Trund Group

Trund Group Trund Group of Companies The team is highly professional with great acedamic and experienced back grounds.

Trund Group of Company or TGC is a Pakistani private company headquartered in Karachi, Pakistan, Owned by JahanZaib Baloch, Its diversified business includes Five segments: Fast Moving Consumer Goods (FMCG), Live Stocks, Ship Constructions, Timber Wood and Agri Business. The company has its registered office in Karachi, Pakistan, and representation in Iran, UAE and Australia, It started in 1995,

with primary focus on ships made of wood materials and their exports to Iran and UAE at its workshop in Karachi, It employs over 200 people. The company shown good progress over the years in the exports and imports of Fast Moving Consumer Goods (FMCG), Live Stocks, Timber Wood, Agri Business, Ship Constructions. The broad portfolio of products and services the company offers gives it a competative edge over the others, with its network of non-stop supply ability to the market it serves in the geographic locations of Persian and Indian Sea. The company has its simple sets of rules and above them all is that "Never leave your customer in need for help".

Begining of spring.  Peach tree flowers finally blossom.
14/03/2022

Begining of spring. Peach tree flowers finally blossom.

بائیوفلاک مچھلیوں کی اقسام میں سب سے مشہور Nile Tilapia ہی کیوں؟ - تلاپیا مچھلی کو نشونما کے لیے بہت ہی کم جگہ درکار ہوت...
31/03/2020

بائیوفلاک مچھلیوں کی اقسام میں سب سے مشہور Nile Tilapia ہی کیوں؟

- تلاپیا مچھلی کو نشونما کے لیے بہت ہی کم جگہ درکار ہوتی ہے۔

-یہ مچھلی بائیوفلاک مواد کو پسند کرتے ہے جس سے آپ کو فیڈ کا خرچہ آدھے سے بھی آدھا آتا ہے جو تقریباََ %25 فیصد ہوتا ہے۔

-تلاپیا 28 سے 30 ڈگری سینٹی گریڈ میں بہت طریقے سے بڑھتی ہے۔

بائیوفلاک ٹیکنالوجی میں استعمال ہونے والا ترپال(Tarpoline) دونوں اطراف سے PVC کوٹڈ ہوتاہے۔ جو100٪ واٹرپروف اور ہیٹ پروف ...
29/03/2020

بائیوفلاک ٹیکنالوجی میں استعمال ہونے والا ترپال(Tarpoline) دونوں اطراف سے PVC کوٹڈ ہوتاہے۔ جو100٪ واٹرپروف اور ہیٹ پروف ہوتاہے۔ دیمک اور چوہے اس کو نقصان نہیں دے سکتے۔ یہ بغیر سلائی کے ہوتاہے.

24/03/2018
Sam had been unemployed for the past couple of months and had been seeking a suitable opportunity for what seemed like a...
22/09/2017

Sam had been unemployed for the past couple of months and had been seeking a suitable opportunity for what seemed like an eternity.

He took every interview call that he could, applied for every opportunity, and sought help from every connection.

Finally, things were looking up. He already had an offer in hand and the interviews with the 2nd potential employer had gone well.

Sam felt that he had taken a serious beating in terms of money. His friends who had started out with him, had gone way up the ladder.

This time, he didn't want to settle for just "a" job. He wanted "the" job. He wanted position as well as money, and was willing to sit back on offers, but not commit to anything, unless it was completely in line with his needs.

Is Sam doing the right thing?
Should he be juggling offers?

What are your thoughts?

Share if you think genocidal Aung San Suu Kyi should return her Nobel Peace Prize.
18/09/2017

Share if you think genocidal Aung San Suu Kyi should return her Nobel Peace Prize.

Relationship goals.
15/09/2017

Relationship goals.

How to win argument Everytime
13/09/2017

How to win argument Everytime

 آر او پلانٹ  لگانے کے بعد کن کن طریقوں سے پیسے کمائے جاسکتے ہیں؟آپ ماہانہ کتنے روپے کما سکتے ہیں اور کیسے کما سکتے ہی...
12/09/2017



آر او پلانٹ لگانے کے بعد کن کن طریقوں سے پیسے کمائے جاسکتے ہیں؟

آپ ماہانہ کتنے روپے کما سکتے ہیں اور کیسے کما سکتے ہیں۔
یہ جاننے کے لئے پہلے آپ کو یہ جاننا ہوگا

• آپ اپنے ROپلانٹ سے کتنے گیلن پانی حاصل کرسکتے ہیں ؟
• اور اس کا مطلب کتنے لیٹر ہوگا ؟
• اس پر بجلی کا کتنا بل بنے گا؟
• دیگر اخراجات کتنے ہوں ؟
• حاصل ہونے والے پانی کو کس ریٹ پر فروخت کریں گے ؟

اگر آپ 3000گیلن کا پلانٹ لگا رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ 11340 لیٹر کا پلانٹ لگارہے ہیں ایک گیلن میں 3.78لیٹر ہوتے ہیں اس لئے جب آپ3000 کو 3.78سے ضرب Multiply) (کریں گے تو11340جواب آئے گا۔

لیکن دنیا بھر میں اور ہمارے ملک میں بھی عام طور پر گیلن میں ہی بات کی جاتی ہے اور3000گیلن کے پلانٹ کو 3000 GPD کا پلانٹ کہا جاتا ہے GPDکا مطلب گیلن پر ڈے ہے یعنی ایسا پلانٹ جو ایک دن میں 3000 گیلن پانی فراہم کرتا ہو۔

