I M Mobile's

I M Mobile's اس پیج میں موبائلز کے متعلق معلومات مہیاکی جائےگی۔

Oppo new model A3x available at i m mobile s panel plaza parety gate Bannu.
13/09/2024

Oppo new model A3x available at i m mobile s panel plaza parety gate Bannu.

08/07/2024
13/04/2024

فلسطین کا مسئلہ!!

تحریر: ڈاکٹر حفیظ الحسن

فلسطین کا مسئلہ ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے۔ اسکے متعلق آواز اُٹھائی جا سکتی ہے اور آواز اُٹھائی بھی جاتی ہے تاہم یہ کوئی راتوں رات حل ہونے والا مسئلہ نہیں۔ آپکے جذبات اپنی جگہ مگر بین الاقوامی اور دیرینہ مسائل، جن سے آپکا تعلق محض جذبات کا ہو، یوں سڑکوں، شاہراہوں پر حل نہیں ہوتے۔ پلوں کے نیچے امریکہ مردہ باد یا فیس بک پر یہودیوں اور مغربی دنیا کو گالیاں دیکر آپکے جذبات شاید وقتی طور پر ٹھنڈے ہو جائیں مگر ان سے جمع حاصل آپ کچھ نہیں کر سکتے۔ ایسا نہیں کہ اس متعلق آواز نہیں اُٹھانی چاہئیے ۔ یقیناً ایسا کیا جانا چاہیے
تاہم ہمارے ہاں مسئلہ کچھ اور ہے۔


دیکھیے عوام جذباتی ہیں، نعروں کے ہی پیچھے لگ جاتے ہیں، عقل و شعور کی کمی کے باعث مذہب کارڈ جو بھی کھیلے اسکے سات خون معاف کر دیتے ہیں۔ آپکی انہی کمزوریوں کے باعث، آپکو 77 برس سے اشرافیہ بے وقوف بناتی رہی۔ سب جانتے ہیں کہ پاکستان کی خارجہ پالیسیاں کس قدر ناکام ہیں اور ملک کس قدر معاشی طور پر بدحالی کا شکار ہے۔

اب یہ اصول جان لیجئے کہ طاقتوروں کی اس دنیا میں ڈپلومیسی اور بین الاقوامی طور طریقوں کے بغیر کسی مسئلے کی طرف اقوامِ عالم کی توجہ دلانا مشکل ہے۔ خاص طور پر ان ممالک کا جو خود اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتے جن سے دنیا کو کوئی فائدہ نہیں۔ جنکے دنیا کے بڑے ممالک کے ساتھ کوئی بڑے تجارتی معاہدات نہیں۔ یا سادہ الفاظ میں یوں کہہ لیجئے کہ جن ممالک کو ترقی یافتہ اور طاقتور ممالک کی ضرورت نہیں۔

اب ہم اگر بین الاقوامی سطح پر دیکھیں تو اس وقت دنیا میں بھارت کا توتی بول رہا ہے۔ بھارت میں دنیا کی ہر بڑی کمپنی ڈیرے ڈالنے کو تیار نظر آتی ہے۔ امریکہ سے لیکر چین تک سب بھارت سے اربوں ڈالر کے تجارتی معاہدے کر چکے ہیں۔ اور یہ ملک ایک بہت بڑی معیشت بن کر دنیا کے صفِ اول کے فیصلہ ساز ممالک کی فہرست میں آ رہاہے۔ بھارتی شہریوں کے لیے مغربی ممالک میں تعلیم، تجارت، کاروبار اور سیاحت کے لیے ویزوں کے اجرا کو تیز تر اور آسان تر کیا جا رہا یے۔ گویا بھارت بین الاقوامی ڈپلومیسی پر بات کر سکتا ہے اور اسکی سنی جانے کا امکان واضح ہے۔

اب تصور کیجئے کہ فلسطین ایک ہندو ریاست ہوتی اور ایک بہت بڑا ملک جو ہندو اکثریت ملک ہے،یہ فلسطین کی بین الاقوامی سطح پر آ کر بھرپور حمایت کرتا تو کیا ہوتا؟
دنیا اسے سنجیدگی سے لیتی۔اس مسئلے کے حل کے لیے کوششیں تیز کر دی جاتیں۔ جنگ بندیاں ہو جاتیں۔فلسطین کی صورتحال بہتر ہوتی۔

