13/04/2024
فلسطین کا مسئلہ!!
تحریر: ڈاکٹر حفیظ الحسن
فلسطین کا مسئلہ ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے۔ اسکے متعلق آواز اُٹھائی جا سکتی ہے اور آواز اُٹھائی بھی جاتی ہے تاہم یہ کوئی راتوں رات حل ہونے والا مسئلہ نہیں۔ آپکے جذبات اپنی جگہ مگر بین الاقوامی اور دیرینہ مسائل، جن سے آپکا تعلق محض جذبات کا ہو، یوں سڑکوں، شاہراہوں پر حل نہیں ہوتے۔ پلوں کے نیچے امریکہ مردہ باد یا فیس بک پر یہودیوں اور مغربی دنیا کو گالیاں دیکر آپکے جذبات شاید وقتی طور پر ٹھنڈے ہو جائیں مگر ان سے جمع حاصل آپ کچھ نہیں کر سکتے۔ ایسا نہیں کہ اس متعلق آواز نہیں اُٹھانی چاہئیے ۔ یقیناً ایسا کیا جانا چاہیے
تاہم ہمارے ہاں مسئلہ کچھ اور ہے۔
دیکھیے عوام جذباتی ہیں، نعروں کے ہی پیچھے لگ جاتے ہیں، عقل و شعور کی کمی کے باعث مذہب کارڈ جو بھی کھیلے اسکے سات خون معاف کر دیتے ہیں۔ آپکی انہی کمزوریوں کے باعث، آپکو 77 برس سے اشرافیہ بے وقوف بناتی رہی۔ سب جانتے ہیں کہ پاکستان کی خارجہ پالیسیاں کس قدر ناکام ہیں اور ملک کس قدر معاشی طور پر بدحالی کا شکار ہے۔
اب یہ اصول جان لیجئے کہ طاقتوروں کی اس دنیا میں ڈپلومیسی اور بین الاقوامی طور طریقوں کے بغیر کسی مسئلے کی طرف اقوامِ عالم کی توجہ دلانا مشکل ہے۔ خاص طور پر ان ممالک کا جو خود اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتے جن سے دنیا کو کوئی فائدہ نہیں۔ جنکے دنیا کے بڑے ممالک کے ساتھ کوئی بڑے تجارتی معاہدات نہیں۔ یا سادہ الفاظ میں یوں کہہ لیجئے کہ جن ممالک کو ترقی یافتہ اور طاقتور ممالک کی ضرورت نہیں۔
اب ہم اگر بین الاقوامی سطح پر دیکھیں تو اس وقت دنیا میں بھارت کا توتی بول رہا ہے۔ بھارت میں دنیا کی ہر بڑی کمپنی ڈیرے ڈالنے کو تیار نظر آتی ہے۔ امریکہ سے لیکر چین تک سب بھارت سے اربوں ڈالر کے تجارتی معاہدے کر چکے ہیں۔ اور یہ ملک ایک بہت بڑی معیشت بن کر دنیا کے صفِ اول کے فیصلہ ساز ممالک کی فہرست میں آ رہاہے۔ بھارتی شہریوں کے لیے مغربی ممالک میں تعلیم، تجارت، کاروبار اور سیاحت کے لیے ویزوں کے اجرا کو تیز تر اور آسان تر کیا جا رہا یے۔ گویا بھارت بین الاقوامی ڈپلومیسی پر بات کر سکتا ہے اور اسکی سنی جانے کا امکان واضح ہے۔
اب تصور کیجئے کہ فلسطین ایک ہندو ریاست ہوتی اور ایک بہت بڑا ملک جو ہندو اکثریت ملک ہے،یہ فلسطین کی بین الاقوامی سطح پر آ کر بھرپور حمایت کرتا تو کیا ہوتا؟
دنیا اسے سنجیدگی سے لیتی۔اس مسئلے کے حل کے لیے کوششیں تیز کر دی جاتیں۔ جنگ بندیاں ہو جاتیں۔فلسطین کی صورتحال بہتر ہوتی۔
اب اسکے مقابلے میں پاکستان ہے، ہماری اشرافیہ کو خوب اچھی طرح سے معلوم ہے کہ بین الاقوامی سطح پر انکی حیثیت بھکاریوں سے زیادہ نہیں۔ یہ جب خود باہر جاتے ہیں تو انکی انگریزوں سے گفتگو کبھی ملاحظہ کیجئے۔ احساس ِ کمتری اور کمی کمینوں والی باڈی لینگویج ہوتی ہے۔ بڑے سے بڑے سفارتخانے میں بیٹھے سفیر حضرات تک ذہنی طور پر خود کو مغربی دنیا سے کم تر سمجھتے ہیں، جی حضوری کرتے ہیں۔ (اسکی بہت سی تاریخی اور ہمارے افسرِ شاہی کے بنیادی ڈھانچے میں مسئلے ہیں مگر یہ بحث ہھر کبھی).