یہاں یہ بات سمجھ لینا بھی بہت ضروری ہے کہ ایک دن سے مراد 24 گھنٹے ہے یعنی آپ یہ مت سمجھیں کہ پلانٹ لگانے کے بعد آپ اس کی ٹونٹی کھولیں گے اور 3000گیلن پانی ایک ساتھ باہر آجائے گا بلکہ اس کا مطلب یہ کہ اگر آپ کا پلانٹ 24گھنٹے چلے گا تو3000 گیلن پانی دے گا جس کا مطلب 11340 لیٹر ہے۔

11340 کو 24پر تقسیم کریں گے تو پتا چلے گا کہ یہ پلانٹ ایک گھنٹےمیں 472 لیٹر پانی دے گا اب آپ جتنے گھنٹے پلانٹ چلائیں اسی حساب سے پانی حاصل کریں گے

فرض کیجئے کہ آپ 12 گھنٹے پلانٹ تک پلانٹ چلاتے ہیں تو472 کو 12 سے ضرب کرلیجئے پتا چل جائے گا کہ آپ 5664 لیٹر پانی حاصل کرسکیں گے۔
اب اگرآپ پلانٹ لگا کر بڑی والی جمبو سائز کی بوتلیں بھر کر بیچنا چاہتے ہیں تو یہ سمجھ لیں کہ اس بوتل میں 19 لیٹر پانی آتا ہے اور اگر آپ 12 گھنٹے پلانٹ چلا کر 5664 لیٹر پانی حاصل کرتے ہیں اور اسے 19 لیٹر کی بوتلوں میں بھرتے ہیں تو298 بوتلیں بنیں گی آپ آسانی کے لئے300 بوتلیں سمجھ لیں یا پھر پلانٹ کو12 گھنٹے کے بجائے سوا بارہ گھنٹے یعنی دس پندرہ منٹ اور چلالیں تاکہ300 بوتلیں بن جائیں ۔

یہاں ایک بات اور سمجھ لیں وہ یہ کہ بہت سے لوگوں نے یہ پلانٹ دکان کے بجائے گھروں میں بھی لگائے ہوئے ہیں اور وہ 24گھنٹے پلانٹ چلا تے ہیں اور ڈبل پانی حاصل کرتے ہیں البتہ عام طور پر 24 گھنٹے پلانٹ چلانا آسان نہیں ہے اس لئے ہم 12گھنٹے کی بات کرتے ہیں۔

لہذا اگر آپ روزآنہ 12گھنٹے پلانٹ چلاتے ہیں تو ایک ماہ میں مندرجہ ذیل اخراجات ہوتے ہیں۔

• بجلی کا بل ،19440 روپے مہینہ
• منرلز کی قیمت،3000روپے مہینہ
• فلٹر کی تبدیلی 12000روپے مہینہ

12 گھنٹے روز پلانٹ چلانے پر ایک مہینے میں 34440روپے خرچ ہوں گے۔

خلاصہ:

3000 کا پلانٹ جس کی قیمت 5لاکھ روپے ہےاگر یہ پلانٹ روزآنہ 12گھنٹے چلایا جائے تو 5664 لیٹر پانی حاصل ہوگا جس سے 19 لیٹر کی300 بوتلیں بنیں گی یعنی ایک مہینے میں 9000 بوتلیں بنیں گی جبکہ ایک مہینے میں34440 روپے خرچ ہوں گے۔

(19440روپے بجلی کے بل کے اور 15000روپےمنرلز ،کیمیکلز اور فلٹرز کی تبدیلی کے)

کمانے کے طریقے جاننے سے پہلے ایک بات اور سمجھ لیجئے کہ 3000 GPD یعنی 3ہزار گیلن پر ڈے کے پلانٹ کی قیمت 5لاکھ روپے جس سے آپ 12گھنٹے میں 300 بوتلیں تیار کرسکتے ہیں لیکن اگر آپ 5000 GPD کا پلانٹ لگاتے ہیں تو اس کی قیمت ساڑھے 6لاکھ روپے سے اور اس پلانٹ سے آپ 12 گھنٹے میں19 لیٹر کی500 بوتلیں تیار کرسکتے ہیں اور اسی طرح سے 1000 GPD یعنی 10ہزار گیلن کے پلانٹ کی قیمت ساڑھے آٹھ لاکھ روپے ہے اور اس سے آپ 12 گھنٹے میں1000 بوتلیں تیار کرسکتے ہیں۔

اس لئے اگر آپ کے پاس گنجائش ہے تو 3000 گیلن کے بجائے 10,000 گیلن کا پلانٹ لگوائیں اس کی گنجائش 3000 گیلن کے مقابلے میں 3 گنا سے بھی زیادہ ہے جب کہ قیمت ڈبل بھی نہیں ہے۔

اور اب فی الحال 3000 گیلن کے پلانٹ کے حوالے سے نظر ڈالتے ہیں کمانے کے طریقوں پر.

پہلا طریقہ: اپنا برانڈ بنائیے

منرل واٹر کی بوتلیں فروخت کرنے والی کمپنیاں جیسے کہ نیسلے ، کنلے، ایکوافینا اپنے اپنے برانڈ سے جانی پہچانی جاتی ہیں اور اپنی شہرت کے باعث ہی ان کے برانڈ کی بوتلیں مہنگے داموں میں فروخت ہوتی ہیں ۔آپ بھی ایسی ہی کمپنی بناسکتے ہیں۔
اس کے لئے خالی بوتلیں ان قیمتوں پر باآسانی مل جاتی ہیں

• 600 ام ال کی خالی بوتل 6 سے 7روپے ی
• ڈیڑھ لیٹر کی خالی بوتل 10 سے 12روپے میں
• 19 لیٹر کی خالی بوتل 540 سے 600روپے میں

ان بوتلوں کی خریداری میں .ROplant.pk آپ کی بھر پور مدد اور رہنمائی کرسکتا ہے۔

600 ام ال کی بوتلیں فروخت کریں اور 22لاکھ روپے ماہانہ سے زیادہ کمائیں؟

اگر آپ 600 ML کی بوتلیں بنا کر فروخت کرنا چاہتے ہیں تو 3000 گیلن کے پلانٹ سے 12گھنٹے میں 9450 بوتلیں روزآنہ بنتی ہیں۔ 600 ML کی بوتل 20سے 25روپے کی فروخت ہوتی ہے اگر آپ 15روپے کی فروخت کرتے ہیں توایک دن کی سیل ۱یک لاکھ 41ہزار 750روپے بنتے ہیں.