اب اسکے مقابلے میں پاکستان ہے، ہماری اشرافیہ کو خوب اچھی طرح سے معلوم ہے کہ بین الاقوامی سطح پر انکی حیثیت بھکاریوں سے زیادہ نہیں۔ یہ جب خود باہر جاتے ہیں تو انکی انگریزوں سے گفتگو کبھی ملاحظہ کیجئے۔ احساس ِ کمتری اور کمی کمینوں والی باڈی لینگویج ہوتی ہے۔ بڑے سے بڑے سفارتخانے میں بیٹھے سفیر حضرات تک ذہنی طور پر خود کو مغربی دنیا سے کم تر سمجھتے ہیں، جی حضوری کرتے ہیں۔ (اسکی بہت سی تاریخی اور ہمارے افسرِ شاہی کے بنیادی ڈھانچے میں مسئلے ہیں مگر یہ بحث ہھر کبھی).
بالعموم ہماری عوام میں گورا کمپلیکس بھرا ہوا ہے کیونکہ اس ملک میں دنیا کے ساتھ چلنے کا اعتماد نہیں دیا جاتا۔ اسکی ایک اور وجہ کولونیل نظام بھی ہے جو ڈیڑھ سو سال برِ صغیر میں رہا۔ اور جس نے ہمارا قومی تشخص پامال کر کے ہمیں شناخت کے بحران میں ڈال دیا۔

اب ایک ناکام ریاست جسکے نمائندے مرعوبیت کا شکار ہوں اور جسکے پاس بھوننے کو دانے نہ ہوں، وہ فلسطین کے مسئلے پر آواز اُٹھائی گی تو کون سنے گا؟ کیا پدی اور کیا پدی کا شوربا؟
جب پاکستان امریکہ کا دہشتگردی کی جنگ میں حمایتی رہا تب اسکے لیے دنیا نے دروازے کھول دیے تھے کہ یہ دنیا کی مجبوری تھی۔ تب پاکستان کے پاس بھرپور مواقع تھے کہ کشمیر کے مسئلے کو بھی حل کرانے میں سنجیدگی دکھاتا تو پر امن طریقے سے یہ مسئلہ بھی کسی طرح حل ہو جاتا مگر ہماری اشرافیہ نے وقتی فائدے دیکھے، ڈالر بنائے اور بیرونِ ملک جائیدادیں بنا کر، اپنے بچوں کو امریکہ پڑھا کر عوام کو مذہب اور امریکہ مخالف نعروں میں اُلجھاتی رکھا۔یہ چوہے بلی کا کھیل دہائیوں سے جاری ہے۔ اشرافیہ کو عوام کی مذہبی کمزوری معلوم ہے۔ اس پر ہر کسی کو بے وقوف بنایا جا سکتا ہے۔ اور عوام خوش ہوکر بے وقوف بنتی ہے کہ انہیں یہ ثواب کا کام لگتا ہے۔

تو یہ جو آپ جذبات سے فیس بک یا دوسرے پلٹ فارم پر فلسطین فلسطین کرتے ہیں یہ آپکا کام نہیں ہے۔ یہ آپکی اشرافیہ اور دفترِ خارجہ
کا کام ہے۔ مگر جس طرح دہشتگردی میں قبائلیوں کے بچوں کو بندوقیں پکڑا کر اشرافیہ نے اپنی ذمہ داری سے جان چھڑائی اور نسلوں سے قلم چھین کر بندوق دی ایسے ہی اشرفیہ اپنا کام اور اپنی ذمہ داریاں عوام کو آؤٹ سورس کر کے یعنی ٹھیکے پر دیکر خود ان سے مبرا ہو جاتی یے اور پیچھے بچ جاتے ہیں فیسبکی نوجوان اور جذباتی لونڈے لپاڑے اور بابے۔
دراصل آپکی انکھوں میں دھول جھونکی جاتی ہے جس سے اندھے ہو کر آپ اس فریب میں رہتے ہیں کہ آپ فلسطین کے لیے جگہ جگہ بات کر کے بہت اہم بن رہے ہیں اور آپکی توجہ اندرونی معاملات جسیے مہنگائی ، بے روزگاری، تعلیم ، صحت، صوبائی استحصال وغیرہ سے ہٹا دی جاتی یے۔
یہ ایسے ہے جیسے کتے کو فرسبی یا گیند پکڑا دی جائے اور وہ اسکے پیچھے بھاگتا رہے اور اشرفیہ بیٹھی تماشہ دیکھے۔ اس سے لطیفہ یاد آیا کہ ایک دوست دوسرے دوست سے بولا۔ تمہارے گھر میں فیصلے کون کرتا یے تو دوسرا دوست بولا: بڑے اور اہم فیصلے میں کرتا ہوں جیسے امریکہ کو عراق جنگ میں جانا چاہیے تھا یا نہیں ،یوکرین کی جنگ میں یورپ کو کیا کرنا چاہیے وغیرہ جبکہ چھوٹے فیصلے بیگم کرتی ہے کہ کھانا کیا بنانا یے، بچوں کو کونسے سکول داخل کرنا ہے، گھر کا بجٹ کس نے بنانا یے یہ چھوٹے چھوٹے فیصلے بیگم کرتی ہے۔

