14/06/2026
موٹے رائے چوہان کے فرزند نواب کرم چند نے 756 ھجری میں دھلی کے سلطان فیروز شاہ تغلق کے کہنے پر اسلام قبول کیا۔ فیروز شاہ نے ھی ان کا نام "قائم خان" رکھا۔
760 ھجری میں انہیں حصار فیروزہ کا گورنر مقرر کیا ۔انہیں "خانے جہان" کا لقب دیا۔
بہادری , شجاعت اور وفاداری کی تاریخ رقم کی جائے گی تو ہمارے جد امجد نواب قائم خان شہید کا نام سرفہرست میں ہوگا
آج ہی کی تاریخ یعنی 14 جون 1419 ء کو نواب قائم خان کو تقریبا 95 برس کی عمر میں شہید کردیا گیا ۔
آج تمام قائم خانی ان کے احسان مند ھیں کہہ انہوں اسلام قبول کر کے ھمیں دیں محمدی میں داخل کیا۔
آج ان کا 607 واں یوم شہادت ہے۔
آج انڈیا،پاکستان اور دنیا کے کئ ممالک میں قائم خانی آباد ہیں۔
ان کی ایک بڑی تعداد سعودی عرب، دبئی دیگر گلف ممالک میں کثرت سے آباد ہیں۔
سعودی عرب میں ریاض، مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں جمعہ کے روز ایک مخصوص مقام پر انڈین قائم خانیوں کا جوڑ ھوتا ھے۔
انڈیا ،پاکستان میں مقیم قائم خانی اعلی تعلیم یافتہ ہر شعبہ زندگی میں اہم کردار ادا کر رھے ہیں۔
فوج ھو یا سول ادارے ہر جگہ موجود ہیں۔
انڈیا میں بھی آئی جی راجستان کا عہدہ ھو یا سول جج ہر جگہ قائم خانی اپنی خدمات انجام دے چکے ہیں۔
پاکستان ھو یا انڈیا دونوں ممالک میں نوجوانوں کے لئے اسٹوڈنٹس ھاسٹل ، فلاحی تنظیم موجود ہیں۔
سب دعا کیجئیے اللہ کریم دادا قائم خان کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطاء فرمائیں آمین یا رب العالمین۔
طالب دعاء۔
ڈاکٹر اشتیاق احمد قائم خانی مدینہ منورہ