14/02/2026
آج سے دس سال پہلے لگایا گیا یہ درخت
آج الحمدللہ ایک تناور اور سایہ دار شجر بن چکا ہے۔ اس کی جڑوں میں خلوص، شاخوں میں محبت اور پتوں میں ادب کی تازگی ہے۔
رونق نعیم، اظہار السلام جیسے باوقار قلم کاروں کی رحلت کے بعد جو ادبی فضا کچھ عرصہ کے لیے خالی اور سوگوار ہو گئی تھی، اس خلا کو پُر کرنے کے لیے کاروانِ ادب نے مسلسل محنت، استقامت اور سنجیدگی کے ساتھ کام کیا۔ مخلص قلم کاروں کو یکجا کیا گیا، نئی آوازوں کو حوصلہ دیا گیا اور بزرگوں کی ادبی روایت کو زندہ رکھنے کا عزم تازہ کیا گیا۔
یہ ادارہ صرف ایک تنظیم نہیں بلکہ مخلص قلم کاروں کا ایک قافلہ ہے، جو ادب کی شمع کو روشن رکھنے کے لیے ہمہ وقت کوشاں ہے۔
بحیثیت سیکریٹری کاروانِ ادب، میں تمام قلم کاروں، منتظمین اور اراکین کو اس دس سالہ کامیاب سفر پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
دعا ہے کہ یہ شجرِ ادب یونہی پھلتا پھولتا رہے اور اس کا سایہ دیر تک قائم رہے۔