ایک کلائنٹ نے یہ سوال پوچھا کہ اس کے یہاں لگے ہوئے 12 کلو واٹ کے نیٹ میترنگ سولر سسٹم کے باوجود بھی اسے اپریل کے مہینے میں ملنے والا بجلی کا بل مارچ کے مہینے میں ملنے والے بجلی کے بل سے زیادہ کیوں ہے؟-
اور اس کے جواب میں
اس الیکٹریکل انجینئیر دوست نے جو اسے شاعرانہ انگریزی میں جواب بھیجا ہے، وہ یہاں پوسٹ میں ملاحظہ فرمائیں اور جب اسے پڑھ کر سر گھومنے لگے تو اس کا سادہ انگریزی اور اردو میں ترجمہ پہلے اور دوسرے کمنٹ میں ملاحظہ فرما لیجئے:-
In the Name of Peace, Mercy, and Divine Blessings,
The moonlit whispers of March carried your surplus gifts to WAPDA, as the evening’s twilight (from five) till dawn’s first blush (at eight) saw your lamps burn softly, sparingly.
Yet,
April’s sun stirred a different tale—your nights (from five to eight once more) now hum with restless currents, while daylight’s hours (eight to five) return but meager offerings to the grid.
Thus,
The ledger of light reveals this dance—a delicate balance of give and take.
And lo,
As summer’s fiery breath ascends, so shall your thirst for volts and watts. The gifts you send to WAPDA will wane like fading stars, while the currents drawn by night (from five to eight again) shall swell like rivers in monsoon.
This is the unyielding rhythm of seasons —nature’s decree, beyond mortal hands to mend.
But hark—
A tender hope remains: Let your coolers breathe without pause from morn’s zenith (eleven) till dusk’s embrace (five). Then, let them slumber till night’s deepest sigh (eleven and ten), and rest again till dawn’s eighth chime.
So shall WAPDA’s borrowed currents shrink—
A symphony of restraint, weaving frugality into the fabric of heat’s tyranny.
With peace and grace…






#وپڈا













Highlights

اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَ رَحْمَةُ اَللهِ وَ بَرَكاتُهُ‎اللہ رب العزت ہمیں رمضان کریم کی فیوض و برکات سمیٹنے اور محمد و آلِ...
01/03/2025

اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَ رَحْمَةُ اَللهِ وَ بَرَكاتُهُ‎

اللہ رب العزت ہمیں رمضان کریم کی فیوض و برکات سمیٹنے اور محمد و آلِ محمد پر کثرت سے درود شریف بھیجنے کی توفیق عطا فرمائے
اور
اللہ کریم ہمارے مرحومین کی مغفرت فرمائے اور ہمیں ریاکاری سے پاک عبادت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وآلِ مُحَمَّدٍ وعَجِّلْ فَرَجَهُمْ⁦

Techno Solar Pakistan

Highlights

Canadian Solar Inc.Canadian Solar 585W / 615WN type bifacial Topcon Technology Available in LahorebyTechno Solar Pakista...
21/01/2025

Canadian Solar Inc.
Canadian Solar 585W / 615W
N type bifacial Topcon Technology
Available in Lahore
by
Techno Solar Pakistan


For Installation:
We have bank financing available for residential, commercial & industrial projects

0306 1814868
https://wa.me/923061814868
(click above link to contact us via WhatsApp without saving our number)

Ghayyur Tirmazi - غیور ترمذی

 قومی بجلی ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے اپنی رپورٹ میں اعتراف کیا ہے کہ صرف 7.62 روپے فی یونٹ پیدا ہونے والی بجلی مجبور ...
01/01/2025