خالی بوتل 6سے 7 روپے کی ہے۔
اگر آپ 7 روپے کی بھی لگائیں تو 9450 بوتلوں کی رقم 66150 روپے کی بنتی ہیں ۔

اسکے علاوہ جیسا کہ آپ کو اوپر بتایا گیا تھا کہ بجلی کا بل 20ہزار روپے ماہانہ اور کیمیکل ،منرل اور وغیرہ 15 ہزار روپے ماہانہ ہے دونوں کو ٹوٹل کریں کریں تو 35ہزار روپے ماہانہ بنتے ہیں یعنی ایک دن کے 1166روپے بنتے ہیں ۔

اب 1166 روپے رننگ کاسٹ کے اور 66150 روپےخالی بوتلوں کے ان دونوں کو اپنی ایک دن کی سیل کی رقم میں سے نکال دیں تو بچتے ہیں 74435روپے ۔۔۔
یہ ہے آپ کی ایک دن کی انکم۔۔۔
خود حساب لگالیں کہ ایک مہینے میں کیا انکم بنتی ہے !!!! ۔۔
آپ سوچ بھی نہیں سکتے!!!۔۔۔
جی ہاں 22 لاکھ 33ہزار پچاس روپے ۔

ڈیڑھ کی بوتلیں فروخت کریں اور 20لاکھ روپے ماہانہ سے زیادہ کمائیں؟

اگر آپ ڈیڑھ لیٹر کی بوتلیں بنا کر فروخت کرنا چاہتے ہیں تو 3000 گیلن کے پلانٹ سے 12گھنٹے میں 3780 بوتلیں روزآنہ بنتی ہیں۔

ڈیڑھ لیٹرکی بوتل 40سے 50روپے کی فروخت ہوتی ہے اگر آپ 30روپے کی فروخت کرتے ہیں توایک دن کی سیل ۱یک لاکھ 13ہزار 400روپے بنتے ہیں

خالی بوتل 10سے 12روپے کی ہے۔
اگر آپ 12 روپے کی بھی لگائیں تو 3780بوتلیں 45360روپے کی بنتی ہیں۔
اب 1166 روپے رننگ کاسٹ کے اور 45360 روپےخالی بوتلوں کے ان دونوں کو اپنی ایک دن کی سیل کی رقم میں سے نکال دیں تو بچتے ہیں 66874روپے ۔۔۔
یہ ہے آپ کی ایک دن کی انکم۔۔۔
اب ایک مہینے کی انکم کا حساب لگائیں ۔۔۔ جی ہاں یہ رقم ہے 20 لاکھ 6ہزار220 روپے ۔

19لیٹرکی جمبو بوتلیں فروخت کریں ایک بار لگائیں پانچ لاکھ اور ہر ماہ کمائیں پانچ لاکھ؟

19لیٹر کی بوتلوں کا بزنس سب سے زیادہ کامیاب اور سب سے زیادہ چلنے والا بزنس ہے 19لیٹر کی اس بوتل کو نیسلے ، کنلے اور ایکوا فینا جیسی بڑی اور مشہور کمپنیاں 200روپے میں فروخت کرتی ہیں۔

اس سے چھوٹی کمپنیاں 150 اور اس سے چھوٹی125 پھر100 اور کچھ لوگ 80 روپے میں بھی فروخت کررہے ہیں۔

اگر آپ 19لیٹر کی بوتلیں بنا کر فروخت کرنا چاہتے ہیں تو 3000 گیلن کے پلانٹ سے 12گھنٹے میں300بوتلیں روزآنہ بنتی ہیں۔
یعنی ایک مہینے میں 9000بوتلیں ۔

ہم کہتے ہیں کہ آپ ان 9000بوتلوں کو 80 میں بھی فروخت نہ کریں بلکہ صرف 60 روپے کے حساب سے فروخت کریں تب بھی 54000 روپے بنتے ہیں اگر اس میں سے 35000 روپے نکال دیں جوکہ پورے مہینے کی رننگ کاسٹ ہے تو آپ کی انکم ہوئی پورے 5 لاکھ روپے کی۔

بوتل کی قیمت نکالنے کی ضرورت اس لئے نہیں ہے کیونکہ وہ ہر کمپنی اپنے اس کسٹمر سے لیتی ہے جو اس سے بوتل خریدتا ہے اس لئے آپ بھی بوتل کی قیمت کسٹمر سے ہی لیں گے۔
یا پھر کسٹمر اسکو واپس کرتا ہے.
یا آپ انکو پانی پوھنچا کر بوتل واپس لتے ہیں.