ہمارا بھی یہی حال ہے ہم فلسطین کے مسئلے کو سڑکوں، چوکوں، چوراہوں اور سوشل میڈیا پر حل کرنا چاہتے ہیں مگر اپنے اصل مسائل پر بات کرنے سے کتراتے ہیں۔

Reno 11F 5G8/256Water proof First Day sell Available at I M Mobiles panel plaza parety gate Bannu. I M Mobiles
28/03/2024

Reno 11F 5G
8/256
Water proof
First Day sell
Available at I M Mobiles panel plaza parety gate Bannu.

I M Mobiles

Vivo v 30 5g
25/03/2024

Vivo v 30 5g

Vivo v30 available at I M Mobiles panel plaza parety gate Bannu.ویوو  I M Mobiles V30 پر۔دستیاب ہے.ڈسکاؤنٹ ریٹ کیساتھکل
25/03/2024

Vivo v30 available at I M Mobiles panel plaza parety gate Bannu.
ویوو I M Mobiles V30 پر۔دستیاب ہے.
ڈسکاؤنٹ ریٹ کیساتھ
کل

15/03/2024

سحری میں زیادہ پانی پینا آپ کے معدے میں سٹور نہیں ہو گا۔
یہ خاصیت صرف اونٹ میں ہوتی ہے لہذا پیٹ کو تربیلا ڈیم نہ بنائیں۔

کُچھ سائنسی طبیعت کے لوگ سحری میں تین پراٹھے صرف اس وجہ سے کھاتے ہیں کہ راکٹ کے فیول کی طرح پہلا پراٹھا ظہر تک چلے گا۔ پھر دوسرا پراٹھا آن ہوگا اور عصر تک چل جائے گا پھر تیسرا ایکٹیو ہو جائیگا اور مغرب تک پہنچا دیگا۔
حالانکہ حقیقت میں ایسی کوئی بات نہیں، جتنے مرضی پراٹھے کھا لیں معدے نے اکٹھے ہضم کر لینے ہیں اور دوپہر کو بھوک پھر بھی لگ جانی ہے۔

بندے اور غوری میزائل 🚀 میں یہی فرق ہے.
منقول

14/03/2024

2022 میں پاکستان کی کل برآمدات 38 ارب ڈالر تھیں جبکہ درآمدات تقریباً 73 ارب ڈالر۔ سارا پیسہ پلاٹوں اور ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں لگا ہوا ہے۔کاروبار کا، صنعتیں بنانے کا کوئی ماحول نہیں۔ درسگاہوں میں تعلیم کا معیار ایسا ہے کہ سٹارٹ اپ کلچر تو دور کی بات جو کدو وہاں سے نکلتے ہیں، وہ کسی ڈھنگ کی نوکری یا ملازمت کے لئے بھی مکمل طور پر تیار نہیں ہوتے۔ زرعی ملک میں فی ایکڑ پیداوار آبادی کے پھٹتے ہوئے بم کا مقابلہ کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ زیرِ کاشت رقبہ اسی آبادی کی مکان کی بنیادی ضرورت پوری کرنے سے کم ہوتا جا رہا ہے جہاں کھیت سونا اُگلنے کی بجائے ہاؤسنگ سوسائٹییاں بنتے جا رہے ہیں۔ ماحولیاتی تبدیلیوں کا مسئلہ زراعت کے شعبے کو مزید تباہ کر رہا ہے۔ 2022 میں آئے سیلاب سے آدھا ملک ڈوب گیا۔ کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں۔ اشرافیہ مگر مستی میں ہے۔ کسی کو کوئی پرواہ نہیں۔ روم جل رہا ہے، نیرو بانسی بجا رہا ہے۔
پاکستان کی کُل آبادی کی اوسط عمر 21 سال ہے۔40 فیصد آبادی 15 سال یا اس سے کم عمر ہے جبکہ محض 3.6 فیصد آبادی 65 برس یا اس سے زائد ہے۔
ایسے ہی ملک کی تقریباً 40 فیصد آبادی شہروں میں رہتی ہے۔ 1990 میں یہ تناسب 30 فیصد تھا۔ مگر آبادی بھی کم تھی۔ تقسیم کے بعد جو بڑے شہر تھے آج بھی کم و بیش وہی بڑے شہر ہیں۔ کراچی، لاہور، کی آبادی کئی دنیا کے ممالک سے زیادہ ہے۔ پتہ نہیں کونسی بھنگ پی کر سو رہے ہیں سب۔