بالعموم ہماری عوام میں گورا کمپلیکس بھرا ہوا ہے کیونکہ اس ملک میں دنیا کے ساتھ چلنے کا اعتماد نہیں دیا جاتا۔ اسکی ایک اور وجہ کولونیل نظام بھی ہے جو ڈیڑھ سو سال برِ صغیر میں رہا۔ اور جس نے ہمارا قومی تشخص پامال کر کے ہمیں شناخت کے بحران میں ڈال دیا۔
اب ایک ناکام ریاست جسکے نمائندے مرعوبیت کا شکار ہوں اور جسکے پاس بھوننے کو دانے نہ ہوں، وہ فلسطین کے مسئلے پر آواز اُٹھائی گی تو کون سنے گا؟ کیا پدی اور کیا پدی کا شوربا؟
جب پاکستان امریکہ کا دہشتگردی کی جنگ میں حمایتی رہا تب اسکے لیے دنیا نے دروازے کھول دیے تھے کہ یہ دنیا کی مجبوری تھی۔ تب پاکستان کے پاس بھرپور مواقع تھے کہ کشمیر کے مسئلے کو بھی حل کرانے میں سنجیدگی دکھاتا تو پر امن طریقے سے یہ مسئلہ بھی کسی طرح حل ہو جاتا مگر ہماری اشرافیہ نے وقتی فائدے دیکھے، ڈالر بنائے اور بیرونِ ملک جائیدادیں بنا کر، اپنے بچوں کو امریکہ پڑھا کر عوام کو مذہب اور امریکہ مخالف نعروں میں اُلجھاتی رکھا۔یہ چوہے بلی کا کھیل دہائیوں سے جاری ہے۔ اشرافیہ کو عوام کی مذہبی کمزوری معلوم ہے۔ اس پر ہر کسی کو بے وقوف بنایا جا سکتا ہے۔ اور عوام خوش ہوکر بے وقوف بنتی ہے کہ انہیں یہ ثواب کا کام لگتا ہے۔
تو یہ جو آپ جذبات سے فیس بک یا دوسرے پلٹ فارم پر فلسطین فلسطین کرتے ہیں یہ آپکا کام نہیں ہے۔ یہ آپکی اشرافیہ اور دفترِ خارجہ
کا کام ہے۔ مگر جس طرح دہشتگردی میں قبائلیوں کے بچوں کو بندوقیں پکڑا کر اشرافیہ نے اپنی ذمہ داری سے جان چھڑائی اور نسلوں سے قلم چھین کر بندوق دی ایسے ہی اشرفیہ اپنا کام اور اپنی ذمہ داریاں عوام کو آؤٹ سورس کر کے یعنی ٹھیکے پر دیکر خود ان سے مبرا ہو جاتی یے اور پیچھے بچ جاتے ہیں فیسبکی نوجوان اور جذباتی لونڈے لپاڑے اور بابے۔
دراصل آپکی انکھوں میں دھول جھونکی جاتی ہے جس سے اندھے ہو کر آپ اس فریب میں رہتے ہیں کہ آپ فلسطین کے لیے جگہ جگہ بات کر کے بہت اہم بن رہے ہیں اور آپکی توجہ اندرونی معاملات جسیے مہنگائی ، بے روزگاری، تعلیم ، صحت، صوبائی استحصال وغیرہ سے ہٹا دی جاتی یے۔
یہ ایسے ہے جیسے کتے کو فرسبی یا گیند پکڑا دی جائے اور وہ اسکے پیچھے بھاگتا رہے اور اشرفیہ بیٹھی تماشہ دیکھے۔ اس سے لطیفہ یاد آیا کہ ایک دوست دوسرے دوست سے بولا۔ تمہارے گھر میں فیصلے کون کرتا یے تو دوسرا دوست بولا: بڑے اور اہم فیصلے میں کرتا ہوں جیسے امریکہ کو عراق جنگ میں جانا چاہیے تھا یا نہیں ،یوکرین کی جنگ میں یورپ کو کیا کرنا چاہیے وغیرہ جبکہ چھوٹے فیصلے بیگم کرتی ہے کہ کھانا کیا بنانا یے، بچوں کو کونسے سکول داخل کرنا ہے، گھر کا بجٹ کس نے بنانا یے یہ چھوٹے چھوٹے فیصلے بیگم کرتی ہے۔
ہمارا بھی یہی حال ہے ہم فلسطین کے مسئلے کو سڑکوں، چوکوں، چوراہوں اور سوشل میڈیا پر حل کرنا چاہتے ہیں مگر اپنے اصل مسائل پر بات کرنے سے کتراتے ہیں۔