تو کہیئے ہوئی نا 5 لاکھ روپے مہینے کی انکم جبکہ پلانٹ کی قیمت بھی پانچ لاکھ روپے ہی ہے

ایک بار لگائیں پانچ لاکھ ،
ہر ماہ کمائیں پانچ لاکھ ،

عام طور پر 19لیٹر کی بوتلیں فروخت کرنے والی تمام کمپنیاں ان بوتلوں کو کسٹمرز کے گھروں تک پہنچاتی ہیں جبکہ ڈیڑھ لیٹر یا 600 ML کی بوتلیں جنرل اسٹور یا دکانوں تک پہنچادی جاتی جہاں کسٹمرز خود آ کر انہیں خریدتے ہیں۔

19 لیٹر کی خالی بوتلیں 540 روپے سے 600 روپے تک کی مل جاتی ہیں تاہم یہ رقم آپ کو کسٹمرز سے واپس مل جاتی ہے۔

تمام بڑی یا چھوٹی کمپنیاں جب پہلی دفعہ کسی کے گھر یہ بوتل پہنچاتی ہیں تو اسی وقت اس بوتل کی قیمت کسٹمر سے لے لیتی ہیں اور بعد میں جب بھی کسٹمر کو پانی کی ضرورت ہوتی ہے وہ خالی بوتل دے دیتا ہے اور بھری ہوئی بوتل لے لیتا ہے اور اس وقت وہ صرف پانی کی قیمت دیتا ہے۔
پانی کی قیمت ہر کمپنی کی الگ الگ ہے جن کے بارے میں ہم آپ کو اوپر بتا چکے ہیں۔

مفت کا مشورہ

اس موقعے پر اگر آپ ہمارا مشورہ مانیں تو ہم آپ کو ایک ایسی ترکیب بتا سکتے ہیں کہ جس سے آپ پلانٹ لگانے کے بعد پہلے ہی دن سے جتنی چاہے سیل حاصل کرسکتے ہیں اور بوتل بھی اپنی مرضی کی قیمت پر فروخت کرسکتے ہیں یعنی 60 یا 70 روپے کے بجائے 100 روپے یا اس سے بھی زیادہ پر فروخت کرسکتے ہیں ۔

عام طور پر کسٹمرز پہلی دفعہ پانی خریدتے وقت بوتل کی قیمت دینے سے گھبراتے ہیں ۔اگر انہیں پہلی دفعہ فری بوتل آفر کردی جائے تو ہر شخص خوشی خوشی لینے کو تیار ہو جائے گا اور آپ صرف خالی بوتل نہیں بلکہ پانی سے بھری ہوئی بوتل فری آفر کردیں آپ دیکھیں گے کے کوئی بھی یہ بوتل لینے سے انکار نہیں کرے گا۔
نہ صرف انکار نہیں کرے گا بلکہ کسٹمر کی بارگیننگ پوزیشن بھی کمزور ہوجائے گی اور آپ اپنے پانی کی قیمت 100 روپے یا اس سے زیادہ رکھیں۔

ویسے بھی آپ کے پلانٹ کا پانی کسی بھی طرح سے نیسلے ،کنلے یا اکیوافینا سے کم نہیں ہوگا پھر آپ نے بوتل بھی فری دی ہے اس لئے کسٹمر آپ سے بارگیننگ نہیں کرسکتا۔ اور اگر اسے بارگیننگ کرنے کا شوق ہے تو اپنا شوق ضرور پورا کرے آپ اسے بوتل نہ دیں ۔کیونکہ فری میں لینے کو تو ہزاروں لوگ تیار ہیں ۔

اب اگر آپ پہلی دفعہ 100 یا 200 لوگوں کو فری بوتل دے دیتے ہیں اور اگلے تین چار دنوں تک ان میں سے کوئی آپ سے پانی نہیں لیتا تو آپ اس سے اپنی دی ہوئی خالی بوتل واپس مانگ لیں۔
ویسے بھی کسٹمرآپ کے نام کا لیبل لگی ہوئی خالی بوتل کسی اور کمپنی کو نہیں دے سکتا۔

اور اگر کسی اورکمپنی سے پانی خریدتا ہے تو اسے خالی بوتل کے 600روپے ایڈوانس بھی دینے پڑیں گے۔
اور لوگوں کی سب سے بڑی کمزوری یہی کہ وہ ایک ساتھ اتنے پیسے دینے سے گھبراتے ہیں۔
چاہے انہیں 100روپے کا پانی خریدنا پڑے خریدیں گے لیکن ایک ساتھ 600روپے نہیں دیں گے۔
اس کی مثال یوں بھی سمجھی جا سکتی ہے کہ وہ لوگ جو پورا مہینہ شیمپو کا ساشے خریدتے ہیں وہ ایک مہینے میں بہت ساری رقم خرچ کردیتے ہیں جبکہ شیمپو کی بوتل خریدنے والے لوگ بہت مزے میں رہتے ہیں اور سستا شیمپو خریدتے ہیں۔

یہی حال چائے کی پتی، صابن ، گھی اور دیگر بہت چیزوں کا بھی ہے۔
اس لئے اس موقعے پر اگر آپ ہمارا مشورہ مانیں تو جہاں پانچ لاکھ روپے ROپلانٹ لگانے پر خرچ کریں وہیں 50 یا 60 ہزار روپے اور خرچ کریں اور ایک دفعہ 100 بوتلیں اریب قریب کے لوگوں کو فری بانٹ کر دیکھیں آپ کو پہلے ہی دن سے 100 کسٹمر یقینی طور پر مل جائیں گے جو آپ سے آپ کی قیمت پر پانی خریدیں گے۔
اور اگر آپ کے پاس انویسٹمنٹ کی کمی نہیں ہے تو 100 کے بجائے دو ،تین، چار یا پانچ سو بوتلیں بانٹ دیں حیرت انگیز نتائج حاصل کرنے کے لئے یہ آزمایا ہوا نسخہ ہے۔

دوسراطریقہ: فلنگ اسٹیشن بنائیے اور ماہانہ 3لاکھ سے زیادہ کمائیے

فلنگ اسٹیشن کا مطلب ایک ایسی جگہ ہے جہاں لوگ خود اپنی بوتلیں لے کر آتے ہیں اور آپ سے خالی بوتل میں منرل واٹر بھروا کر لے جاتے ہیں۔