اب سوال یہ ہے کہ یہ ملک اس طرح سے کیسے چلے گا؟ جہاں لوگوں کو اصل مسائل کا ادراک ہی نہیں اور جو محض سوشل میڈیا یا ٹی وی پر بیٹھے تجزیہ نگاروں یا دانشوروں کی سطحی گفتگو سنتے ہیں یا ایک سیاستدان نے دوسرے سیاستدان کو آج کیا کہا، کس نے کونسی جُگت اچھی ماری، کس نے بھانڈ پن بہتر کیا؟ مطلب چاہتے کیا ہو بھائی آپ سب؟ اس ملک میں اصل مسئلوں پر بات کرتا کون ہے؟
پورا نظام چند لوگوں نے ہائی جیک کیا ہوا ہے۔ اور ہائی جیکر کونسا کوئی انسان ہوتے ہیں؟ وہ تو سب پاگل ہوتے ہیں۔

بندہ کہاں سے شروع کرے کہ مسئلہ کیا اور کہاں کہاں ہے؟ یہاں تو حقائق ہی معلوم نہیں، تاریخ ہی مسخ ہے، بیانیے ہی غلط ہیں، سوچ ہی فرسودہ ہے۔ بھائی ایسا ملک جہاں 40 فیصد 15 سال سے کم عمر ہیں اور جہاں باقی سب 15 سال سے کم عمر دماغ والے ہیں، وہاں کیا ہو سکتا ہے؟
مجھے نہیں معلوم ہمارے 3.6 فیصد بڑے کیا سوچ کر بیٹھے ہیں؟ ہمارے سیاستدان کیا کر رہے ہیں؟ ہمیں کس دشمن سے خطرہ ہے؟
بھارت سے؟ کیا بھارت کے لیے ہم اب کوئی اہمیت رکھتے ہیں؟
ہم نہ کوئی بہتر خارجہ پالیسی رکھ سکے ہیں، نہ بہتر تجارتی معاہدات، نہ بیرونی سرمایہ کاری کے لئے کوئی سازگار ماحول بنا سکے ہیں۔ نہ قانون کی حکمرانی کروا پائے ہیں۔
ہم کرنا کیا چاہتے ہیں؟ مطلب پلان کیا ہے؟ کیونکہ اس طرح سے تو محض چند ہی سال بچے ہیں ملک کے، پھر تو ایکسپائری ڈیٹ آ جانی ہے اگر اسی طرح گدھوں کی طرح جدید دنیا میں رینکتے رہنا ہے کہ ہم کوئی عظیم لوگ ہیں، اور دنیا ہمارے خلاف سازش کر رہی ہے۔ جبکہ دنیا کو کیا ضرورت ایک ڈوبتی کشتی کو ڈبونے میں وسائل جھونکنے میں۔

10/01/2024

‏کیا آپ نے دوکاندار سے راشن خریدنے کے بعد گھر آکر کسی بینر پہ موٹے حروف سے یہ لکھا ہے کہ میں فلاں دوکاندار کا تہہ دل سے مشکور ہوں جس نے مجھے سودا سلف دیا۔

کیا کبھی سبزی منڈی سے سبزی خریدنے کے بعد آپ نے فیس بک پر سبزی والے کی تصویر کے ساتھ یہ پوسٹ کی ہے کہ آج مجھے آلو،بینگن اور ٹماٹر دینے پر میں سبزی فروش کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں؟