قومی بجلی ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے اپنی رپورٹ میں اعتراف کیا ہے کہ صرف 7.62 روپے فی یونٹ پیدا ہونے والی بجلی مجبور پاکستانی عوام کو 491٪ اضافہ کے ساتھ 45 روپے فی یونٹ پر فروخت کی جا رہی ہے-
نیز
اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ٹیکسوں کے ذریعے فی یونٹ 15.28 روپے حکومت کو دئیے جانے کے علاوہ بجلی پیدا کرنے والوں (IPP's) کو کیپسیٹی چارجز والی ادائیگیوں کے لیے فی یونٹ 17.01 روپے دئیے جاتے ہیں
جبکہ
بجلی تقسیم کرنے والی کمپنیوں (مثلآ لیسکو، میپکو، فیسکو، حیسکو، آئیسیکو وغیرہ) اور بجلی چوری و لائن لاسز جیسی ناکامیوں کا مداوا کرنے کے لئے بھی اضافی چارجز فی یونٹ 4.42 روہے بجلی استعمال کرنے والے صارفین سے ہی لئے جاتے ہیں-
مزید ظلم یہ ہے کہ
نیپرا اور حکومت فی یونٹ 0.67 روپے کا "نیو ایئر" سرو چارج بھی صارفین سے وصول کر رہے ہیں۔
بجلی کی اس 45 روپے فی یونٹ کی اضافی قیمت کے علاؤہ بھی حکومت بجلی کے بلوں پر لگنے والے اضافی چارجز کے نام جو پیسے عوام سے نچوڑ رہی ہے، اس کی تفصیلات کچھ یہ ہیں:-

1. بجلی کی قیمت پر (E-DUTY) الیکٹرک ڈیوٹی - فائنل بل پر 1.5% چارجز جو وفاقی حکومت بجلی تقسیم کار کمپنیوں مثلاً لیسکو، میپکو، فیسکو، حیسکو، آئیسیکو وغیرہ سے لیتی ہے

2. ٹی وی (TV-FEE) فیس - 35 روپے ماہانہ

3. جنرل سیلز ٹیکس (GST) - 17% فائنل بل پر

4. فناسنگ کاؤنٹ سرچارج (ٖFC-SUR) - استعمال شدہ یونٹس پر 3.23 روپے یونٹ کے حساب سے حکومت اس لئے وصول کر رہی ہے تاکہ گورنمنٹ اور بجلی بنانے والی کمپنیوں کے مابین بجلی چوری، لائن لاسز وغیرہ کی وجہ سے پیدا ہونے والے فرق کو ختم کیا جا سکے

5. فیول پرائیس ایڈجسٹمنٹ (FUEL PRICE ADJ) - یہ بجلی پیدا کرنے کے دوران استعمال ہونے والے ایندھن کا وہ فرق ہے جو اس وقت حکومت وصول کر رہی ہے اور اس کی قیمت ہر سہ ماہی میں تبدیل ہوتی رہتی ہے- اس میں جو فیکٹرز شامل ہوتے ہیں، اُن میں فیول پرائیس ایڈجسٹمنٹ کا ۔۔۔۔

(ا) ویلیو ایڈڈ ریکوری (FPA VAR) - اگست 2023ء کے بلوں میں 3.48 روپے فی یونٹ

(ب) الیکٹرک ڈیوٹی (FPA ED)- استعمال شدہ یونٹس کو ویلیو ایڈڈ ریکوری کی رقم سے ضرب دے کر حاصل ہونے والی رقم کا 1.50% وصول کرتے ہیں

(ج) جنرل سیلز ٹیکس (FPA GST) - اس میں FPA VAR اور FPA ED کو جمع کر کے اس کا 18% وصول کرتے ہیں

(د) انکم ٹیکس (FPA I TAX) - اس میں FPA VAR اور FPA ED اور FPA GST کو جمع کر کے اُس کا 7.5% وصول کیا جاتا ہے-

(ر) ان کے علاوہ بھی فیول پرائیس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں حکومت نے ایکسائیز ٹیکس (FPA ETAX)، فیول ٹیکس (FPA FTAX)، ریونیو ٹیکس (FPA RTAX) نافذ کرنے کا ارادہ بنا رکھا ہے لیکن ابھی تک انہیں نافذ نہیں کیا گیا-

بجلی کے بلوں میں عوام کو نچوڑ کر ان سے اس طرح پیسے نچوڑ کر بھی ہماری ظالم بیوروکریسی کا دل نہیں بھرتا اور وہ آئے دن بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافوں کی کوششیں کرتے رہتے ہیں- افسوس یہ ہے کہ مظلوم عوام کو ان ظالموں سے بچانے والا کوئی بھی لیڈر کسی پارٹی میں نظر نہیں آ رہا- شاید ہم پاکستانیوں کی قسمت میں ہمیشہ ہی اسی طرح کے مظالم کو بھگتنا لکھا ہوا ہے-