یہ فلنگ اسٹیشن آپ بازار میں موجود کسی دکان میں بھی بناسکتے ہیں اور چاہیں تو اپنے گھر میں بھی بناسکتے ہیں اور اس کے لئے آپ کو خالی بوتلیں خریدنے کی ضرورت بھی نہیں ہے اور نہ ہی کوئی برانڈ بنانے کی جیسا کہ ہم پہلے بتاچکے ہیں کہ 3000 GPD کا پلانٹ جس کی قیمت 5لاکھ روپے ہےاگر یہ پلانٹ روزآنہ 12گھنٹے چلایا جائے تو 5664 لیٹر پانی حاصل ہوگا یعنی ایک مہینے میں 170,000 لیٹر پانی حاصل ہوگا۔
جبکہ ایک مہینے میں34440 روپے خرچ ہوں گے۔

(19440روپے بجلی کے بل کے اور 15000روپےمنرلز ،کیمیکلز اور فلٹرز کی تبدیلی کے)

بس آپ اپنی دکان کھولیں اور جو لوگ اپنی بوتلیں خود لے کر آئیں انہیں 2روپے فی لیٹر کے حساب سے پانی بھر کر دے دیں ۔

170,000 لیٹر پانی کو اگر دو روپے لیٹر کے حساب سے فروخت کیا جائے تو 3لاکھ 40روپے حاصل ہوتے ہیں اگر اس میں سے 34440روپے کا خرچہ نکال دیا جائے تب بھی 3 لاکھ روپے سے زیادہ کی انکم ہے۔

مفت کا مشورہ

آپ چاہیں تو ان لوگوں کو بھی پانی فروخت کرسکتے ہیں جو اپنا برانڈ بنا کر پانی فروخت کررہے ہیں یا کرنا چاہتے ہیں اور ان کے پاس اپنا RO پلانٹ نہیں ہے یا اگر ہے بھی تو وہ ان کی ضرورت پوری نہیں کر پارہا ہے۔

ایسا ایک ایک کسٹمر آپ سے ہر روز سو سو یا دو دوسو بوتلیں خریدتا ہے۔ ROplant.pkبھی آپ کو ایسے بہت سے کسٹمرز دے سکتا ہے۔

ایسی صورت میں جب کہ آپ ایک روپے لیٹر پانی فروخت کرتے ہیں تو آپ کو ایک لاکھ 70ہزارروپے حاصل ہوتے ہیں 34440روپے خرچہ نکالنے کے بعدایک لاکھ 35ہزار سے زیادہ کی انکم حاصل ہوتی ہے۔

تیسراطریقہ:ویلفئیر پلانٹ لگائیے اور ماہانہ ایک لاکھ 35 ہزارسے زیادہ کمائیے

فلنگ اسٹیشن والے طریقے میں آپ نے پڑھا تھا کہ اگر آپ دو روپے لیٹر کے حساب سے پانی فروخت کریں تو ماہانہ 3 لاکھ سے زیادہ کما سکتے ہیں اور اگر آپ ان لوگوں کو پانی فروخت کرنا چاہیں جو اپنا برانڈ بنا کر بیچ رہے ہیں تو آپ انہیں ایک روپے لیٹر بھی دے سکتے ہیں اس طریقے سے بھی ایک لاکھ سے زیادہ کی انکم حاصل کرسکتے ہیں۔

اب جو طریقہ ہم آپ کو بتا رہے ہیں اس میں بھی آپ ایک روپے لیٹر کے حساب سے پانی فروخت کریں گے لیکن آپ کے پاس لوگوں کی لائینیں لگی ہوئی ہوں گی اور لوگ آپ کو دعائیں الگ دے رہے ہوں گے۔

آپ نے دیکھا ہوگا کراچی میں کچھ جگہوں پر جماعت اسلامی نے فلٹریشن پلانٹ لگائے ہیں اور ان پلانٹس کے لئے جاپان نے مالی امداد فراہم کی ہے۔

یہ پلانٹس ناظم آباد ، نارتھ کراچی، اورنگی ٹاؤن اور دیگر علاقوں میں دیکھے جاسکتے ہیں۔
اور آپ جاکر دیکھیں کہ وہاں کس قدر رش رہتا ہے ایسا لگتا ہے کہ جیسے مفت میں پانی مل رہا ہو لیکن ہم آپ کو بتائیں کہ جماعت اسلامی کا ادارہ الخدمت ٹرسٹ یہاں مفت میں پانی نہیں دے رہا بلکہ ایک روپے لیٹر دے رہا ہے۔

یعنی اسی قیمت پر جس پر آپ فلنگ اسٹیشن بنا کر ان لوگوں کو پانی بیچیں گے جو اپنا برانڈ بنا کر بیچ رہے ہیں۔
لیکن فرق یہ ہے کہ اگر آپ فلنگ اسٹیشن بنا کر ایک روپے لیٹر میں پانی فروخت کرتے ہیں تو لوگ سمجھتے ہیں کہ آپ بزنس کررہے ہیں اور اس صورت میں آپ کی دکان کی ڈیکوریشن ، پانی کا معیار اور قیمت ہر چیز کو تنقید کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

اور جب یہی ایک روپے لیٹر آپ ویلفئیر پلانٹ لگا کر فروخت کرتے ہیں تو لوگ سمجھتے ہیں آپ ان کی خدمت کررہے ہیں اور ان کا پانی کا مسئلہ حل کررہے ہیں ۔

خود سوچیں وہ کام جو جاپان سے مالی مدد لے کر جماعت اسلامی کررہی ہے اور اپنے سینے پر عوام کی خدمت کا تمغہ بھی سجا رہی ہے۔
حساب لگائیں تو 5لاکھ روپے کی انویسٹمنٹ سے لگایا جانے والا یہ ویلفئیر پلانٹ ایک لاکھ35 ہزار روپے ماہانہ کما کر دے رہا ہے ۔