کیا کبھی آپ نے بس میں سفر کرکے منزل پر پہنچنے کے بعد آسمان کو پرشگاف نعروں سے لرزا دیا ہے کہ ہم ڈرائیور کے شکر گزار ہیں کہ جس نے ہمیں اپنے علاقے سے منزل تک پہنچایا۔

یقینا آپ کا جواب نہیں میں ہوگا۔
اگر میں پوچھوں کیوں؟

تو آپ کا جواب یہ ہوگا کہ دوکاندار نےکونسا ہمیں فری کا راشن دیا ہے،ہر چیز حتی کہ ماچس تک کے پیسے دیے ہیں ہم نے۔

سبزی والے نے ہم پر احسان نہیں کیا ہے،ہر چیز کی رقم وصول کیا ہے،اب بھلا اس کے نام کے نعرے کیوں لگائیں ہم؟
بس والے کا ہم کیوں جے جے کار کریں،کرایہ دیا ہے ان کو ہم نے۔

بہت خوب ،اور یہ جواب مناسب ہے بلکہ یہی بہترین جواب ہے۔

اب آتے ہیں اصل بات کی طرف

آپ کا ایم پی اے ، ایم این اے ، سینیٹر ، وزیر ، کیا یہ فی سبیل اللہ آپ کے علاقے میں کام کرتے ہیں؟
کیا یہ اپنا پیسہ آپ پر خرچ کررہے ہیں؟
کیا یہ خدمت کے جذبے سے اپنے درجات کی بلندی اور جنتالفردوس میں اعلی مقام کے حصول کے لیے سیاست میں آئے ہیں؟
یہاں بھی آپ کا جواب نہیں میں ہوگا ۔

تو کیا وجہ ہے کہ ایک ٹرانسفارمر کی مرمت پر لمبی چوڑی تعریفی تحریریں ان کے نام کریں،
کیا وجہ ہے کہ ایک ٹیوب ویل لگانے پر ہم ان کو اپنا مسیحا سمجھیں ؟

توکیا وجہ ہے کہ روڈ کی مرمت پر ہم ان کی دست بوسی کیلئے مر رہے ہوتے ہیں۔
کیا وجہ ہے کہ بجلی پانی یا نالیوں کے مسائل حل کرنے پر ہم کی مدح و ثناء میں دنیا جہاں کی ڈکشنریوں سے موٹے موٹے الفاظ ڈھونڈ کر ان کی خدمت میں پیش کررہے ہوتے ہیں؟

کیا انہوں نے ہم پر احسان کیا ہے؟
تنخواہ لیتے ہیں ہمارے ٹیکس کے پیسوں سے۔
اپنا علاج ہمارے پیسوں سے کرواتے ہیں۔
اپنے بچوں کو بڑے بڑے بڑے اداروں میں ہمارے پیسوں سے پڑھاتے ہیں۔

دبئی اور یورپ کے تفریحی سفر ہمارے پیسوں سے کررہے ہوتے ہیں۔
بڑے بڑے محلات،گاڑیاں،گارڈز،سب کچھ ہم سے لوٹ کر حاصل کرتے ہیں۔

ان کا پیٹرول ڈیزل فری،ٹیلیفون کالز فری،ملکی سفر فری،علاج معالجہ فری ۔
فری کا مطلب عوام کو نچوڑ کر ان سے ٹیکسز کے ذریعے سب مزے اڑا رہے ہیں۔

اور عوام کی یہ حالت ہے کہ روڈ بننے پر ناچ رہی ہے،نالی بننے پر ایم پی ایم این کے سامنے تشکرانہ آنکھوں سے شکریہ ادا کررہےہیں۔

سمجھو اپنی اہمیت کو.....

یہ غلامانہ سوچ چمچہ گیری ختم کرو کوئی تعریفی پوسٹ یا تحریر ان کے حق میں لکھنے کی بجاۓ اپنے حقوق ان کے سامنے رکھو اور اپنا حق ان سے اس طرح مانگو جس طرح یہ ووٹ آپ سے مانگتے ہیں...... منقول ‎

Address

Panal Plaza Paredy Gate Bannu City
Bannu

Telephone

+923339730423

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when I M Mobile's posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share