Team Techno Solar Pakistan
Lahore
Mobile: 0306 1814868

20/03/2024

یہ جھوٹی خبر اور افواہ ہے کہ نیٹ میٹرنگ کروانے والوں سے واپڈا 9 روپے کا یونٹ خرید کر 60 روپے کا فروخت کرتا ہے-

نیپرا نے وضاحت کی ہے کہ نیپرا (متبادل اور قابل تجدید توانائی) ڈسٹری بیوٹڈ جنریشن اینڈ نیٹ میٹرنگ ریگولیشنز، 2015 کا ضابطہ 14، ذیلی ضابطہ (2) S.RO کے تحت ایک ڈسٹری بیوٹڈ جنریٹر (DG) کی طرف سے سپلائی کی جانے والی یونٹس کو آف پیک آوورز کے دوران استعمال کئے گئے یونٹس کے مقابلے میں نیٹ آف ہوں گے (یعنی یونٹس کے بدلہ یونٹس)۔

آف پیک آوورز یعنی رات 10 یا 11 بجے سے اگلی شام 6 یا 7 بجے تک کے دوران ڈسٹری بیوشن کمپنی (نیٹ میٹڑنگ صارفین) کی طرف سے فراہم کردہ یونٹس کے حوالہ سے ضابطہ 14، ذیلی ضابطہ (5) واضح طور پر کہتا ہے کہ

"ایک ڈسٹری بیوشن کمپنی (DH) کی طرف سے فراہم کئے گئے یونٹس کے لئے قابل ادائیگی قیمت ڈسٹری بیوشن کمپنی کی قومی اوسط بجلی کی خریداری کی قیمت ہو گی جیسا کہ اتھارٹی کے ذریعے متعین کیا جاتا ہے اور وفاقی حکومت کی طرف سے مطلع کیا جاتا ہے"۔

اس طرح، قواعد و ضوابط کے مطابق، DGs کی جانب سے پیک آورز کے دوران سپلائی کئے جانے والے یونٹس پیک کے اوقات کے مقابلے میں آف سیٹ کئے جائیں گے (یعنی یونٹ کے مقابلہ میں یونٹ) اور آف پیک اوقات کے دوران فراہم کئے گئے یونٹس کو آف پیک اوقات کے مقابلے میں آف سیٹ کیا جائے گا۔ مزید برآں سولر سسٹم انسٹالر کی طرف سے مہیا کئے گئے یونٹ کے لئے قابل ادائیگی قیمت قومی اوسط بجلی کی خریداری کی قیمت پر مبنی ہو گی۔ لہذا، تمام نیٹ میٹرنگ یونٹس کی ایڈجسٹمنٹ کو مطلع شدہ ضوابط کے مطابق سختی سے عمل کیا جائے۔

سادہ اور آسان الفاظ میں مطلب یہ ہے کہ دن کے 20 گھنٹوں یعنی رات 10 یا 11 بجے سے اگلی شام 6 یا 7 بجے تک کے دوران نیٹ میٹرنگ کے واپڈا کو دئیے گئے یونٹس انہی اوقات میں استعمال کئے جانے والے یونٹس سے ہی منفی کئے جائیں گے-

اپنے یہاں نیٹ میٹرنگ سولر سسٹم لگوانے کے لئے رابطہ کیجئے

والسلام

Team @ Techno Solar Pakistan
Lahore
Mobile No.: 0334 9814868
WhatsApp: 0306 1814868

Wishing a very Happy Ramazan to youRamadan Mubarak to you and your loved ones. May the celebrations of this fasting mont...
11/03/2024

Wishing a very Happy Ramazan to you
Ramadan Mubarak to you and your loved ones.

May the celebrations of this fasting month spread happiness and joys in your life.
May Allah bring you all the inspiration in life and motivate you to achieve all your goals.

Address

Allama Iqbal Town
Lahore
54570

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Techno Solar Pakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Techno Solar Pakistan:

Share