یہ کام آپ کیوں نہیں کرسکتے ۔۔۔؟

وہ کام جو اتنی بڑی جماعت کر رہی ہے اگر ذاتی حیثیت میں آپ کریں گے تو آپ کی عزت میں کس قدر اضافہ ہو سکتا ہے ۔
جب ایک روپے لیٹر میں پانی بیچنا ہے تو اپنے اوپر تجارت کرنے کا لیبل کیوں لگائیں ؟

خدمت کرنے کا لیبل کیوں نہ لگائیں ؟
جب آپ خدمت کررہے ہوں گے تب نہ تو کوئی آپ کی دکان کی ڈیکوریشن چیک کررہا ہوگا نہ پانی کا معیار اور نہ کچھ اور ۔
جب کہ ایک لاکھ 35 ہزار روپے ماہانہ کی انکم اپنی جگہ پر ہے

مفت کا مشورہ

اگر آپ کو ویلفئیر پلانٹ لگانے کا آئیڈیا اچھا لگا ہو اور آپ پبلک کو ایک روپے لیٹر پانی فراہم کرکے خدمت کرنے کے لئے تیار ہوں تو ہمارا آپ کو مفت کا مشورہ یہ ہوگا کہ اور ایک قدم آگے بڑھائیے اور اب پانی مفت فراہم کیجئے آپ دیکھیں گے کہ آپ کو مفت پانی فراہم کرنے کی صورت میں کہیں زیادہ انکم ہوگی!!!!

پڑ گئے نا آپ حیرت میں۔۔۔۔۔
آپ پبلک ویلفئیر میں جو پلانٹ لگائیں گے وہاں ایک کیش باکس (ڈبہ یا گلک) بھی رکھ دیں اور ایک بورڈ بھی لگادیں۔

بورڈ پر لکھ دیں کہ ۔
یہ پلانٹ عوامی خدمت کے لئے لگایا گیا ہے ۔یہاں سے ایک روپے لیٹر کے حساب سے آپ جتنا چاہیں پانی حاصل کرسکتے ہیں آپ جتنا پانی بھی لیں ایک روپے لیٹر کے حساب سے خود ہی اس کی قیمت ڈبے میں ڈال دیں کوئی آپ سے پیسے نہیں مانگے گا اور اگر آپ کے پاس پیسے نہیں ہیں تو ڈبے میں کچھ نہ ڈالیں بلکہ مفت میں پانی لے جائیں کوئی آپ کو روکے یا ٹوکے گا نہیں اور آپ کی عزت نفس بھی متاثر نہیں ہوگی۔
لیکن چونکہ پلانٹ کو چلانے کے لئے اخراجات بھی ہوتے ہیں اس لئے اگر آپ صاحب حیثیت ہیں تواپنے ساتھ ساتھ ان لوگوں کے حصے کی رقم بھی ڈبے ڈال دیں جو مفت میں پانی لے جا رہے ہیں.

ہمارا دعویٰ ہے کہ آپ یہ دیکھ کر حیران رہ جائیں گے کہ کیش باکس یا ڈبے میں اس سے کہیں زیادہ رقم جمع ہوگی جو آپ ایک روپے لیٹر کے حساب سے پانی فروخت کرکے حاصل کرتے اور دوسری طرف آپ کا یہ عمل جماعت اسلامی کے ویلفئیر پلانٹ سے بھی ایک قدم آگے ہوگا اور اس میں بھی کوئی شک نہیں ہوگا کہ یہ واقعی عوام کی خدمت ہوگی۔

بنیادی طور پر ہمارے یہاں کی عوام بہت اچھی، ہمدرد اور خدمت کے جذبے سے سرشار ہے اس لئے جب بھی عوام کو اس بات کا یقین آتا ہے کہ کوئی واقعی عوام کی خدمت کررہا ہے تو وہ بڑھ چڑھ کر اس میں حصہ لیتی ہے۔

جس کی مثال عبدالستار ایدھی، چھیپا اور دوسرے خدمت کرنے والے اداروں کو ملنے والے فنڈز سے کیا جاسکتا ہے۔
ایدھی صاحب جب کہین چندے کے حصول کے لئے سڑک پر کھڑے ہوجاتے ہیں تو چند منٹوں میں لاکھوں روپے چندہ حاصل ہوجاتا ہے۔

یہاں ایک مثال مسجد کی بھی لی جا سکتی ہے ۔
ہر محلے میں لوگ مساجد کی تعمیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں ۔
وہ لوگ بھی جو صرف جمعے کے جمعے نماز پڑھتے ہیں جمعہ کے روز مسجد میں چندہ ضرور دیتے ہیں ۔
اور غریب علاقوں میں بھی مساجد کی اپنی شان و شوکت ہوتی ہے ۔
ہماری بات کا مقصدآپ کو یہ سمجھانا ہے کہ جب آپ خدمت کا کوئی کام کرتے ہیں تو لوگ بڑھ چڑھ کر آپ کا ساتھ دیتے ہیں اس لئے اگر آپ ایک ایسا ویلفئیر پلانٹ لگاتے ہیں جہاں افورڈ نہ کرسکنے والوں کو بالکل مفت پانی فراہم کرتے ہیں تو صاحب حیثیت لوگ آپ کا بڑھ چڑھ کر ساتھ دیتے ہیں اور توقع سے بڑھ کر اس کام میں آپ کی مدد کرتے ہیں ۔

اورآپ کو اس سے زیادہ انکم حاصل ہوتی ہے جو آپ پانی کو بیچ کر حاصل کرتے البتہ اس انکم کو استعمال کرنے کے لئے آپ کو کسی مفتی یا مذہبی عالم سے ضرور مشورہ کرلینا چاہئیے۔

چوتھاطریقہ:کمیونیٹی پلانٹ لگائیے

آج سے ایک سال پہلے تک شہریوں کی اکثریت ROپلانٹ کے نام اور کام سے واقف ہی نہیں تھی لیکن 2015میں کراچی میں پہلی بار پانی کا بحران پوری شدت کے ساتھ سامنے آیا اور لوگوں کو اندازہ ہوا کہ بجلی کی طرح یہ مسئلہ بھی آئندہ پندرہ بیس سال تک حل ہونے والا نہیں تب متبادل ذرائع کی تلاش ہوئی اور اب لوگوں کی اکثریت Ro کے نام، کام اور اہمیت سے واقف ہے۔

اور اب لوگ یہ بات جانتے ہیں کہ کس طرح ROپلانٹ کے ذریعے زمین کے نیچے موجود کھارے پانی یا سمندر کے کڑوے پانی کو میٹھا بنایا جاسکتا ہے اور اب لوگ یہ بھی جان گئے ہیں کہ نیسلے ، کنلے اور ایکوا فینا جیسے بڑے بڑے برانڈ بھی زمین کے نیچے کے کھارے پانی کو میٹھا بنا کر بیچ رہے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ لوگ اس بات سے بھی واقف ہوچکے ہیں کہ یہ پانی کس قدر سستا پڑتا ہے اور کتنا صاف شفاف اور صحت بخش ہوتا ہے۔

ان تمام باتوں کو جان لینے کے باوجود زیادہ تر لوگ ROپلانٹ لگانے کی ہمت نہیں کر پارہے ہیں
(آپ جیسے لوگ جو بزنس کرنا چاہتے ہیں ان کی بات الگ ہے)
لیکن وہ لوگ جو فلیٹوں میں رہتے ہیں خاص طور پر وہ جن کے فلیٹوں میں پانی نہیں آتا ٹینکر خرید خرید کر گذارا کررہے ہیں ۔

پانی کے بحران کی وجہ سے اب ٹینکر کے پانی کی قیمت آسمان سے باتیں کررہی ہے۔ گلشن اقبال ، گلستان جوہر، فیڈرل بی ایریا ،پی ای سی ایچ ایس جیسے علاقوں میں جہاں ٹینکر کا پانی سستا مل جاتا ہے وہاں بھی ڈیڑھ روپے گیلن ہے لیکن اگر ہم بات کریں ڈیفینس یا کلفٹن وغیرہ کی تو وہاں یہی ٹینکر کا پانی ڈھائی روپے گیلن سے کم نہیں ہے ۔

لوگ ڈھائی روپے بھی دینے کو تیار ہیں مگر پھر بھی پانی کے ملنے کی کوئی گارنٹی نہیں اور اگر پانی ملتا بھی ہے تو ٹینکر کے پانی میں اور RO پلانٹ کے پانی میں زمین آسمان کا فرق ہے یہی وجہ ہے کہ اب تمام بلڈرز نئے بننے والے پروجیکٹس میں ROپلانٹ بھی لگا رہے ہیں اور اپنے اشتہارات میں جہاں وہ فلیٹ کی تعریفوں کا ذکر کرتے ہیں وہیں لوگوں کو یہ بھی بتاتے ہیں کہ ان کے پروجیکٹ میں ROپلانٹ بھی لگا ہوا ہے یعنی اگر آپ ان کے پروجیکٹ میں فلیٹ خریدتے ہیں تو نہ صرف یہ کہ آپ کو پانی کے بحران کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا بلکہ آپ کو عمدہ کوالٹی کا پانی ملے گا اور اس کے بعد آپ کے وہ پیسے بھی بچیں گے جو کہ پانی کی بوتلیں خریدنے پر خرچ ہوتے ہیں ۔

بلڈرز نے تو اس مسئلے کا حل نکال لیا لیکن مصیبت میں ہیں وہ لوگ جو پہلے سے بنے ہوئے اپارٹمنٹس میں رہ رہے ہیں اور پانی کے بحران کا سامنا کررہے ہیں ۔
یہ بات سب ہی جانتے ہیں کہ لوگ فلاح کے لئے کئے جانے والے اجتماعی کاموں میں اتحاد کا مظاہرہ بہت کم کرتے ہیں ۔
اگر کسی گلی میں گٹر ابل رہا ہے تو اسے ابلنے دیا جاتا ہے لیکن آپس میں سو سو روپے جمع کرکے اس مسئلے کو حل کرتے اگر کوئی اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے اٹھتا بھی ہے تو کچھ نہ کچھ لوگ ایسے ضرور ہوتے ہیں جو تعاون نہیں کرتے اور اپنے حصے کے پیسے نہیں دیتے جس کی وجہ سے تعاون کرنے والے لوگ بھی پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور مسئلہ جوں کا توں رہتا ہے۔
یہی رویہ فلیٹوں میں رہنے والے لوگوں کا پانی کے معاملے میں بھی ہے ۔
ایک فلیٹ والوں کو ایک دن میں 200 گیلن پانی کی ضرورت ہوتی ہے جس میں ان کے نہانے دھونے اور پکانے کے تمام مسا حل ہوجاتے ہیں ۔
اگر کوئی چھوٹا پروجیکٹ جس میں صرف 24فلیٹس ہوں۔
اس پروجیکٹ میں رہنے والوں کو روزآنہ 4800گیلن پانی چاہئیے ہوتا ہے ۔

اب اگر یہ لوگ مل کر 10ہزار گیلن کا ROپلانٹ لگالیں اور اسے صرف 12گھنٹے چلائیں تو اتنا پانی با آسانی حاصل کرسکتے ہیں ۔
10ہزارگیلن کے آر او پلانٹ کی قیمت ساڑھے 8 لاکھ روپے ہے ۔
اور ماہانہ خرچ وہی ہے جو 3000گیلن کے پلانٹ کا تھا یعنی 34440روپے۔

یہ لوگ اگر ڈیفینس یا کلفٹن میں نہیں رہتے تب بھی ڈیڑھ روپے گیلن کے حساب سے ٹینکر کا پانی خریدتے ہیں اور پینے کے پانی کے لئے 19لیٹر کی ایک بوتل روزآنہ الگ سے خریدتے ہیں ۔
اب ذرا حساب لگائیے 200گیلن پانی ڈیڑھ روپے فی گیلن کے حساب سے 300روپے ہوگئے اور 19 لیٹرکی ایک بوتل کے 80 روپے یعنی 380روپے روزآنہ کا پانی ایک گھر میں خریدا جاتا ہے۔
ہوسکتا ہے کہیں اس کم بھی خرچ ہوتا ہو لیکن جہاں کم ہوتا ہے وہاں واٹر بورڈ کا پانی بھی آتا ہے اسی لئے کم اخراجات ہوتے لیکن ہم بات کررہے ان جگہوں کی جہاں واٹر بورڈ کا پانی بالکل نہیں آتا۔
وہاں پر اگر ایک گھر 380روپے روز خرچ کرتا ہے تویہ ایک مہینے میں 11400روپے ہوتے ہیں۔

اب اگر کوئی ان مکینوں کو یہ مشورہ دے کہ یہ سب مل جل کر ایک 10,000 گیلن کا ROپلانٹ لگالیں جس پر ان کے ساڑھے 8 لاکھ روپے خرچ ہوں گے ایک گھر پر 35ہزارروپے کا خرچ آئے گا لیکن اس کے بعد یہ لوگ صرف 34440 روپے مہینہ میں جتنا چاہے پانی حاصل کرسکتے ہیں 34440کو اگر 24گھروں پر تقسیم کریں تو ایک گھر پر 1435روپے آتے ہیں ۔
اب اندازہ لگایں کہ کتنی بچت ہوئی اس حساب سے نہ صرف چند مہینوں میں ROپلانٹ کی پوری قیمت واپس آجاتی ہے بلکہ آئندہ پانی کی بوتلیں بھی نہیں خریدنی پڑتیں اور نہ ہی ان فلیٹوں میں رہنے رہنے والوں کو کبھی پان کی کمی کا سامنا ہوسکتا ہے۔
لیکن بات وہی ہے کہ اس کے لئے آپس کا اتحاد ضروری ہے ۔
نہ اتحاد ہوتا ہے اور نہ ہی یہ اجتماعی کام ہوتا ہے ۔
اگر ان فلیٹوں میں رہنے والے ایک دفعہ ہمت کرکےچند لاکھ روپے کی انویسٹمنٹ کردیں تو ان کی باقی زندگی بہت آسان ہوسکتی ہے انہیں پانی کی کمی کبھی نہ ہوگی
بلکہ انہیں نہانے ،دھونے اور دیگر استعمال کے لئے بھی منرل واٹر دستیاب ہوگا۔
پینے کے فوائد تو اپنی جگہ اگر اس پانی سے نہایا جائے تو چند ہی دنوں میں جلد اور بال نہایت خوبصورت ہوسکتے ہیں اور چہرے کی سرخی اور شادابی میں بھی بھر پور اضافہ ہوسکتا ہے۔

صرف کراچی شہر میں ہی فلیٹوں کے چھوٹے بڑے سیکڑوں پروجیکٹس ہیں جہاں واٹر بورڈ کی لائن سرے سے موجود نہیں بلڈرز نے اپارٹمنٹس تو بنادئیے لیکن سرکاری پانی کی فراہمی ان کے اختیار میں نہیں تھی اور یہاں کے رہنے والے لوگ ٹینکرز کا پانی خریدتے ہیں ۔
ٹینکرز کا پانی گندہ بھی ہوتا ہے
اگر آپ ان فلیٹوں کی یونین یا ان کے بلڈر سے رابطہ کرکے انہیں پیشکش کریں کہ وہ صرف آپ کو جگہ فراہم کردیں اور آپ اپنے خرچ پر ان کے پروجیکٹس میں بورنگ کروا کر وہاں ROپلانٹ لگوادیں گے اور واٹر ٹینکر کے گندے پانی کے مقابلے میں انتہائی سستا منرل واٹر فراہم کریں گے تو ہر بلڈر اور ہر یونین اس پر تیار ہوجائے گی۔
انہیں بھی کہیں زیادہ فائدہ ہوگا اور آپ کو بھی بوتلیں خریدنے ، بھرنے اور بیچے بغیر لاکھوں روپے مہینے کی بچت ہوگی۔

آپ ان کی فراہم کردہ جگہ پر ROپلانٹ لگوائیں اور پلانٹ کے اس پائپ کو جہاں سے منرل واٹر باہر آرہا ہے ڈائریکٹ ان کے انڈر گراؤنڈ ٹینک میں ڈال دیں۔ ROپلانٹ پر لگا ہوا میٹر یہ بتا تا رہے گا کہ پلانٹ سے انڈر گراؤنڈ ٹینک میں کتنا پانی جا رہا ہے۔

بس اسی کے مطابق آپ ان سے حساب کتاب کرلیں۔
نہ برانڈ بنانے کی ضرورت، نہ کسی رجسٹریشن کی ، نہ بوتلیں خریدنے کی، نہ کسی محنت کی بس پلانٹ کا بٹن آن کیجئے اور نوٹ چھاپنا شروع کردیجئے.

امید کرتا ہوں دوستوں آپ سب کو یہ پوسٹ اچھی لگی ہو گی.شکریہ

Happy Eid Ul Adha to you and your family.
02/09/2017

Happy Eid Ul Adha to you and your family.

Address

Karachi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Trund Group posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Trund Group:

Share